بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

آغا خانی اسکول میں پڑھانے اور بچوں کو تعلیم دلوانے کا حکم


سوال

آغاخانی اسکول، اداروں میں بطورِ استاذ پڑھانے کا اور اسی طرح ان اداروں میں اپنے بچوں کو داخل کرانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

آغاخانی اسکول میں اگر کسی خلافِ شرع امرکاارتکاب نہ کرناپڑتاہو اور کوئی غیر شرعی مواد نہ پڑھانا پڑتا ہو، اپنے ایمان واعمال نیز اسلامی تشخص کاتحفظ ہوتومسلمان کے لیے ان  کے ہاں ملازمت کرنااور پڑھانا جائزہے۔

البتہ ان اسکولوں میں بچوں کو بھیجنے سے متعلق جواز وعدمِ جواز کاتعلق معلمین، نصابِ تعلیم اور طریقہ تعلیم سے ہے۔ اگرنصاب درست ہو،معلمین غلط ذہنیت کے نہ ہوں،  یعنی طلبہ کو دین سے منحرف کرنے اور اسلام کے علاوہ کسی مذہب سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں اور  بچیوں کے لیے باپردہ ماحول ہو اور کوئی خارجی عارض بھی نہ ہو تو ایسے بورڈ سے تعلیم حاصل کرنا جائز ہے، خواہ  وہ کوئی بھی اسکول ہو،اور اگر مذکورہ  شرائط نہ پائی جائیں تو بچوں کو ایسے اسکول میں بھیجنا جائز نہیں۔اس صورت میں ان کو اچھے ماحول سے دور کرنااور ان کے مستقبل کو خراب کرنا ہے،اس سے بچنا لازم ہے۔ (ماخوذ :فتاویٰ رشیدیہ،اجرت کے مسائل،ص:512،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے