بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ کے ذریعہ سے فری سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کرنا


سوال

کمپیوٹر  کے مختلف سافٹ ویئر ہیں جو کہ بہت زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ اور ہر کوئی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، مثال کے طور پر کورل ڈرا جس میں کمپوزنگ ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ پران سافٹ ویئر ز  کی فری کاپی مل جاتی ہے جو کہ ہیکرز نے تیار کی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح سافٹ ویئر استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟ خاص طور پر اس وقت جب کہ سافٹ ویئر خریدنے کی استطاعت نہ ہو۔

جواب

مذکورہ کاپی کی خریداری اگر قانوناً جرم ہو تو اس سے پرہیزکرنا چاہیے، تاہم اگر کسی کے پاس ایسا سوفٹ ویئر ہو تو اس کے استعمال کی گنجائش ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201774

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے