بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بعض ورثاء کو حصہ نہ دینا


سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوئے نو سال بیت چکے ہیں، ان کا ایک مکان ہے  جس میں والدہ رہتی ہیں، ہم پانچ بھائی ہیں اور دو بہنیں ہیں، سب شادی شدہ ہیں، اب ہماری والدہ کہتی  ہیں کہ مکان پر صرف دو بھائیوں کا حق ہے ،  جب کہ والدہ کا سب خیال رکھتے ہیں۔ شرعی حیثیت سے آگاہ کریں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد مرحوم کے مکان میں بیوہ (والدہ)سمیت تمام اولاد شریک ہے، جس طرح متروکہ مکان میں والدہ حق دار ہیں اسی طرح اولاد بھی حق دار ہے، لہذا والدہ کا یہ کہنا کہ "مکان پر صرف دو بیٹوں کا حق ہے"یہ درست نہیں ہے، اور نہ ہی والدہ کے اس کہنے سے باقی اولاد والد مرحوم کے ترکہ سے محروم ہوسکتی ہے۔
شرعی اعتبار سے مذکورہ مکان اور والد مرحوم کا دیگر ترکہ (اگر مرحوم پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے مابقیہ ایک تہائی ترکےسے پورا کرنے کے بعد) 96حصوں میں تقسیم کیاجائے گا جس میں سے 12حصے بیوہ کو ، 14.14حصے ہر ایک بیٹے کو اور 7.7حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔لہذا تمام اولاد اپنا حق وراثت طلب کرنے میں حق بجانب ہے ، اور اگر  والدہ کسی کا حصہ روکتی ہیں یا کسی اور کو دے دیتی ہیں تو اس فعل سے والدہ سخت گناہ گار ہوں گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200139

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے