بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ منافع کا حکم


سوال

 ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں جو  ’’کیش بیک‘‘  ملتا ہے، اس میں 1000 روپے رکھنے کی شرط نہیں، البتہ یہ شرط ہے  کہ آپ ٹرانزیکشن 5 روپے سے زیادہ کریں گے، اور یہ ٹرانزیکشن mobile load کی  صورت میں ہوگی۔

1۔تو کیا یہ صورت "سود" میں داخل ہے یا نہیں?

2) اور اگر اس CASH BACK کو نقدی کی  صورت میں نکالے بغیر موبائل ہی میں استعمال کریں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ 2۔ ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ ‘‘ ایک ایسی سہولت ہے جس میں آپ اپنی جمع کردہ رقوم  سے کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً: بلوں کی ادائیگی، یا رقوم کا تبادلہ، اپنے یا کسی اور کے  موبائل میں بیلنس لوڈ کرنا، پیٹرول ڈلوا کر اس کی ادائیگی کرنا وغیرہ۔

تحقیق کرنے پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کی پشت پر ایک بینک ہوتا ہے، "telenor micro-financing bank "،  یہ بھی ایک قسم کا بینک ہی ہے کہ جس میں عام طور پر چھوٹے سرمایہ داروں کی رقوم سود پر رکھی جاتی ہیں اور اس میں سے چھوٹے کاروباروں کے لیے سود پر قرض بھی دیا جاتا ہے۔

مذکورہ اکاؤنٹ ہولڈر کو کمپنی کی جانب سے دی جانے والی سہولیات کے استعمال پر مختلف قسم کے منافع دیے جاتے ہیں،  جیسے فری منٹس،  ایس ایم ایم،  انٹرنیٹ ایم بیز،  پیٹرول کی ادائیگی پر ڈسکاؤنٹ، اور کیش بیک وغیرہ، تاہم ان منافع کے حصول کے لیے کمپنی کی جانب سے کم از کم 1000 روپے صارف کی جانب سے ہمہ وقت اکاؤنٹ میں جمع رہنا ضروری ہوتا ہے،  اور جو صارف 1000 روپے جمع نہیں کراتا وہ کسی بھی قسم کے منافع کا حق دار قرار نہیں پاتا ہے۔

اس کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم  کمپنی پر قرض ہوتی ہے ،  جس کی وجہ سے  صارف جب چاہے کمپنی سے اپنی جمع شدہ رقم واپس لے سکتا ہے، اور کمپنی واپس کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

ہر ایسا قرض جس پر مشروط نفع قرض خواہ کو حاصل ہوتا ہو، از روئے حدیث حرام ہے، اور ایسا نفع سود کے زمرے میں داخل ہے، پس صورتِ مسئولہ میں مروجہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر ملنے والے منافع درحقیقت قرض پر مشروط نفع کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں داخل ہیں، لہذا مذکورہ اکاؤنٹ سے منافع حاصل کرنا جائز نہیں۔

ملحوظ رہے کہ سائل نے جو معلومات درج کی ہیں، وہ کمپنی سے حاصل شدہ معلومات کے بر خلاف ہیں، منافع کے حق دار ہونے کے لیے کمپنی کی جانب سے 1000 روپے صارف کی جانب سے جمع کرانا شرط ہے۔

 ’’فتاوی شامی‘‘ میں ہے:

"وفي الأشباه: كلّ قرض جرّ نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن". (5/166، مطلب کل قرض جر نفعًا، ط: سعید)

"اعلاء السنن"میں ہے:

 "قال ابن المنذر: أجمعوا علی أنّ المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هدیةً فأسلف علی ذلك، إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا". (14/513، باب کل قرض جر  منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارة القرآن) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے