بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ادھار فروخت کرنے کی صورت میں کیا قیمت میں اضافہ کرنا جائز ہے؟


سوال

اگر کوئی دکان دار کوئی چیز نقد چار سو روپیہ میں بیچے اور ادھار  ساڑھے چار سو روپیہ میں تو  کیا یہ صحیح ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت کے شرعاً درست ہونے کے لیے  سودا کرتے وقت قیمت متعین کرنا (خواہ قیمت کم طے کرے یا زیادہ) شرعاً ضروری ہے، پس باہمی رضامندی سے نقد فروخت کرنے کی صورت میں کم قیمت اور ادھار فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ عقد کے وقت نقد یا ادھار کوئی ایک صورت متعین کردی جائے۔ نیز ادھار فروخت کرنے میں عقد کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ خریدار کی جانب سے قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کے نام سے قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے، اور قیمت جلد ادا کرنے کی صورت میں خریدار کے ذمے سے قیمت کم نہ کی جائے، بلکہ جو قیمت عقد کے وقت طے کردی گئی ہو اسی کے مطابق عقد انجام پذیر ہو۔  اگر اس شرط کی خلاف ورزی کی گئی تو سودا  شرعاً درست نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے