بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینک میں مضاربہ یا تکافل میں حصہ لینا


سوال

میرا اکاؤنٹ ہے جس میں آن لائن تعلیم فراہم کرنے کی وجہ سے فیس ملتی ہے اور بینک والے مجھے اکثر کہتے ہیں کہ آپ ہمارے ہاں مضاربہ یا تکافل میں حصہ لیں، ہمارے ہاں بہت سے علماء اور مفتیانِ کرام شامل ہیں۔

جواب

 مروجہ غیر سودی بینکوں  کا اگرچہ یہ دعویٰ ہے کہ وہ علماءِ کرام کی نگرانی میں  شرعی اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں،  لیکن ملک کے اکثر جید اور مقتدر علماءِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ  ان  بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، لہذا روایتی بینکوں کی طرح ان میں بھی سرمایہ کاری کرنا (مضاربہ کا حصہ بن کر ہو یا تکافل کا) جائز نہیں ہے  ،اور اس سے حاصل ہونے والا نفع  حلال نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200636

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے