بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

آفس کی غریب لیبر کو زکاۃ دینے کا حکم


سوال

کیا آفس کی لیبر کو  زکاۃ دی جا سکتی ہے؟ جب کہ وہ بہت غریب ہو۔

جواب

جس شخص کے بارے میں غالب گمان یہ ہو کہ اس کی ملکیت میں ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال یا سامان نہیں ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو ایسے آدمی کو زکاۃ دی جا سکتی ہے جب کہ وہ سید اور ہاشمی نہ ہو۔

لہذا آفس کی لیبر کے بارے میں ایسا گمان یا تحقیق ہو تو ان کو زکاۃ دی جا سکتی ہے۔ البتہ زکاۃ کی رقم ان کے کسی کام کے معاوضے میں دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے