بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

آخری عمر میں قضاءِ عمری


سوال

اگر زندگی میں کئی نمازیں قضا ہوگئی ہوں جن کا شمار نہیں اور عمر کا آخری اسٹیج ہو، اس صورت میں وہ اپنی نمازیں کیسے ادا کرے؟ وہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ کتنی نمازیں ادا کرسکتا ہے؟ اور اس کا آسان طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

زندگی بھر کی قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو ایسی صورت میں ایک محتاط اندازا  لگا کر اپنی قضا شدہ نمازوں کو اتنا شمار کرلے کہ یقین آجائے کہ اس سے زیادہ قضا نہیں ہوئی ہوں گی۔ پھر متعین شدہ تعداد کی حتی الوسع قضا  کرنے کی کوشش کرتا رہے اور ایک وصیت بھی لکھ لے جس میں یہ مذکور ہو کہ اگر تمام نمازوں کی قضا سے پہلے موت آجائے تو جو نمازیں ذمہ میں ہیں، ان کا فدیہ اس کے ترکہ سے ادا کردیا جائے۔

باقی قضا نمازوں کے طریقہ کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ ہو :

قضاء عمری کا طریقہ

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں