بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

آفس کا کرایہ ادا کرنے کے لیے جو رقم رکھی ہوئی ہو اس رقم کے نصاب کے بقدر ہونے کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی یا نہیں؟


سوال

 میں نے اپنے آفس کا کرایہ ادا کرنا ہے,  اس کے لیے میں نے کچھ رقم رکھی ہے جو کہ نصاب سے زیادہ ہے۔ تاہم کرایہ ایامِ تشریق کے بعد ادا کرنا ہے، ان دونوں میں ظاہر ہے میں صاحبِ  نصاب ہوں تو کیا مجھ پر قربانی واجب ہے؟

جواب

معاہدہ کے مطابق چوں کہ آپ کے ذمہ رواں مہینے کا کرایہ ادا کرنا لازم ہے جس کی ادائیگی آپ کو قربانی کے ایام کے بعد کرنی ہے؛  اس لیے کرائے کے بقدر رقم ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہوگی اور اس رقم کی وجہ سے آپ پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

البتہ اگر آئندہ مہینے (جو عید الاضحیٰ کے ایام کے بعد شروع ہوگا) کے کرائے کی رقم ابھی سے پس انداز کی ہے، تو وہ ضرورت سے زائد شمار ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے