بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

بطور کفارہ روزوں کے درمیان اگر حیض آجائے


سوال

دو مہینے کفارے کے دوران عورت کو حیض کے دنوں میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کفارے کے روزوں کے درمیان حیض کی وجہ سے ناغہ ہوجائے اور تسلسل برقرار نہ رہے تو یہ شرعاً مضر نہیں، ماہواری ختم ہوتے ہی فوراً روزہ شروع کردے ، اسی طرح  ساٹھ  روزے  پے در پے  پورے  کرے، اگر ماہ واری ختم ہونے کے بعد ایک دن کا بھی ناغہ کرے گی تو پھر نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1 / 204):
"الثَّانِي وَالْعِشْرُونَ: لَايَقْطَعُ التَّتَابُعَ في صَوْمِ كَفَّارَةِ الْقَتْلِ وَالْفِطْرِ بِخِلَافِ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ وَنَحْوِهَا حَيْثُ تُقْطَعُ على ما حَقَّقَهُ الْإِمَامُ الدَّبُوسِيُّ في التَّقْوِيمِ". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200534

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے