بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کا حکم


سوال

بعض حضرات کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس کا حدیث کی روشنی جواب دیں!

جواب

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، یہی جمہور صحابہ اور جمہور  فقہاء  بشمول ائمہ ثلاثہ امام ابو حنیفہ امام مالک  امام شافعی  رحمہم اللہ کا مسلک ہے، اور جس حدیث میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد لغوی وضو ہے، یعنی منہ ہاتھ دھونا؛ کیوں کہ اونٹ کے گوشت میں چکناہٹ اور ایک قسم کی بو ہوتی ہے، جب کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو  نہ فرمانے کاتھا، اور  پکی ہوئی چیز میں اونٹ کا گوشت بھی داخل ہے۔ لہذا اس سے معلوم ہوا اونٹ کا گوشت کھاکر وضو کرنے والی روایت سے یا لغوی معنی ( ہاتھ اور منہ دھولینا) مراد ہے، یا یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث  سے منسوخ ہے،  کیوں کہ اس میں آپ ﷺ کا آخری عمل بتایا گیا ہے۔

 ’’معارف السنن شرح سنن الترمذی‘‘  میں ہے:

"وقال جمهور الفقهاء مالك و أبوحنيفة و الشافعي و غيرهم: لاينقض الوضوء بحال، و المراد بالوضوء غسل اليد و الفم عندهم، و ذلك؛ لأن للحم الإبل دسماً و زهومةً و زفراً بخلاف لحم الغنم، و من أجل ذلك جاء ت الشريعة بالفرق بينهما". ( باب الوضوء من لحم الابل، ١/ ٣٥٣، ط: مجلس الدعوة والتحقيق الإسلامي)

بذل المجهود في حل سنن أبي داود (2 / 67):
"وأما القائلون بعدم النقض فاحتجوا بحديث جابر - رضي الله عنه - الذي أخرجه الأربعة (1) أنه قال: "كان آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما مست النار" أي تحقق الأمران: الوضوء والترك، وكان الترك آخر الأمرين، فارتفع الوضوء أي وجوبه.
ولهذا قال الترمذي: وكأن هذا الحديث ناسخ للحديث الأول حديث الوضوء مما مسّت النار، ولما كانت لحوم الإبل داخلة فيما مسّت النار، وكانت فردًا من أفراده، ونُسِخ وجوبُ الوضوء عنه بجميع أفراده، استلزم نسخ الوجوب عن هذا الفرد أيضًا.
فما قال النووي: لكن هذا الحديث عام، وحديث الوضوء من لحوم الإبل خاص، مندفع, لأنا لانسلم كونه منسوخًا بحيث إنه خاص، بل لأنه فرد من أفراد العام الذي نسخ، فإذا نسخ العام وهو وجوب الوضوء مما مست النار نسخ جميع أفرادها، ومن أفرادها أكل لحوم الإبِل التي مسته النار، ولو سُلِّمَ كونها خاصًّا، فالعام والخاص عندنا قطعيان متساويان، لا يقدم أحدهما على الآخر، فعلى هذا العام ينسخ الخاص أيضًا". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے