بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

آج کے بعد میرا کوئی کام نہ کرنا اگر کیا تو قرآن کی قسم طلاق دے دوں گا، کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

شوہر  اپنی بیوی سے کہے کہ  ’’آج کے بعد میرا کوئی کام نہیں کرنا ، اگر کرو گی تو قرآن کی قسم طلاق دے دوں گا‘‘. اس سے طلاق کا کیاحکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ  کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ مذکورہ شخص کے الفاظ سے  قسم منعقد ہوچکی ہے،  پس اگر یہ شخص اپنی موت سے قبل یا بیوی کی موت سے قبل تک طلاق نہیں دے گا تو حانث ہوجائے گا،   جس کی وجہ سے قسم توڑنے   کا کفارہ ادا  کرنا لازم ہوگا، جو کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا  دینا ہے، اگر اس کی طاقت نہ ہو کہ  وہ خود  مسکین ہو تو مسلسل تین روزے بطور کفارہ رکھنا لازم ہوگا، اور اگر بیوی کے کام کرنے کے بعد ایک طلاقِ رجعی دے دیتا ہے تو اس سے قسم پوری ہوجائے گی، کفارہ لازم نہ ہوگا، عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہوگا، اور رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت ( تین ماہواریاں اگر عورت حاملہ نہ ہو) مکمل ہونے پر مذکورہ شخص کے نکاح سے اس کی بیوی آزاد ہوجائے گی، تاہم باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کی اجازت ہوگی، اس صورت میں آئندہ کے لیے اسے صرف دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ پہلی صورت ( یعنی  موت تک طلاق نہ دینے والی صورت ) میں حنث کا تحقق چوں کہ زوجین میں سے کسی ایک کی موت پر ہوگا، اس لیے مذکورہ شخص کو چاہیے کہ وہ بیوی کو طلاق نہ دے، بلکہ قسم کا  کفارہ ادا کرنے کی وصیت لکھ چھوڑے، تاکہ اس کی موت بیوی سے پہلے واقع ہوجانے کی صورت میں ورثاء اس کی قسم کا کفارہ اس کے ترکہ سے ادا کردیں۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

(لَا) يُقْسَمُ (بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى كَالنَّبِيِّ وَالْقُرْآنِ وَالْكَعْبَةِ) قَالَ الْكَمَال: وَلَا يَخْفَى أَنَّ الْحَلِفَ بِالْقُرْآنِ الْآنَ مُتَعَارَفٌ فَيَكُونُ يَمِينًا. وَأَمَّا الْحَلِفُ بِكَلَامِ اللَّهِ فَيَدُورُ مَعَ الْعُرْفِ. وَقَالَ الْعَيْنِيُّ: وَعِنْدِي أَنَّ الْمُصْحَفَ يَمِينٌ لَا سِيَّمَا فِي زَمَانِنَا. وَعِنْدَ الثَّلَاثَةِ الْمُصْحَفُ وَالْقُرْآنُ وَكَلَامُ اللَّهِ يَمِينٌ.

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: قَالَ الْكَمَالُ إلَخْ) مَبْنِيٌّ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ بِمَعْنَى كَلَامِ اللَّهِ، فَيَكُونُ مِنْ صِفَاتِهِ تَعَالَى كَمَا يُفِيدُهُ كَلَامُ الْهِدَايَةِ حَيْثُ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى لَمْ يَكُنْ حَالِفًا كَالنَّبِيِّ وَالْكَعْبَةِ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "مَنْ كَانَ مِنْكُمْ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاَللَّهِ أَوْ لِيَذَرْ " وَكَذَا إذَا حَلَفَ بِالْقُرْآنِ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَعَارَفٍ اهـ. فَقَوْلُهُ: وَكَذَا يُفِيدُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ قَسَمٍ الْحَلِفُ بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى بَلْ هُوَ مِنْ قَسَمِ الصِّفَاتِ وَلِذَا عَلَّلَهُ بِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَعَارَفٍ، وَلَوْ كَانَ مِنْ الْقَسَمِ الْأَوَّلِ كَمَا هُوَ الْمُتَبَادَرُ مِنْ كَلَامِ الْمُصَنِّفِ وَالْقُدُورِيِّ لَكَانَتْ الْعِلَّةُ فِيهِ النَّهْيَ الْمَذْكُورَ أَوْ غَيْرَهُ لِأَنَّ التَّعَارُفَ إنَّمَا يُعْتَبَرُ فِي الصِّفَاتِ الْمُشْتَرَكَةِ لَا فِي غَيْرِهَا. وَقَالَ فِي الْفَتْحِ: وَتَعْلِيلُ عَدَمِ كَوْنِهِ يَمِينًا بِأَنَّهُ غَيْرُهُ تَعَالَى لِأَنَّهُ مَخْلُوقٌ لِأَنَّهُ حُرُوفٌ وَغَيْرُ الْمَخْلُوقِ هُوَ الْكَلَامُ النَّفْسِيُّ مُنِعَ بِأَنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ مُنَزَّلٌ غَيْرُ مَخْلُوقٍ. وَلَا يَخْفَى أَنَّ الْمُنَزَّلَ فِي الْحَقِيقَةِ لَيْسَ إلَّا الْحُرُوفَ الْمُنْقَضِيَةَ الْمُنْعَدِمَةَ، وَمَا ثَبَتَ قِدَمُهُ اسْتَحَالَ عَدَمُهُ، غَيْرَ أَنَّهُمْ أَوْجَبُوا ذَلِكَ لِأَنَّ الْعَوَّامَ إذَا قِيلَ لَهُمْ إنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ تَعَدَّوْا إلَى الْكَلَامِ مُطْلَقًا. اهـ. وَقَوْلُهُ وَلَا يَخْفَى إلَخْ رُدَّ لِلْمَنْعِ. وَحَاصِلُهُ أَنَّ غَيْرَ الْمَخْلُوقِ هُوَ الْقُرْآنُ بِمَعْنَى كَلَامِ اللَّهِ الصِّفَةُ النَّفْسِيَّةُ الْقَائِمَةُ بِهِ تَعَالَى لَا بِمَعْنَى الْحُرُوفِ الْمُنَزَّلَةِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُقَالُ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ لِئَلَّا يُتَوَهَّمَ إرَادَةُ الْمَعْنَى الْأَوَّلِ.

قُلْت: فَحَيْثُ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُطْلَقَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَخْلُوقٌ يَنْبَغِي أَنْ لَا يَجُوزَ أَنْ يُطْلَقَ عَلَيْهِ أَنَّهُ غَيْرُهُ تَعَالَى بِمَعْنَى أَنَّهُ لَيْسَ صِفَةً لَهُ لِأَنَّ الصِّفَاتِ لَيْسَتْ عَيْنًا وَلَا غَيْرًا كَمَا قَرَّرَ فِي مَحَلِّهِ، وَلِذَا قَالُوا: مَنْ قَالَ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ فَهُوَ كَافِرٌ. وَنَقَلَ فِي الْهِنْدِيَّةِ عَنْ الْمُضْمَرَاتِ: وَقَدْ قِيلَ هَذَا فِي زَمَانِهِمْ، أَمَّا فِي زَمَانِنَا فَيَمِينٌ وَبِهِ نَأْخُذُ وَنَأْمُرُ وَنَعْتَقِدُ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الرَّازِيّ: إنَّهُ يَمِينٌ، وَبِهِ أَخَذَ جُمْهُورُ مَشَايِخِنَا اهـ فَهَذَا مُؤَيِّدٌ لِكَوْنِهِ صِفَةً تُعُورِفَ الْحَلِفُ بِهَا كَعِزَّةِ اللَّهِ وَجَلَالِهِ (قَوْلُهُ: فَيَدُورُ مَعَ الْعُرْفِ) لِأَنَّ الْكَلَامَ صِفَةٌ مُشْتَرَكَةٌ. ( الشامیة، کتاب الإیمان، 3 / 712 - 713، ط: دار الفکر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں