بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

اپنے نام سے سودی قرضہ لینے کی اجازت دینے اور کاغذات پر دستخط کرنے کا حکم


سوال

میرے کزن نے میرے نام کا زرعی ترقیاتی بنک سے قرض لیا ہے، اس کے تمام کاغذات اور جو ضرورت کی کام وہ کزن نے خود ادا کیے، میں نے صرف ان کاغذات پر دستخط کیے، قرضہ وہ لے گیا،  ادا بھی وہی کرے گا،  قرضہ پچاس ہزار ملا ہے جو چھ ماہ بعد ستاون ہزار ادا کرے گا۔ اب یہ جو سود ہے، کیا اس کا  گناہ مجھے بھی ہو گا؟اور اللہ جانتا ہے کہ کتنا میں اس کو ٹال مٹول کرتا رہا،  لیکن کچھ مجبوری تھی، میں انکار بھی نہیں کر سکتا تھا۔

جواب

سودی قرض کا لین دین قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز و حرام ہے، اور کسی حرام و ناجائز کام میں کسی کی معاونت کرنا بھی ناجائز اور گناہ کا باعث ہے، آپ کے لیے اپنے کزن کو اپنے نام سے سودی قرض لینے کی اجازت دینا اور کاغذات پر دستخط کرنا جائز نہیں تھا،  ایسا کرنے کی وجہ سے آپ بھی اس سودی قرض لینے کے گناہ میں شریک ہوگئے ہیں، آپ کو  چاہیے کہ خود بھی توبہ و استغفار کریں اور اپنے کزن کو بھی سودی قرضے کی حرمت سے آگاہ کر کے اس گناہ سے توبہ کر کے جلد سے جلد اس سودی قرضہ سے جان چھڑانے کے لیے آمادہ کریں، اور آئندہ کبھی بھی کسی سودی معاملے میں کسی ساتھ  کسی بھی قسم کا کوئی تعاون نہ کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201108

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے