بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینکاری کے اختلاف میں عوام کیا کریں؟


سوال

آج کل بینک کے مسئلے میں جو علماء کا اختلاف ہے تو اس میں عام لوگ کیا کریں؟ کس کے فتوے پر عمل کریں؟

جواب

مروجہ اسلامی بینکاری کے حوالہ سے علماء کا ختلاف راجح مرجوح کا اختلاف نہیں، بلکہ یہ اختلاف، حلال اور حرام کا اختلاف ہے، جمہور علماء حرام قرار دیتے ہیں اور کچھ علماء حلال قرار دیتے ہیں، ایسے مسئلہ میں بہرحال حرام کو مقدم رکھا جاتا ہے۔  بالفرض حلال کہنے والوں کے موقف کو تسلیم کیا جائے تو اسلامی بینک کے ذریعہ سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ مباح عمل ہے، دوسری طرف حرام میں وقوع کا امکان ہے، مباح کو اختیار کرنے کی بجائے حرام سے بچنا فرض ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200551

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے