بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

آپریشن سے ولادت کی صورت میں نفاس کا حکم


سوال

بچے کی پیدائش اگر آپریشن کے ذریعے ہوجائے تو عورت کے نفاس کی کیا مدت ہوگی؟ اور اس کا  کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ولادت خواہ فطری طریقہ سے ہو یا آپریشن کے ذریعہ سے ہو بہر صورت اس کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس کا شمار ہوگا، نفاس کے خون کی کم سے کم مدت چوں کہ متعین نہیں، لہذا ایک دن بعد یا پیدائش کے دن بھی اگر مکمل طور پر  خون بند ہوجائے تو  یہ ایک دن ہی نفاس کا شمار ہوگا، اور مکمل خون بند ہوجانے کے بعد مذکورہ خاتون کے لیے غسل کرنے کے بعد نماز و دیگر  عبادات کرنے کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے