بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

دادا، چچا کا دیت میں حق


سوال

مقتول کے اولیاء میں صرف ماں اور چھوٹی بہن موجود ہے تو کیا دادا،  چچا وغیرہ کو بھی دیت کی رقم ملے گی؟

جواب

اگر مقتول کے دادا حیات ہیں تو وہ بھی مقتول کے اولیاء میں سے شمار ہوں گے، اور دیت میں ان کا بھی حق ہوگا، کیوں کہ دیت کا استحقاق وراثت کی بنیاد پر ملتا ہے،  اس لیے کہ بیٹے اور باپ کی عدمِ موجودگی میں دادا کا میراث میں حق ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (21/ 93):
"أما دية النفس فهي موروثة كسائر أموال الميت حسب الفرائض المقدرة شرعًا في تركته فيأخذ منها كل من الورثة الرجال والنساء نصيبه المقدر له باستثناء القاتل، وذلك لقوله تعالى: {ودية مسلمة إلى أهله} (1) ولما رواه عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله قال: العقل ميراث بين ورثة القتيل على فرائضهم (2) وذكر ابن قدامة روايةً أخرى عن علي رضي الله عنه قال: لايرث الدية إلا عصبات المقتول الذين يعقلون عنه، وكان عمر رضي الله عنه يذهب إلى هذا ثم رجع عنه لما بلغه عن النبي صلى الله عليه وسلم توريث المرأة من دية زوجها (1) . فقد ورد في حديث الضحاك الكلابي قال: كتب إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أورث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها أشيم (2). وإذا لم يوجد للمقتول وارث تؤدى ديته لبيت المال لقوله صلى الله عليه وسلم: أنا وارث من لا وارث له، أعقل عنه وأرثه (3)". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200718

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے