بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

استعمال کی اشیاء پر زکاۃ


سوال

جہیز میں جو چیزیں دی جاتی ہیں، جیسے کچا کپڑا، الیکٹرانک کی چیزیں، برتن جو سالوں استعمال میں نہیں آتے، کافی سال بعد استعمال میں آتی ہیں، ان چیزوں پر زکاۃ دینی چاہیے یا نہیں؟

جواب

جہیز  میں دی جانے والی چیزیں مثلاً  بغیر سلا ہوا کپڑا، الیکٹرانک آئٹم اور برتن وغیرہ پر زکاۃ ادا کرنا واجب نہیں، اگرچہ یہ چیزیں سالوں بعد استعمال میں آتی ہوں۔

الفتاوى الهندية (5 / 36):

"( ومنها فراغ المال ) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة ، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے