بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

اذان اور اقامت کے درمیان تثویب کرنے کا کیا حکم ہے؟


سوال

ہمارے  یہاں تاجکستان ، ازبکستان اور شاید افغانستان میں بھی تکبیر  کہنے سے پہلے دو مرتبہ ”قامت“ کہا جاتا ہے، جس کو  کتابوں میں ”تثویب“ کے نام سے ”قامت الصلاۃ“ یا ایک مرتبہ ”قامت قامت“ سے تعبیر کیا ہے، کیا اس تثویب کو کہنا چاہیے یا نہیں؟  جو لوگ کہتے ہیں ان کی دلیل کیا ہے؟  اور کس حد تک اس پر عمل کرنا صحیح ہے؟  اور کس حد تک نہیں ہے؟  اور ہم  دیوبندی جو  نہیں کہتے تو ہماری دلیل کیا ہے؟ اور کس حد تک صحیح ہے؟

 

جواب

” تثویب“ اذان اور اقامت کے درمیان میں نماز کے لیے اعلان کرنے کو کہتے ہیں، اور یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ؛ تاکہ نماز کے لیے اچھی طرح  اعلان ہوجائے  اور ہر شہر کی تثویب وہاں کے رواج کے موافق ہوتی ہے، جس سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جماعت تیار ہے، مثلا ”کھنکارنا“ یا ”الصلاۃ الصلاۃ “ کہنا یا ”الصلاۃ رحمکم اللہ“ یا ”قامت قامت“ کہنا وغیرہ۔

تثویب متقدمین کے نزدیک صرف فجر کی نماز میں رائج تھی، فجر کے علاوہ میں باقی نمازوں میں مکروہ تھی، لیکن متاخرین نے لوگوں کی غفلت اور اذان سنتے ہی بہت  کم اٹھنے کی سستی کی وجہ  سے مغرب کے علاوہ باقی چار نمازوں میں تثویب کو  جائز قرار دیا ہے۔

تثویب ہر جگہ وہاں کی زبان میں جائزہے، مثلاً اردو میں ”جماعت تیار ہے“  عربی زبان کی خصوصیت اذان اور اقامت کے لیے ہے،  تثویب کے لیے نہیں،  بہتر بھی یہی کہ اگر کہیں تثویب پر عمل کیا جائے تو اذان اور اقامت کے الفاظ تثویب میں استعمال نہ کیے جائیں ، ان کے علاوہ کوئی اور لفظ تثویب کے لیے استعمال کیا جائے، اسی طرح اس کو اذان اور اقامت کا حصہ سمجھاجائے اور نہ ہی اس کو لازم اور ضروری سمجھاجائے ۔

باقی مغرب میں چوں کہ لوگ پہلے سے حاضر ہوتے ہیں  اور وقت بھی تنگ ہوتا ہے اور جماعت بھی جلدی کھڑی کرنی ہوتی ہے؛ اس لیے اس کو مستثنی کیا گیا ہے ۔

موجودہ زمانہ میں جہاں مائیک کا انتظام ہے، وہاں تثویب کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اگر چہ متاخرین نے چار نمازوں میں اس کو جائز  بلکہ مستحسن  قراردیا ہے، لیکن ایک جائز ، بلکہ مستحب عمل کو بھی لازم اور ضروری سمجھ کر کیا جائے اور نہ کرنے والے پر نکیر کی جائے تو وہ بدعت بن جاتا ہے،  لہذا  اس عمل کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے، اور جہاں اس کو لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہو، وہاں  اس کی مستقل عادت  ترک کی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 389):
"(ويثوب) بين الأذان والإقامة في الكل للكل بما تعارفوه (ويجلس بينهما) بقدر ما يحضر الملازمون مراعياً لوقت الندب (إلا في المغرب).

(قوله: ويثوب) التثويب: العود إلى الإعلام بعد الإعلام، درر، وقيد بتثويب المؤذن لما في القنية عن الملتقط: لاينبغي لأحد أن يقول لمن فوقه في العلم والجاه: حان وقت الصلاة، سوى المؤذن؛ لأنه استفضال لنفسه. اهـ. بحر. قلت، وهذا خاص بالتثويب للأمير ونحوه على قول أبي يوسف، فافهم.
(قوله: بين الأذان والإقامة) فسره في رواية الحسن بأن يمكث بعد الأذان قدر عشرين آية ثم يثوب ثم يمكث كذلك ثم يقيم، بحر.
(قوله: في الكل) أي كل الصلوات لظهور التواني في الأمور الدينية. قال في العناية: أحدث المتأخرون التثويب بين الأذان والإقامة على حسب ما تعارفوه في جميع الصلوات سوى المغرب مع إبقاء الأول يعني الأصل وهو تثويب الفجر وما رآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن. اهـ.
(قوله: للكل) أي كل أحد، وخصه أبو يوسف بمن يشتغل بمصالح العامة كالقاضي والمفتي والمدرس، واختاره قاضي خان وغيره، نهر.
(قوله: بما تعارفوه) كتنحنح، أو قامت قامت، أو الصلاة الصلاة، ولو أحدثوا إعلاماً مخالفاً لذلك جاز، نهر عن المجتبى.
(قوله: ويجلس بينهما) لو قدمه على التثويب لكان أولى؛ لئلا يوهم أن الجلوس بعده، نهر.
(قوله: إلا في المغرب) قال في الدرر: هذا استثناء من يثوب ويجلس؛ لأن التثويب لإعلام الجماعة وهم في المغرب حاضرون لضيق الوقت. اهـ. واعترضه في النهر بأنه مناف لقول الكل في الكل. قال الشيخ إسماعيل: وليس كذلك، لما مر عن العناية من استثناء المغرب في التثويب، وبه جزم في غرر الأذكار والنهاية والبرجندي وابن ملك وغيرهما. اهـ.قلت: قديقال: ما في الدرر مبني على رواية الحسن من أنه يمكث قدر عشرين آية، ثم يثوب كما قدمناه
".

فتاوی رحیمیہ میں مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ اسی نوعیت کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

’’(الجواب)اصل حکم یہی ہے کہ تثویب(اذان کے بعد اعلان) مکروہ ہے کہ اذان کافی ہے۔ اذان کے بعد اعلان کی ضرورت نہیں رہتی،  بلکہ اس سے اذان کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔مگر افسوس کہ خدائی بلاوا  ’’حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح‘‘ کی مسلمان پروا نہیں کرتے؛  اس لیے بعض علماء نے غافلوں کی تنبیہ کے لیے اجازت دی ہے ‘‘۔

مجالس الا برار میں ہے ۔

’’ولظهور التواني في الأمور الدینیة استحسن المتأخرون التثویب بین الأذان والإقامة في الصلوات کلها سوی المغرب، وهذا العود إلی الإعلام بعد الإعلام بحسب ما تعارفه کل قوم؛ لأنه مبالغة في الإعلام فلایحصل ذلك إلا بمایتعارفونه‘‘. (مجالس الأبرار، ص: ۲۸۷ مجلس: ۴۸)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200603

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے