بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

الکحل سے بنے میک اَپ سامان کا استعمال اور اس کا بیچنا


سوال

1۔ کیاممنوع قسم کی ’’الکحل‘‘  پر مشتمل میک اَپ کا سامان استعمال کرنا جائز ہے؟

2۔ کیا ’’الکحل‘‘  یا جانوروں کے اعضاء سے بنائے گئے  اجزاء پر مشتمل میک اَپ کا سامان غیر مسلم پر بیچنا جائز ہے؟

جواب

1۔ ممنوع ’’الکحل‘‘  پر مشتمل میک اَپ کا سامان استعمال کرنا جائز نہیں، ممنوع ’’الکحل‘‘  سے انگور، کھجور یا کشمش سے بنائی گئی ’’الکحول‘‘ مراد ہے۔

2۔  اگر میک اَپ کا سامان حرام اجزاء پر مشتمل ہو تو مسلمان کے لیے اسے کسی غیر مسلم کے ہاتھوں بیچنا جائز نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 391):

" (و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمراً)؛ لأن المعصية لاتقوم بعينه، بل بعد تغيره وقيل: يكره لإعانته على المعصية، ونقل المصنف عن السراج والمشكلات: أن قوله: ممن أي من كافر، أما بيعه من المسلم فيكره، ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما. زاد القهستاني معزياً للخانية: أنه يكره بالاتفاق".

و في الرد:

"(أما بيعه من المسلم فيكره)؛ لأنه إعانة على المعصية، قهستاني عن الجواهر.

أقول: وهو خلاف إطلاق المتون وتعليل الشروح بما مر وقال ط: وفيه أنه لايظهر إلا على قول من قال: إن الكفار غير مخاطبين بفروع الشريعة، والأصح خطابهم، وعليه فيكون إعانة على المعصية، فلا فرق بين المسلم والكافر في بيع العصير منهما، فتدبر اهـ ولايرد هذا على الإطلاق والتعليل المار". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201697

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے