بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ادھار فروخت کرنے کی صورت میں قیمت میں اضافہ کرنا


سوال

اگر کسی کو کوئی چیز بیچی جائے اور اس کا دام مقرر ہو 150 روپے اور ایک ہفتے کا وقت ہو ایک ہفتے کے بعد وہ اس مال کی قیمت ادا کرے گا اور دوسری شرط یہ ہے کہ اگر وہ ایک ہفتہ میں قیمت ادا نہیں کرتا اس کے بعد اس کی قیمت 155 روپے ہوں گے،جب کہ وہ چیز اس کو دے دی گئی ہے, کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت کے شرعاً درست ہونے کے لیے  سودا کرتے وقت قیمت متعین کرنا (خواہ قیمت کم طے کرے یا زیادہ) شرعاً ضروری ہے، پس باہمی رضامندی سے نقد فروخت کرنے کی صورت میں کم قیمت اور ادھار فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرناتو شرعاً درست ہے،شرط یہ ہے کہ  عقد کے وقت نقد یا ادھار کوئی ایک صورت متعین کردی جائے۔

نیز ادھار فروخت کرنے میں عقد کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ خریدار کی جانب سے قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کے نام سے قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے،   اگر اس شرط کی خلاف ورزی کی گئی تو سودا  شرعاً درست نہیں ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ عقد کے وقت،  تاخیر سے قیمت ادا کرنے پر جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، لہٰذا یہ عقد جائز نہیں ہے، تاخیر سے قیمت کی ادائیگی کی صورت میں اضافی چارجز (جرمانہ) کی شرط ختم کرکے ادھار پر سودا کرنا بھی جائز ہے، اور نقد کے مقابلے میں قیمت کچھ زیادہ وصول کرنا بھی جائز ہے، البتہ ابتدا سے ہی ایک قیمت مقرر کی جائے،  جس میں جلد ادائیگی کی صورت میں کمی اور تاخیر سے ادا کرنے کی صورت میں اضافے کی شرط نہ ہو۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144106200050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے