بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1441ھ- 20 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

انویسٹمنٹ کرنے پر لگائے ہوئے پیسوں کا چالیس فیصد منافع دینے والی کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم


سوال

ایک کمپنی ہے، جس کا نام fxtrade-invest.club  اس میں یہ طریقہ کار ہے کہ کمپنی کہتی ہے کہ آپ انویسٹمنٹ کرو، آپ کی انویسٹمنٹ پر ہم ٹریڈنگ کریں گے، اس میں انویسٹمنٹ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اس میں 15 ڈالرز سے لے کر100 ڈالرز تک جتنا بھی آپ انویسٹمنٹ کرے گا  24 گھنٹے بعد آپ کو اپنے پیسے کے ساتھ 40 پرسینٹ منافع بھی دیتی ہے، اس میں مختلف پلان ہیں، اور مختلف پرسینٹیج ہے۔ کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ نہیں؟ پر سینٹیج فکس دیتا ہے،  24 گھنٹے بعد اپنے پیسے بھی واپس؟

جواب

اگر مذکورہ کمپنی آپ کے لگائے ہوئے پیسوں کا چالیس فیصد (مثلاً) منافع دینے کا معاہدہ کرتی ہے تو یہ سود ہے، اس لیے مذکورہ کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200282

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے