بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک سال کے روزے کی نذر ماننے کی صورت میں فدیہ دینے کا حکم


سوال

اگر کسی  نے ایک سال روزہ رکھنے کی نذر مانی، اب روزہ رکھنےکے بجائے کفارہ یا فدیہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اب کفارے کے طور پر کوئی اورعمل ہو تو بتائیں مہربانی ہوگی!

جواب

اگر کسی نے مطلقاً ایک سال روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو تو اس پر ایک سال کے روزے رکھنا لازم ہوگا اور جب تک روزے پر قدرت ہو اس وقت تک روزے کے بدلہ فدیہ دینے کی گنجائش نہیں ہوگی، البتہ اگر دائمی بیماری یا انتہائی بڑھاپے کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت بالکل ختم ہوجائے اور مستقبل میں دوبارہ روزے پر قادر ہونے کی امید نہ رہے تو اس صورت میں ہر روزے کے بدلہ ایک فدیہ (صدقہ فطر کی مقدار) دینا لازم ہوگا، اور اگر زندگی میں کسی وجہ سے فدیہ نہ دے سکے تو وصیت کر کے جائے کہ میرے بعد میرے ترکہ میں سے مجھ پر واجب روزوں کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

الفتاوى الهندية (2/ 65):

"من نذر نذراً مطلقاً فعليه الوفاء به، كذا في الهداية.

ولو جعل عليه حجةً أو عمرةً أو صوماً أو صلاةً أو صدقةً أو ما أشبه ذلك مما هو طاعة إن فعل كذا ففعل لزمه ذلك الذي جعله على نفسه ولم تجب كفارة اليمين فيه في ظاهر الرواية عندنا.

وقد روي عن محمد - رحمه الله تعالى - قال: إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله: إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لايخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط .

ويلزمه عين ما سمى، كذا في فتاوى قاضي خان".

الفتاوى الهندية (1/ 210):

"ولو قال: لله علي صوم سنة، ولم يعين يصوم سنة بالأهلة ويقضي خمسة وثلاثين يوماً ثلاثين يوماً لرمضان وخمسة أيام قضاء عن يوم الفطر والنحر، وأيام التشريق".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 437):

"(ولو قال مريض: لله علي أن أصوم شهرا فمات قبل أن يصح لا شيء عليه، وإن صح) ولو (يوما) ولم يصمه (لزمه الوصية بجميعه) على الصحيح، كالصحيح إذا نذر ذلك ومات قبل تمام الشهر لزمه الوصية بالجميع بالإجماع كما في الخبازية، بخلاف القضاء فإن سببه إدراك العدة".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200948

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے