بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1441ھ- 09 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

اسکول اساتذہ کا طلبہ سے پانی گرم کرنے کے لیے لکڑیاں منگوانا


سوال

درج ذیل فتوے کی تصدیق مطلوب ہے:

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں گورنمنٹ ہائیرسیکنڈری اسکول اتلہ گدون میں سکول کے ٹیچرز حضرات طلباء سے لکڑی منگواتے ہیں اورپھر ان لکڑیوں کوجلا کرسردی کے موسم میں پانی گرم کرکے نماز پڑھتے ہیں،کیا شرعاً اساتذہ کے لیے یہ جائز ہے کہ طلبا ء سے لکڑی منگوائیں؟  نیز ان لکڑیوں پرگرم شدہ پانی سے وضو کرکے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب:

صورتِ مسئولہ کے مطابق سکول کے ٹیچرز حضرات کے لیے مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر اپنے طلباء سے لکڑی منگوانا اور پھر ان لکڑیوں پر پانی گرم کرنا جائز نہیں ہے:پہلی وجہ طیب نفس(دل کی رضامندی اوردل کی خوشی ) کے بغیر کسی کامال کھاناجائز نہیں ہے۔حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کے طیب نفس کے بغیرحلال نہیں ہے۔ (۱)

ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ طیبِ نفس کے بغیر کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی لاٹھی تک نہ لے۔ (۲)

بلکہ ایک اورحدیثِ مبارک میں آیا ہے کہ طیبِ نفس کے بغیرکوئی کسی کا پانی تک نہ پیے۔ (۳)

طلباء سے جب اپنے ٹیچرز حضرات لکڑی منگوائیں گے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آیا وہ تمام اپنے طیب نفس کے ساتھ لاتے ہیں یا اساتذہ کرام کے مروت کی وجہ سے لاتے ہیں؟ اساتذہ کے ڈر کی وجہ سے لاتے ہیں یا اپنے دوستوں اوردیگر لوگوں کے ملامت کی خوف سے لاتے ہیں؟

چوں کہ طیبِ نفس کا ہونا یقینی نہیں ہے، اس وجہ سےبھی اس سے احتراز ضروری ہے کہ حضرات فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جب کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے میں اختلاف واقع ہوجائے تو ترجیح حرمت کو دی جائے گی۔(۴)

دوسری وجہ استاذ جب اپنے کسی شاگرد سے اپنے لیے کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ تو اپنے ذاتی حیثیت سے نہیں، بلکہ استاذ ہونے کی حیثیت سے کرتا ہے، گویا وہ اپنے عہدے اور منصب کا فائدہ اٹھاتا ہے اور حدیثِ مبارک کی رُو سے کسی صاحبِ منصب یا عہدہ دار کے لیے کسی سے تحفہ یا ہدیہ لینا جائز نہیں ہے۔(۵)

تیسری وجہ گورنمنٹ اسکول کے سرکاری ملازمین کی شرعی حیثیت فقہی اصطلاح میں اجیر خاص کی ہوتی ہے، اورحضرات فقہائےکرام نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ اجیرخاص اپنے کام کے دورانیہ میں نہ اپنا ذاتی کام کرسکتا ہے اور نہ کسی اور کا کوئی کام کرسکتا ہے۔ اس وجہ سے اسکول ٹیچر اپنے ڈیوٹی کے گھنٹوں کے دوران اپنے لیے نہ کسی سے لکڑی منگوا سکتا ہے اور نہ ہی پانی گرم کرسکتا ہے۔

اسکول ٹیچر (جو کہ اجیرخاص ہوتا ہے ) کو ڈیوٹی کے دوران صرف ضروریات طبعیہ اور ضروریات شرعیہ کے بجا آوری کی اجازت ہوتی ہے، اور وضو کے لیے پانی گرم کرنا ضروریات میں شامل نہیں، کیوں کہ اتلہ گدون میں ظہر کے نماز کے وقت اتنی سردی نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے کسی کے لیے ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا مشکل ہوجاتا ہو۔ اس وجہ سے پانی گرم کرنے میں وقت ضائع کرنا اپنی ڈیوٹی سے خیانت کے مترادف ہوگا۔ (۶)

چوتھی وجہ:

Government of Khyber PakhtunkhwaDepartment of Elementary and Secondary EducationRules Under The Khyber Pakhtunkhwa Free Compulsory Primary and Secondary Education Act. 2017

کے حصہ دوم کے پہلے شق میں لکھا ہوا ہے کہ:

No child shall be liable to pay any kind of fee or charges or expenses which may prevent him orher from pursuing and completing the school education.

محکمہ کی طرف سے اس صراحت کے بعد کوئی بھی سکول ٹیچر طلباء سے لکڑی، دودھ یاکوئی بھی چیز یا کسی بھی قسم کی  کوئی فیس یامعاوضہ وصول نہیں کرسکتا۔

پانچویں وجہ چوں کہ قانوناً کوئی اسکول ٹیچر اپنے طلباء سے کوئی فیس، معاوضہ کیا کسی قسم کاکوئی حق خدمت وصول نہیں کرسکتا، اب اگر کوئی استاذ خلاف قانون کام کرتے ہوئے اپنے طلباء سے اپنے لیے لکڑی منگواتا ہے تو یہ اس کے اپنے محکمہ کےساتھ خیانت اور وعدہ خلافی ہے جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔(۷)

چھٹی وجہ اگر کسی استاذ کے خلاف اس کے محکمہ میں یہ شکایت چلی جائے کہ وہ طلباء سے اپنے لیے لکڑی منگواتا ہے توافسران بالا کے سامنے یہ اس ٹیچر کے ذلت اوررسوائی کا سبب بنے گا ، اور کسی جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کوسزا اورذلت کے لیے پیش کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ (۸)

ساتویں وجہ اسکول کے اکثر طلباء کم عمر اور نابالغ ہوتے ہیں اور شریعت مطہرہ کی رُو سے نابالغ بچہ کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ نہیں دے سکتا۔

حضرات فقہائے کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ ہبہ کرنے والا عاقل اور بالغ ہونا چاہیے۔ (۹)

سوال کا دوسرا حصہ کہ ان لکڑیوں پر گرم شدہ پانی سے وضو کرکے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ تو ان لکڑیوں سےگرم شدہ پانی کے علاوہ اگر اور پانی موجود ہو تو اس پانی سے وضو کرکے نماز پڑھنا کراہت سے خالی نہیں ، لیکن پھر بھی اگر کسی نے اسی پانی سے وضو کرکے نماز ادا کی تو بہرحال اس کی نماز ادا ہو جائے گی۔ (۱۰)

البتہ اگرٹیچرز حضرات طلباء سے لکڑی لانے کا مطالبہ نہ کرے بلکہ کوئی عاقل بالغ طالب علم خود اپنی مرضی اور دل کی خوشی کے ساتھ اپنے ٹیچرز حضرات کے لیے لکڑی لاتا ہو،اوریقینی طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ طالب علم کسی دباؤ کاشکار نہیں بلکہ سو فیصد اپنی خوشی اور مرضی سے لاتا ہے، نیز اگروہ یہ لکڑی اپنے گھر سے لاتا ہو تو اس کے والدین بھی اس کو یہ لکڑی بخوشی دیتے ہوں ، لکڑی لانے کے بعد وہ اپنے ٹیچرز حضرات سے کسی خلاف قانون (امتحانات میں نقل، ہوم ورک نہ کرنے کی صورت میں مجوزہ تادیبی کاروائی میں رعایت، اسکول سے بلا عذر غیرحاضری وغیرہ) میں اپنے ساتھ رعایت اورنرم گوشی کا طلب گار بھی نہ ہو، اور لکڑی نہ لانے کی صورت میں ٹیچرزکی طرف سے اس پر کوئی غصہ یا کسی بھی طریقے (قولاً، عملاً، حالاً) سے ناراضگی کااظہار بھی نہ ہوتا ہو، اورمحکمہ کی طرف سے بھی اس کی اجازت ہو، تواس صورت میں لکڑی لانے کی اجازت ہوگی۔

حوالہ جات:

(۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَايَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ". (السنن الکبریٰ للبیهقي، الإمام أبي بكر البيهقي، (المتوفى: 458هـ) دارالکتب العلمیة بیروت، لبنان، الطبعة الثالثة،۱۴۲۴هـ،ج:۶،ص:۱۶۶،رقم الحدیث:۱۱۵۴۵)

(۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ،قَالَ وَذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِ. (شرح معاني الآثار، الإمام أبي جعفرالطحاوي، (المتوفى: 321هـ)،عالم الکتب، بیروت، الطبعة الأولیٰ، ۱۴۱۴هـ، ج:۴،ص:۲۴۱،رقم الحدیث:۶۶۳۲)

(۳) نا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، نا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، نا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَايَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاءَ أَخِيهِ إِلَّا بِطِيبٍ مِنْ نَفْسِهِ. (سنن الدارقطني، الإمام الدارقطني، (المتوفى: 385هـ)، مؤسسة الرسالة، بیروت، الطبعة الأولیٰ، ۱۴۲۴هـ، ج:۳، ص:۴۲۲، رقم الحدیث:۲۸۸۲)

(۴) فَيَتَرَجَّحُ الْمُوجِبُ لِلْحُرْمَةِ عَلَى الْمُوجِبِ لِلْحِلِّ. (المبسوط،شمس الأئمة السرخسي، (المتوفیٰ:۴۸۳هـ) دار المعرفة، بیروت، ۱۴۱۴هـ، ج:۴، ص:۱۰۰ وَأَحَدُهُمَا يُوجِبُ الْحُرْمَةَ، وَالْآخَرُ الْحِلَّ فَيُغَلَّبُ الْمُوجِبُ لِلْحُرْمَةِ؛ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اجْتَمَعَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ فِي شَيْءٍ إلَّاغَلَبَ الْحَرَامُ الْحَلَالَ۔ المصدرالسابق،ج:۵،ص:۴۴ فَالْأَخْذُ بِالْمُحَرَّمِ أَوْلَى عِنْدَ التَّعَارُضِ احْتِيَاطًا لِلْحُرْمَةِ؛ لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُ الْمَأْثَمُ بِارْتِكَابِ الْمُحَرَّمِ، وَلَا مَأْثَمَ فِي تَرْكِ الْمُبَاح". (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، الإمام الكاساني الحنفي، (المتوفى: 587هـ)، دارالکتب العلمیة، بیروت، الطبعة الثانیة،۱۴۰۶هـ،ج:۲،ص:۲۶۴)

(۵) حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، لَفْظَهُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّىاللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: ابْنُ الْأُتْبِيَّةِ ،َلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ، فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِيءُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أُمِّهِ أَوْ أَبِيهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا فَلَهُرُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً فَلَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ،ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَةَ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ. (سنن أبي داؤد، الإمام أبي داؤد السجستاني، (المتوفى: 275هـ) باب في هدایا العمال، رقم الحدیث: ۲۹۴۶)

قلت: في هذا بيان أن هدايا العمال سحت، وأنه ليس سبيلها سبيل سائر الهدايا المباحة وإنما يهدى إليه المحاباة وليخفف عن المهدي و يسوغ له بعض الواجب عليه وهو خيانة منه و بخس للحق الواجب عليه استيفاؤه لأهله. (معالم السنن شرح سنن أبي داؤد، أبي سلیمان الخطابي، (المتوفى: 388هـ) المطبعة العلمیة، حلب، الطبعة الأولیٰ، ۱۳۵۱هـ، ج:۳،ص:۸)

(۶) (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماًيعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولايشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لايؤدي نفلاً، وعليه الفتوى".( ردالمحتار،کتاب الإجارة،ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی،:۶،ص:۷۰)

(۷)  حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ". (الجامع الصحیح للبخاري، محمد بن إسماعیل البخاري، باب علامة المنافق، رقم الحدیث:۳۳)

(۸)۔ کسی ایسے امر کا ارتکاب جوقانوناً ناجائز ہو، اور جرم کی حد تک پہنچے، شرعاً بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لیے جرمِ قانونی کا مرتکب ہو کراپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لیے پیش کرنا شرعاً بھی روا نہیں ہے۔(فتاویٰ رضویہ، احمدرضاخان بریلوی، متوفیّٰ۱۳۴۰ھ ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ج:۲۰،ص:۱۹۲)

(۹) يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الْوَاهِبُ عَاقِلًا بَالِغًا بِنَاءً عَلَيْهِ لَا تَصِحُّ هِبَةُ الصَّغِيرِ وَالْمَجْنُونِ وَالْمَعْتُوهِ وَأَمَّا الْهِبَةُ لِهَؤُلَاءِ فَصَحِيحَةٌ. (مجلة الأحکام العدلیة، نورمحمد کتب خانه،آرام باغ،کراچی،ص:۱۶۵)

(۱۰)  (قَوْلُهُ: وَالْعَاصِي كَغَيْرِهِ) أَيْ فِي التَّرَخُّصِ بِرُخَصِ الْمُسَافِرِ لِإِطْلَاقِ النُّصُوصِ، وَلِأَنَّ السَّفَرَ الْمُوجِبَ لِلرُّخَصِ لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ إنَّمَا هُوَ فِيمَا جَاوَرَهُ كَخُرُوجِهِ عَاقًّا لِوَالِدَيْهِ أَوْ عَاصِيًا عَلَى الْإِمَامِ أَوْ آبِقًا مِنْ مَوْلَاهُ أَوْ خَرَجَتْ الْمَرْأَةُ بِلَا مَحْرَمٍ أَوْ فِي الْعِدَّةِ أَوْ قَاطِعًالِلطَّرِيقِ وَقَدْ تَكُونُ بَعْدَهُ كَمَا إذَا خَرَجَ لِلْحَجِّ أَوْ لِلْجِهَادِ ثُمَّ قَطَعَ الطَّرِيقَ، وَالْقُبْحُ الْمُجَاوِرُ لَايَعْدَمُ الْمَشْرُوعِيَّةَ أَصْلًا كَالصَّلَاةِ فِيالْأَرْضِ الْمَغْصُوبَةِ وَالْبَيْعِ وَقْتَ النِّدَاءِ فَصَلَحَ السَّفَرُ مَنَاطًا لِلرُّخْصَةِ. (البحرالرائق، الإمام ابن نجیم المصري، (المتوفى: 970هـ) دارالکتاب الاسلامي، الطبعة الثانیة، ج:۲،ص:۱۴۹) والله تعالیٰ أعلم بالصواب

جواب

پنج وقتہ نماز اسلام کے بنیادی اَرکان میں سے ہے، اِقامتِ صلاۃ اور اس کے لوازمات کا اہتمام تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، مسلمانوں کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جن سرکاری اسکولوں میں تعلیمی دورانیہ میں نمازوں کے اوقات آتے ہیں، ان نمازوں کے قیام اور اہتمام کے اسباب مہیا کریں، لیکن اگر سرکار کی طرف سے اس ضمن میں سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں تو متعلقہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ یونین کونسل کے ذمہ داران یا علاقے کے با اثر افراد کو اس طرف متوجہ کریں، اگر وہ بھی توجہ نہیں کرتے تو  اساتذہ اور عملہ کو چاہیے کہ باہمی تعاون سے اس کی کوئی ترتیب بنالیں، لیکن اگر اساتذہ کے ساتھ بالغ طلبہ کے لیے بھی اسکول میں فرض نماز (مثلاً ظہر یا عصر) کی ادائیگی کا نظم ہے تو اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین اور سرپرست حضرات کو بھی اس طرف متوجہ کیا جاسکتاہے،  اگر مذکورہ صورتوں سے نماز کے لیے گرم پانی وغیرہ کا انتظام ہوجائے اور آخر الذکر دو صورتوں میں جو شرکت نہ کرنا چاہے اسے موردِ طعن نہ ٹھہرایا جائے تو اس میں حرج نہیں ہوگا۔

لیکن اگر مذکورہ کوئی صورت نہ بن سکے اور اوقاتِ تعلیم میں فرض نماز کا وقت آتا ہو تو درج ذیل شرائط کے ساتھ طلبہ سے لکڑیاں وصول کرنے کی اجازت ہوگی:

(1) لکڑیاں لانے والے طلبہ بالغ ہوں اور اپنی ملکیت کی لکڑیاں لائیں، یا نابالغ طلبہ اپنے والد  کی بخوشی اجازت سے ان کی مملوکہ لکڑیاں لائیں۔

(2)   بغیر کسی جبر و اکراہ کے، محض ترغیب دینے پر  اپنی خوشی سے لائیں۔

(3) نہ لانے والے طلبہ کی سرزنش نہ کی جاتی ہو۔

 مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے حاصل کردہ لکڑیوں کو جلا کر پانی گرم کرکے اس سے اساتذہ کے لیے وضو کرنا جائز ہوگا،  بصورتِ دیگر جائز نہ ہوگا۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر فرض نماز کا وقت درمیان میں نہ آتاہو تو ملازمت کے اوقات میں چوں کہ نوافل کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے، اس لیے اس غرض سے لکڑیاں لانے کی ترغیب دینا بھی جائز نہیں ہوگا۔

جہاں تک مذکورہ فتوے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں واضح رہنا چاہیے کہ سوال میں بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق چوں کہ اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ اساتذہ تعلیمی اوقات میں یہ لکڑیاں منگواتے ہیں، نیز اساتذہ اپنی ذات کے لیے ہدیہ طلب نہیں کرتے، بلکہ لکڑیاں جلاکر پانی گرم کرکے نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں اساتذہ کا لکڑیاں طلب کرنا ہدیہ طلب کرنے کے بجائے اجتماعی چندے کی حیثیت رکھتاہے، اس لیے ہدیہ کے اَحکام اور جزئیات کی اس پر تطبیق کے بجائے چندہ کے اَحکام اس پر جاری ہوں گے، جن کے مطابق حکم لکھ دیا گیا ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں