بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

’’ اگر آپ میرے بغیر ماں کے گھر رہی یا وہاں نہانا دھونا کیا تو میں اس کو طلاق سمجھوں گا‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ بولے تھے کہ اگر آپ میرے بغیر ماں کے گھر رہی یا وہاں نہانا دھونا کیا تو میں اس کو طلاق سمجھوں گا۔ کیا میں ان الفاظ پر اللہ سے معافی مانگ کر اسے وہاں یہ کام کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔طلاق سے بچنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی آپ کے بغیر اپنی ماں کے گھر رہے یا وہاں نہانا دھونا کرے تب بھی مذکورہ الفاظ سے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200506

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے