بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک ہی بڑے جانور میں دم شکر، قربانی کا حصہ جمع کرنا


سوال

کیا ایک ہی بڑے جانور میں دمِ شکر اور قربانی کا حصہ جمع کرسکتے ہیں یا الگ الگ کرنے ہوں گے؟  نیز اسی طرح ایک جانور میں دمِ شکر, قربانی, اور دمِ جنایت, تینوں کو جمع کیا جاسکتا ہے؟ 

جواب

ایک بڑے جانور میں مذکورہ قربانیوں میں سے ہر ایک کی طرف سے الگ الگ حصہ کرنے سے تمام  قربانیاں ادا ہو جائیگی۔  لیکن دم جنایت کو ملانے کی صورت میں  پورے جانور کو کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 326):
"قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كان أحدهم مريداً للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه، ونية أصحابه باطلة وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضاً؛ لأن نصيبه شائع، كما في الخانية، وظاهره عدم جواز الأكل منها، تأمل".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 326):
"وشمل ما لو كانت القربة واجبةً على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر، لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد ولم يذكر الوليمة. وينبغي أن تجوز؛ لأنها تقام شكراً لله تعالى على نعمة النكاح ووردت بها السنة، فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. وروي عن أبي حنيفة أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وأنه قال: لو كان من نوع واحد كان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف، بدائع". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے