بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم ﷺ سے متعلق برے خیالات آنا


سوال

میں ایک بہت بری مشکل میں ہوں،میری مدد کی جائے، میرے دماغ میں ہر وقت برے خیالات آتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ سے عشق کرتا ہوں اور ان ہی کے بارے میں برے خیالات آتے  ہیں،  میں اتنا تنگ آگیا ہوں کہ اب میں اللہ سے اپنی موت مانگتا ہوں؛  تا کہ  مرجاؤں تو مجھےےسکون ملے،اللہ کے لیے میری مدد کریں!

جواب

دل میں غیر اختیاری طور پر   خیالات اور وسوسے آنےسے انسان دینِ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ اس طرح کے وساوس آنے پر انہیں  دل سے برا سمجھنا  اور جھڑکنا  ایمان کی علامت ہے،  لہذا ان خیالات اور وسوسوں پر دھیان دینے کے بجائے انہیں جھڑک کر کسی بھی بامقصد کام میں مشغول ہوجایا کریں، وساوس سے حفاظت کا یہی طریقہ ہے کہ ان کی طرف بالکل دھیان نہ دیا جائے۔

ان وسوسوں  اور برے خیالات کے علاج کے لیے درج ذیل  نسخہ نبوی ﷺ پر عمل کیا جائے:

(1)  أعُوذُ بِالله (2) اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه کا  ورد کرے۔(3)  هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْم  (4)نیز   رَّبِّ أَعُوْذُبِکَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَأَعُوْذُ بِكَ رَبِّ أَنْ یَّحْضُرُوْنِ کا کثرت سے ورد بھی ہر طرح کے شیطانی شکوک ووساوس کے دور کرنے میں مفید ہے۔

موت کی دعا مانگنا مسائل کا حل نہیں ہے، جس اللہ رب العزت کی ذات پر یقین رکھ کر دعا کی قبولیت کی امید لیے ہوئے موت کی دعا کررہے ہیں، اسی رب سے وساوس سے حفاظت اور  ایمان کی سلامتی کے ساتھ خاتمہ بالخیر کی دعا کیجیے، ان شاء اللہ تعالیٰ بالیقین دعا قبول ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

کفریہ اور گستاخانہ خیالات اور وساوس کا آنا اور اس کا علاج


فتوی نمبر : 144008201612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں