بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

اجنبی عورت پر نظر پڑجانے کا حکم


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص جو خود کو عالم دین کہتا ہے  اس سے ایک شخص نے حج کے دوران سوال کیا کہ میری نظر غیر محرم خواتین پر پڑتی ہے تو مجھے اس صورت میں کیا کرناچاہیے؟ عالم دین  نے جواب دیا کہ آپ اس سے شادی کر لیں۔کیا یہ جواب ٹھیک ہے؟ 

جواب

جان بوجھ کر غیر محرم عورتوں کو دیکھنا گناہ کبیرہ ہے، احادیث مبارکہ میں ایسے شخص پرلعنت آئی ہے،یعنی رحمت خداوندی سے محرومی کا فیصلہ وارد ہواہے۔اگر اچانک کسی غیر محرم پرنظر پڑجائے تو فوراً اپنی نگاہ پھیر دینی چاہیے،مسلم شریف کی روایت میں ہے:''حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں دریافت کیا،)یعنی اچانک کسی نامحرم عورت پر نظر پڑجائے تومجھے کیاکرناچاہیے؟تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے حکم دیاکہ میں اُدھرسے نگاہ پھیرلوں''۔یہ مذکورہ سوال کا جواب ہے۔آپ نے جن صاحب کاجواب نقل کیاہے  وہ مسئلے کاٹھیک جواب نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200089

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے