بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ


سوال

ایزی پیسہ اکاؤنٹ  کے بارے میں جامعہ کا فتوی کیا ہے؟

جواب

''ایزی پیسہ اکاؤنٹ  '' ایک ایسی سہولت ہے جس میں آپ اپنی جمع کردہ رقوم  سے کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً: بلوں کی ادائیگی، یا رقوم کا تبادلہ، موبائل وغیرہ میں استعمال۔

اس کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم قرض ہے ، جس   سے آپ اپنے موبائل وغیرہ میں وصول کرسکتے ہیں۔اور  چوں کہ قرض دے کر اس سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے ؛ اس لیے اس قرض کے بدلے کمپنی کی طرف سے دیے جانے والے فری منٹس وصول کرنا اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اگر کوئی ''ایزی پیسہ اکاؤنٹ'' کھلواچکاہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ صرف اپنی جمع کردہ رقم واپس لے سکتاہے، یا صرف جمع کردہ رقم کے برابر استفادہ کرسکتاہے، اس رقم پر ملنے والے اضافی فوائد حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہوں گے۔

اگر کوئی کمپنی اس طرح کا '' ایزی پیسہ اکاؤنٹ'' بنائے جس میں صرف اصل جمع کردہ رقم کے برابر ہی استفادہ کیا جاسکتاہو، اضافی کوئی نفع نہ دیا جاتاہو تو  ایسے اکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200951

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں