بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک دوسرے سے ٹماٹر اور پیاز وغیرہ قرض لینے کا حکم


سوال

آج کل گھروں میں خواتین ایک دوسرے سے ٹماٹر اور پیاز سبزی وغیرہ بطورِ قرض لیتی ہیں، شرعاً یہ کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جن اشیاء کی لین دین ناپ کر یا تول کر ہوتی ہے، جن کو اشیاءِ ربویہ بھی کہا جاتا ہے ان کی بیع ( خرید و فروخت ) میں تو یہ بات لازم ہے کہ ہاتھ در ہاتھ ہو، ادھار نہ ہو، ورنہ سود لازم آئے گا اور اگر دونوں طرف سے جنس ایک ہو تو برابری ہونا بھی لازم ہے، البتہ قرض کے طور پر جو لین دین ہوتا ہے اس میں  ہاتھ در ہاتھ ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں ادھار جائز ہے۔

لہذا اگرایک گھر والے ضرورت پڑنے پر  دوسرے گھر والوں سے  ایسی کوئی چیز  بطورِ قرض لیتے ہوں اور بعد میں اتنی ہی مقدار لوٹا دیتے ہوں تو چوں کہ یہ قرض کا معاملہ ہے؛ اس لیے اس میں ادھار  جائز ہے، یہ خریدوفروخت کا معاملہ نہیں ہے،  چنانچہ جس طرح رقم بطورِ  قرض لے کر کچھ عرصے بعد واپس کرنا درست ہے، اسی طرح ان اشیاء کو بطورِ قرض لے کر کچھ مدت بعد لوٹانا درست ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ اشیاء بسااوقات اتنی کم ہوتی ہیں کہ کیل اوروزن کے رائج پیمانوں کے تحت نہیں آتیں، اس وجہ سے بھی پڑوس میں ان کا لین دین جائز ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون، والعددي المتقارب كالبيض، ولايجوز فيما ليس من ذوات الأمثال، كالحيوان والثياب، والعدديات المتفاوتة". (کتاب البیوع، الباب التاسع عشر في القرض و الاستقراض، ج: ۳ ؍ ۲۰۱ ، ۲۰۲، ط: رشیدیة ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں