بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی شخص چوزہ پالے اور پھر وہ مرجائے تو کیا صدقہ دینا ہوگا؟


سوال

اگر کوئی شخص چوزہ پالے اور پھر وہ مرجائے تو کیا صدقہ دینا ہوگا؟

جواب

جانور پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کے کھانے پینے اور صفائی ستھرائی کا اہتمام کیا جائے۔ حدیثِ مبارک میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو جانور کو قید کرکے اسے کھانا پینا بھی نہیں دیتا اور نہ اسے آزاد کرتا ہے کہ وہ خود اپنا کھانا پینا تلاش کریں۔لہذا اگر چوزے کے کھانے پینے کا خیال رکھا گیا اورپھر بھی وہ مرگیا توشرعاً  کوئی صدقہ نہیں، البتہ اگر پالنے والے کی غفلت سے مرا ہے تو وہ گناہ گار ہے۔ اس صورت میں اللہ کے حضور قصور کا اعتراف اور استغفار ضروری ہوگا، صدقہ ضروری نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے