بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بالوں کو جلانا


سوال

شہروں میں جگہ نا ہونے کی وجہ سے سرکےبال مٹی میں دبانےکی بجائے اگرانہیں جلاکران کی راکھ نہرمیں بہادی جائے؛ کیاایساکرناٹھیک ہے؟ کیاسرکےبال بیچناجائزہے؟

جواب

انسانی ناخن اور بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں، انہیں دفن کرنا چاہیے، یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیے جائیں جہاں گندگی اور ناپاکی نہیں ہو.

ایک مٹی کا چھوٹا گملہ رکھ لیں، اس میں ڈالتے رہیں، یا انہیں کہیں جمع کرتے رہیں، پھر جیسے نہر پر جاکر راکھ ڈالنا ممکن ہے، اسی طرح کبھی شہر کے ارد گرد مضافات میں جانا ہو یا سفر ہو تو ایسی جگہ ڈال دیں جہاں مٹی ہو اور ان اَجزاءِ انسانی کی توہین نہ ہو۔

 انسانی بالوں کا بیچنا حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں