بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

اصولِ فقہ کے متعلق چند سوالات


سوال

گزشتہ دنوں اصولِ فقہ کی ایک کتاب کا مطالعہ کیا، چند باتیں سمجھنے سے قاصر رہا ہوں، آپ کی خدمت میں ارسال کررہا ہوں :

1۔حمام میں اجارہ استحسان کی کس قسم میں داخل ہے؟

2۔ انسانی احترام کا تقاضا ہے کہ اعضاء کی پیوندکاری جائز نہ ہو، مگر فی زمانہ بہت سے علماء اس کے قائل ہیں، یہ استحسان کی کس قسم میں داخل ہے؟

3۔وارکعو مع الراکعین، اس میں نص کیا ہے اور ظاہر کیا ہے؟

4۔ مشکل اور مجمل کی قرآنِ کریم سے مثالیں کیا ہیں؟ یا اس حوالے سے کوئی کتاب یا تفسیر جس میں ان چیزوں کی وضاحت کی ہو؟

5۔ وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث وربٰع، اس میں عبارۃ النص کیا ہے اور اشارۃ النص کیا ہے؟

جواب

1۔اگر حمام میں اجارہ کے جواز کی علت یہ ہو کہ نبی کریم ﷺ  از خود مقامِ جحفہ میں حمام میں داخل ہوئے تھے تو یہ "استحسان بالسنہ"  کہلائے گا۔

اگر جواز کی علت یہ ہو کہ لوگ حمام میں داخل ہو کر اجرت دیتے رہتے ہیں تو یہ "استحسان بالاجماع"  ہے۔

اگر جواز کی علت یہ ہو کہ حمام میں جانے کی لوگوں کو ضرورت رہتی ہے، اس ضرورت کی بنا پر اجارہ حمام جائز قرار دینا "استحسان بالضرورۃ"  ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ حمام میں اجارہ کے جواز کی وجہ عرف اور عادت ہے کہ لوگ ہر شہر اور مقام میں حمام کی اجرت دیتے ہیں  تو اسے "استحسان بالعرف و العادۃ"  کہا جائے گا۔

2۔ ہندوستان اور پاکستان کے اکثر  علماء انسانی اعضاء کی پیوندکاری کو نا جائز کہتے ہیں، قرآن و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن  مجوزین کے ہاں انسانی زندگی کو بچانے  کی خاطر اس کی اجازت ہے، یوں یہ ان کے ہاں "استحسان بالضرورۃ"  ہے۔ 

واضح رہے کہ ہماری دار الافتاء کی رائے اعضاء کی پیوند کاری کے عدمِ جواز کی ہے۔

3۔ "وارکعوا مع الراکعین"  یہ ظاہر ہے رکوع کے بارے میں اور جماعت کے بارے میں نص ہے ۔

4۔ مشکل اور مجمل کی قرآنِ کریم سے مثالوں کی وضاحت کے لیے مولانا محمد محی الدین رحمہ اللہ کی کتاب "آسان اصول فقہ" کا مطالعہ کریں۔

5۔ وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث وربع،میں عبارۃ النص  ایک وقت میں جائز نکاحوں کی تعداد کا بیان ہے اور نکاح کی اباحت کا بیان اشارۃ النص ہے۔

1۔ التحبير شرح التحرير (8 / 3827):

"وقيل : العدول عن حكم الدليل إلى العادة لمصلحة الناس : كشرب الماء  من السقاة ، ودخول الحمام من غير تقدير الماء و رد ذلك : بأن العادة إن ثبت جريانها بذلك في زمنه  فهو ثابت  بالسنة ، أو في زمانهم من غير إنكار فهو إجماع ، وإلا فهو مردود".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6 / 51):

"(وجاز إجارة الحمام) «؛ لأنه عليه الصلاة والسلام دخل حمام الجحفة» وللعرف. وقال عليه الصلاة والسلام: «ما رآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن»".

و فی الرد:

"(قوله: وللعرف)؛ لأن الناس في سائر الأمصار يدفعون أجرة الحمام وإن لم يعلم مقدار ما يستعمل من الماء ولا مقدار القعود، فدل إجماعهم على جواز ذلك وإن كان القياس يأباه لوروده على إتلاف العين مع الجهالة إتقاني".

غمز عيون البصائر - (2 / 122):

"السادسة الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامةً كانت أو خاصةً، ولهذا جوزت الإجارة على خلاف القياس للحاجة، وكذا قلنا: لاتجوز إجارة بيت بمنافع بيت؛ لاتحاد جنس المنفعة فلا حاجة، بخلاف ما إذا اختلف، ومنها: ضمان الدرك جوز على خلاف القياس، و من ذلك جواز السلم على خلاف القياس؛ لكونه بيع المعدوم دفعاً لحاجة المفاليس، ومنها: جواز الاستصناع للحاجة، ودخول الحمام مع جهالة مكثه فيها وما يستعمله من مائها".

أصول البزدوي (1 / 276):

"و الاستحسان اقسام، وهو ما ثبت بالاثر مثل السلم والاجارة وبقاء الصوم مع فعل الناسي، ومنه ما ثبت بالإجماع وهو الاستصناع، ومنه ما ثبت بالضرورة وهو تطهير الحياض والابار والاواني".

3۔ وارکعوا مع الراکعین ··· فقد دل لکونه أمراً علی وجوبها، وحاصل الخطاب أمرهم باتباع المسلمین بأداء صلاة المسلمین". (التفسیرات الاحمدیة ص:۱۲ قدیمی)

4۔ ونظیره فی الشرعیات قوله تعالی: حرم الربوا فان المفهوم من الربوا هو الزیادة المطلقة، و هی غیر مرادة، بل المراد الزیادة الخالية عن العوض فی بیع المقدرات المتجانسة".(اصول الشاشی  ص:۲۵:المصباح)

أصول البزدوي - (1 / 9):

"ثم المشكل وهو الداخل في أشكاله وامثاله، مثل قولهم: احرم: أي دخل في الحرم، واشتى: أي دخل في الشتاء، وهذا فوق الأول لاينال بالطلب، بل بالتامل بعد الطلب؛ ليتميز عن اشكاله، وهذا لغموض في المعنى أو لاستعارة بديعة، وذلك يسمى غريباً، مثل رجل اغترب عن وطنه فاختلط بأشكاله من الناس فصار خفياً بمعنى زائد على الأول، ثم المجمل وهو ما ازدحمت فيه المعاني واشتبه المراد اشتباهاً لايدرك بنفس العبارة، بل بالرجوع إلى الاستفسار، ثم الطلب، ثم التأمل، و ذلك مثل قوله تعالى: وحرم الربا؛ فإنه لايدرك بمعاني اللغة بحال، وكذلك الصلوة والزكوة". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے