بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

امام کا سورہ یس میں فطرنی کو فطرنی (تشدید کے ساتھ) پڑھنے کاحکم


سوال

مسجد کے امام صاحب سورہ یٰس ۲۳ پارہ جب سٹارٹ ہوتا ہے  {وَمَا لِيَ لَا أَعْبُد الَّذِي فَطَرَنِي}جو لفظ{فَطَرَنیِ} ہے، اس کو پڑھتے ہیں۔ {فطّرَنیِ}  یعنی ط پہ شد ڈال کے پڑھتے ہیں،  کیا یہ لفظ درست ہے؟  {فَطَرَنیِ} اور  {فطّرَنیِ}  کے  معنی کیا ایک ہی ہیں؟  اور ان دونوں الفاظ کا مادہ کیا ہے?

جواب

’’فطر‘‘ (طاء خفیفہ کے ساتھ)کا  معنی ہے:  پیدا کرنا ،ایجاد کرنا ۔ ’’فَطَّرَ‘‘(طاء کی تشدید کے ساتھ ) مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے،  ان معانی میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ ’’فَطَرَ‘‘(خفیفہ)کے مبالغہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، لہذا اگرواقعۃً  امام صاحب سورہ یس میں {فَطَرَنیِ} میں طاءِ  خفیفہ کے بجائے طاءِ مشددہ پڑھتے ہیں تو   اس کی اصلاح تو ضروری ہے، تاہم ایسا پڑھنے کے باوجود نماز ہوجاتی ہے، اس سے نماز کی صحت پر فرق نہیں پڑتا، لہذا اسے مسجد میں نزاع کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

معجم المعانی الجامع مٰیں ہے:

  1. "فَطَرَ: (فعل)
    • فطَرَ يَفطُر ، فَطْرًا ، فهو فاطِر ، والمفعول مَفْطور
    • فطَر الشَّيءَ : اخترعه ، أوجده ، أنشأه ، ابتدأه
    • فَطَرَ اللَّهُ الْعَالَمَ : خَلَقَهُ
    • فَطَرَ نَابُ البَعِيرِ : شَقَّ اللَّحْمَ وَطَلَعَ
    • فَطَرَ النَّبَاتُ : شَقَّ الأَرْضَ وَنَبَتَ مِنْهَا
    • فَطَرَ الْخَشَبَ : شَقَّهُ
    • فطَر الحزنُ قلبَه : مزّقه ، شقّه ، أثّر فيه تأثيرًا عميقًا
    • فَطَرَ الْعَجِينَ : اِخْتَبَزَهُ دُونَ أَنْ يُخَمِّرَهُ
    • فَطَرَ الشَّاةَ : حَلَبَهَا بِالسَّبَّابَةِ وَالإِبْهَامِ
    • فَطَرَ الأجيرُ الطِّينَ : طيّنَ به قبل أَن يختَمِرَ
  2. فَطْر: (اسم)
    • فَطْر : مصدر فَطَرَ
  3. فَطَّرَ: (فعل)
    • فطَّرَ يفطِّر ، تفطيرًا ، فهو مُفَطِّر ، والمفعول مُفَطَّر
    • فَطَّرَ الضُّيُوفَ : قَدَّمَ لَهُمْ طَعَامَ الْفُطُورِ
    • فَطَّرَ الصَّائِمَ : جَعَلَهُ يُفْطِرُ ، بِمَعْنَى قَطَعَ صِيَامَهُ
    • فَطَّرَ الصَّائِمَ فِي بَيْتِهِ : قَدَّمَ لَهُ فُطُوراً فِي رَمَضَانَ
      • فَطَّرَ الشيءَ : مبالغة فَطَرَ"      فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں