بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

افیون کی کاشت سے حاصل شدہ آمدنی کا حکم


سوال

بہت سے لوگ افیون کے کھیتوں میں کام کرنے جاتےہیں،انہیں بدلہ میں افیون کاکچھ حصہ ملتاہے،جسے وہ فروخت کرتے ہیں ،یاانہیں محنت کے بدلے پیسے ملتے ہیں،دریافت طلب امریہ ہے کہ کیاافیون کی کاشت کرنے یاافیون کی کھیتی میں کام کرنے سے حاصل شدہ آمدنی شریعت مقدسہ کی روسے جائزہے؟

جواب

افیون  کااستعمال بطور نشے کے  حرام ہے ،لیکن چونکہ اس کادواوغیرہ میں خارجی استعمال بھی ہوتاہے اس لیے  ان مقاصد میں اس کی تجارت کوعلماء نے جائزقراردیاہے،لہذا افیون کی کاشت کے لیے کھیت میں کام کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز ہے۔

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: ''افیون ،چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اوران کادوامیں خارجی استعمال جائزہے،نشہ کی غرض سے ان کواستعمال کرناناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت توشراب اورخنزیرکی حرام ہے کہ ان کااستعمال خارجی بھی ناجائزہے۔''(کفایت المفتی 9/129،ط:دارالاشاعت)

مفتی محمودحسن گنگوہی رحمہ اللہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

....افیون کی آمدنی سے جوزمین خریدکراس میں کاشت کرتے ہیں اس کاشت کی آمدنی کوحرام نہیں کہاجائے گا،ایسی آمدنی سے چندہ لینابھی درست ہے اوران کے یہاں کھاناپینابھی درست ہے۔(فتاویٰ محمودیہ،عنوان :افیون کی تجارت اوراس کی آمدنی کاحکم،16/123،دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143706200034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں