بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اگر میں نے تم سے جماع کیا تو تم کو طلاق ہو کہنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے جھگڑے کے دوران بیوی سے کہا کہ اگر میں نے تم سے جماع کیا تو تم کو طلاق ہو، اب اگر جماع کرے گا تو کیا ایک طلاق واقع ہو گی؟

جواب

شوہر کااپنی بیوی سے یہ کہنا  کہ  اگرمیں نے تم سے جماع کیا تو تم کو طلاق  ہے، یہ طلاقِ معلق ہے، لہذا شوہر جب بھی اپنی بیوی سے جماع کرے گا تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی اور ایک طلاقِ رجعی کے واقع ہونے کے بعد  عدت میں بیوی سے رجوع کرنے کا حق ہوگا، عدت میں اگر شوہر رجوع کرلیتا ہے تو اس سے بیوی،  بیوی رہے گی اورتجدیدِ  نکاح کی بھی ضرورت نہ ہوگی، نیز آئندہ جما ع کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ اور اگر اس سے قبل شوہر نے کوئی طلاق نہ دی ہوتو  آئندہ کے  لیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق ہوگا۔

اور اگر شوہر مذکورہ گفتگو کے بعد اپنی بیوی سے جماع نہ کرے اور اسی دوران چار مہینے گزر جائیں تو اس صورت میں ’’ایلا‘‘ ہونے سے مذکورہ شخص کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اورنکاح ٹوٹ جائے گا،  عدت گزارنے کے بعد بیوی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اور اگر طلاقِ بائن واقع ہونے کے بعد عدت کے اندر یا عدت کے بعد شوہر گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرر کرکے دوبارہ نکاح کرلے تو اب آئندہ  شوہر کے پاس دو طلاق کا حق ہوگا جن میں سے ایک طلاقِ رجعی  بیوی سے ہم بستری کرنے پر  واقع ہوجائے  گی اور پھر عدت کے اندرشوہر کو  رجوع کا حق ہوگا، اور شوہر رجوع کرلیتا ہے تو نکاح باقی رہے گا اور آئندہ فقط ایک طلاق کا حق باقی رہے گا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126):
"وأما التعليق بشرط فنوعان: تعليق في الملك، وتعليق بالملك.
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي. أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلاناً أو إن قدم فلان ونحو ذلك، وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلايقع الطلاق، ولكن تنحل اليمين لا إلى جزاء حتى إنه لو قال لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فدخلت الدار وهي في ملكه طلقت.
وكذا إذا أبانها قبل دخول الدار فدخلت الدار وهي في العدة عندنا؛ لأن المبانة يلحقها صريح الطلاق عندنا، وإن أبانها قبل دخول الدار وانقضت عدتها ثم دخلت الدار لايقع الطلاق لعدم الملك والعدة، ولكن تبطل اليمين حتى لو تزوجها ثانياً ودخلت الدار لايقع شيء؛ لأن المعلق بالشرط يصير عند الشرط كالمنجز، والتنجيز في غير الملك والعدة باطل".فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں