بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

انشورنس والے شخص کے ساتھ کاروبار کرنا


سوال

کسی بندے یا ادارے کے ساتھ  نفع اور نقصان کی بنیاد پر کاروبار میں شراکت کرنا (خواہ وہ انشورنس کا ہو)  کیا اس میں پیسے دینا جائز ہے؟

جواب

اگر آپ کے سوال  کا منشا یہ ہے کہ  انشورنس کی کمپنی میں شراکت کرنا چاہتے ہیں، تو یہ جائز نہیں،خواہ یہ شراکت نفع و نقصان کی بنیاد پر  ہی ہو، اس لیے کہ   کاروبار میں شراکت کے لیے کاروبار  کا حلال ہونا ضروری ہے۔

اور اگر منشا یہ ہے کہ وہ شخص اپنی یا  اپنی گاڑی وغیرہ کی انشورنس کرواتا ہے تواگر چہ اس کا یہ ذاتی کام ناجائز ہے، لیکن اگر یہ انشورنس کاروبارسے متعلق نہ ہو تو   ایسے شخص کے ساتھ  صحیح شرائط کے مطابق کاروبار کرنا جائز ہے ۔

ردالمحتار (۵:۲۳۵):

’’قوله: اکتسب حراماً، توضیح المسألة ما في التتارخانیة حیث قال: رجل اکتسب مالاً من حرام ثم ،اشتریٰ فهذا علی خمسة أوجه: إما أن دفع تلک الدراهم إلی البائع أولاً ثم اشتری منه بها، أو اشتری قبل الدفع بها ودفعها، أو اشتریٰ قبل الدفع بها ودفع غیرها، أو اشتری مطلقاً ودفع تلک الدراهم، أو اشتری بدراهم آخر ودفع تلک الدراهم، وقال الکرخي في الوجه الأول والثاني لا یطیب، وفي الثلاث الأخیرة یطیب. وقال أبوبکر: لا یطیب في الکل، لکن الفتویٰ الآن علی قول الکرخي؛ دفعاً للحرج علی الناس.‘‘ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں