بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

بصائروعبر (اداریے)

تحفظِ ختمِ نبوت اور ملکی وعالمی سیاست !


تحفظِ ختمِ نبوت اور ملکی وعالمی سیاست !

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ و سلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

 

چند ماہ قبل یورپی یونین کے چند ممبران نے قرارداد پیش کی اور ہماری حکومت سے مطالبہ کیا کہ ناموسِ رسالت قانون کو ختم کیا جائے اور ناموسِ رسالت کی توہین کے جرم میں جتنے سزایافتہ قیدی ہیں، ان سب کو رہا کیا جائے اور خصوصاً شفقت مسیح اور شگفتہ مسیح کو رہا کیا جائے۔ حکومت نے ان کے کہنے پر شفقت مسیح اور شگفتہ مسیح کو رہا کردیا۔ اس سے قبل بھی یورپی یونین کا وفد پاکستان آکر ہماری موجودہ حکومت کو مجبور کرکے آسیہ مسیح کو رہا کراچکا ہے۔ حالانکہ سیشن کورٹ، اور ہائی کورٹ انہیں سزائے موت سناچکی تھی، لیکن حکومت نے یورپی یونین کے دباؤ کے سامنے ڈھیر ہوکر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ذریعہ اس کو بری کرکے باہر بھجوادیا، اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے وزیراعظم جب امریکہ کے دورہ پر گئے تو صحافیوں کے سامنے برملا امریکہ کے صدر ٹرمپ کو کہا کہ عوام اور مذہبی جماعتوں کے مطالبات کے برعکس میں نے اس آسیہ کو رہائی دلاکر بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی۔
ان حالات میں اندیشہ ہوگیا تھا کہ اگر پاکستانی عوام نے اس کا مؤثر جواب نہ دیا تو کہیں یہ حکومت اُن کے اس مطالبے کو مانتے ہوئے قانونِ تحفظ ناموسِ رسالت میں کوئی تبدیلی نہ کردے،کیونکہ اس سے پہلے مغرب ہی کے دباؤ پر ’’وقف املاک بل‘‘ اس گورنمنٹ نے قومی اسمبلی سے منظور کیا، اس کے بعد گھریلو تشدُّد بل لایا گیا، اس لیے عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت نے فیصلہ کیا کہ ملک کے بڑے بڑے شہروں میں اجتماعات اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں، تاکہ عوام کے سامنے مغرب خصوصاً یورپی یونین کے ان مذموم عزائم سے مسلمان بھائیوں کو آگاہ کیا جائے اور عوام کی تائید اور تعاون سے حکومتِ پاکستان کے ذریعہ یورپی یونین اور مغرب کو پیغام دیا جائے کہ پاکستانی عوام تمہارے ان مذموم مقاصد کو مسترد کرتی ہے اور تمہیں بتادینا چاہتی ہے کہ ہم مسلمان پاکستانی قوم ہر مشکل سے مشکل فیصلے کو قبول کرسکتے ہیں، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین میں کوئی ترمیم یا ردوبدل قبول نہیں کریں گے۔
اسی سلسلہ میں ۶؍ ستمبر ۲۰۲۱ء کو راول پنڈی لیاقت باغ میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں راول پنڈی، اسلام آباد کے علاوہ آس پاس کے تمام اضلاع اور ڈویژنوں کی خلقِ خدا لاکھوں میں اس اجتماع میں شریک ہوئی۔ اس لیاقت باغ میں میری دانست میں اس سے پہلے اتنا بڑا مذہبی اجتماع کبھی نہیں ہوا۔
۷؍ ستمبر ۲۰۲۱ء کو عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت لاہور کے زیرِاہتمام مینارِ پاکستان پر ایک فقید المثال کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی حاضری بھی لاکھوں میں تھی اور اتنا بڑا اجتماع چاہے مذہبی ہو یا سیاسی مینارِ پاکستان پر کبھی نہیں ہوا۔
۷؍ اکتوبر ۲۰۲۱ء کو ملتان قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جنوبی پنجاب کی سطح پر ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی۔
۲۸، ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۱ء بروز جمعرات ، جمعہ دو دن چالیسویں سالانہ چناب نگر ختمِ نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تمام مسالک کے علمائے کرام شریک ہوئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد انگریز گورنر موڈی نے قادیانیوں کو دریائے چناب کے قریب زمین کا وسیع رقبہ اَلاٹ کیا، انہوں نے دجل سے اس کا نام ربوہ رکھا اور ریاست کے اندر ریاست قائم کرلی۔ مسلمان علمائے کرام نے مطالبہ کیا کہ اس کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور اس کا نام ربوہ سے تبدیل کرکے چناب نگر رکھا جائے، الحمد للہ! مسلمانوں کے یہ مطالبات منظور ہوئے، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت نے وہاں ۹؍ کنال جگہ حاصل کی، ایک مسجد، مدرسہ، ڈسپنسری اور دفتر قائم کیا۔ پھر ۱۵؍ کنال مزید زمین خریدلی، جس میں اور تعمیرات کے علاوہ جلسہ کے لیے ایک پنڈال بھی بنایا گیا، جہاں ہر سال ختمِ نبوت کانفرنس منعقد ہوتی آرہی ہے، جگہ کی تنگ دامنی کے باعث اس بار حکومتِ پنجاب کو درخواست کی گئی کہ مدرسہ سے باہر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے بانی اور سابق امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے نام سے منسوب ’’بنوری پارک‘‘ میں جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے، اس لیے کہ مجمع کی کثرت اور خصوصاً جمعہ کی نماز مسجد اور پنڈال میں ہونے کے باوجود تنگیِ داماں کا شکوہ ہمیشہ رہتا ہے۔ حکومت نے اس کو قبول نہ کیا اور اگلے سال تک اس کو ٹال دیا، البتہ جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت دے دی، الحمد للہ! اس بار جمعہ اس پارک میں پڑھا گیا، جمعہ کے خطبہ اور امامت کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی، اللّٰہم لک الحمد ولک الشکر۔
اس بار اس کانفرنس میں اتنے لوگ شریک ہوئے کہ جمعہ کی نماز میں پورا پارک، اس کے اطراف کی سڑکیںاور مسجد ومدرسہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد آخری خطاب حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم نے فرمایا۔کسی قدر حک واضافہ کے بعد آپ کا خطاب افادۂ عام کی غرض سے یہاں نقل کیا جاتا ہے، آپ نے فرمایا:
’’گرامی قدر امیر عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت، اکابرین علمائے کرام، مشائخِ عظام، بزرگانِ ملت، میرے دوستو اور بھائیو! ہر سال کی طرح اس سال بھی یہاں چناب نگر میں اس عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا ہے۔ میں اس کی کامیابی پر آپ تمام حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایسی کانفرنسوں میں آپ کی شرکت، آپ کی دلچسپی دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پاکستان میں قادیانیت کا عنصر دوبارہ سر نہیں اُٹھا سکے گا۔ یہ برصغیر کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور اس فتنے کی سرکوبی اگر دنیا میں کہیں ہوئی ہے تو یہ شرف پاکستان کی پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اور یہ تاریخ کے اوراق پر ایک ایسا نقش ہے کہ جسے آنے والا مؤرخ کبھی بھی محو نہیں کرسکے گا۔ 
اللہ تعالیٰ اپنے دین کا محافظ ہے اور ختمِ نبوت کے عقیدے کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے ہی کرنی ہے، ہم تو ایک سبب کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اگر اللہ نے ہمیں اس مقصد کے لیے چنا ہے تو ہمارے لیے اس سے بڑی خوش بختی اور نہیں ہوسکتی، ہمیں اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اس پر قادر تھا اور ہے کہ ہمیں فاجر، فاسق لوگوں کے گروہوں میں جاکر بٹھا دے، ہمیں ڈاکوؤں اور غنڈوں کے گروہوں میں جاکر بٹھا دے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں علماء کا ماحول دیا ہے، دین داروں کا ماحول دیا ہے، اہلِ علم کا ماحول دیا ہے اور روحانی طور پر ایک خوشبودار اور خوشگوار ماحول دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ زندگی کے آخری سانس تک ہمیں اسی ماحول سے وابستہ رکھے۔
میرے محترم دوستو! جس وطن عزیز کو ہم نے ’’لا إلٰہ إلا اللہ‘‘ کے نعرے سے حاصل کیا تھا اور جس نعرے کی اَساس پر پورے برصغیر کے مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں، سات دہائیاں اس ملک کی گزر چکی ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ آج بھی اسلام کے نام لیوا مضطرب ہیں، ہمیں اس وقت بھی اسلام کے بارے میں تشویش ہے۔ یہ ملک اگر اسلام کے نام پر بنا تھاتو یہاں پر اسلام کو محفوظ ہونا چاہیے تھا، پھر اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ہم اسلام کی حفاظت کی جنگ لڑتے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسلام کی حفاظت کرتی، لیکن یہاں تو ریاست اسلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، وہ تو مغرب کی غلامی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مغربی تہذیب، مغربی فکر، اور مغربی سوچ اُن کے اوپر مسلط ہے، اور اپنے مشوروں میں ایک بات پر ساری سوچ مرکوز ہوتی ہے کہ ہم کون سی ایسی بات کریں، کون سا ایسا کام کریں کہ جس سے مغرب ہم سے راضی ہوجائے، اللہ کو راضی کرنے کی کوئی سوچ نہیں۔ کب ہمیں وہ منزل ملے گی؟ کب ہمیں وہ اطمینان ملے گا؟ یہاں تو اگر علماء کرام سیاست سے وابستہ رہتے ہیں تو بار بار انہیں احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ تو شریف لوگ ہیں، آپ کیوں سیاست کررہے ہیں؟ مولوی صاحب! یہ سیاست تو آپ کا کام نہیں ہے۔ لیکن میرا عقیدہ اور ایمان ہے کہ جو شخص اسلام کے نظام سیاست کا انکار کرتا ہے وہ ’’الْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘ کا انکار کررہا ہے۔ 
دینِ اسلام انبیاء کرام(علیہم السلام) سے ہوتا ہوا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر مکمل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو نعمت سے تعبیر کیا اور اس طرح ہمارے اوپر نعمت تمام کردی۔ تو پھر کیا سیاست‘ انبیاء کرام(علیہم السلام) کا وظیفہ نہیں رہا ہے؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاست کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے مملکتی اور اجتماعی نظام کی تدبیر اور اس کا انتظام و انصرام انبیاء کرام علیہم السلام کیا کرتے تھے، ایک نبی جاتا تھا، دوسرا اس کی ذمہ داری کو سنبھالتا تھا، اور اب یہ ذمہ داری میری ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے ذیل میں فرمایا:’’ ولا نبي بعدي‘‘ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ختمِ نبوت کو سیاست کے ذیل میں ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں: ختم نبوت ہی ہماری سیاست کی اَساس ہے۔ اگر علماء کرام سیاست سے لاتعلق ہو جائیں، کمروں اور حجروں میں گوشہ نشینی اختیار کرلیں تو پھر دین ایک نامکمل صورت میں امت سے امت کی طرف منتقل ہوگا۔ ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوگا۔ علمائے کرام! اس کو مکمل بنائیں اور علمائے کرام! ذرا اپنے اندر ہمت پیدا کریں۔
ایک دفعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے مخدوم حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم تشریف لائے تھے، وہاں شیخ الہندؒ سیمینار تھا اور اس سے انہوں نے خطاب کیا اور اس اجتماع میں انہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کی یہ بات نقل کی کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ’’جو علماء کرام محراب میں بیٹھ کر اور حجروں میں بیٹھ کر دین کی اِس خدمت کو اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں، وہ دین کے خادم نہیں، وہ دین کے دامن پر بدنما داغ ہیں۔‘‘ حضرت شیخ الہندؒ کے نام لینے والو! میں نہیں کہہ رہا، ان کے گھر کا بندہ کہہ رہا ہے۔ 
کیا وجہ ہے کہ ختمِ نبوت کا انکار تو قادیانی کر رہا ہے، اسلام سے بغاوت تو قادیانی کر رہا ہے۔ اگر یہ خالصتاً مذہبی مسئلہ ہے تو پھر امریکا اس کو کیوں سپورٹ کر رہا ہے؟ پھر یورپ اس کو کیوں سپورٹ کر رہا ہے؟ ہمارے حکمران کیوں سپورٹ کر رہے ہیں؟ قادیانیت کو سپورٹ کرنا اگر اس سے امریکا کی سیاست کا کوئی تعلق نہیں ہے، یورپ کی سیاست کا کوئی تعلق نہیں ہے، تو پھر ہم بھی کہیں گے کہ ہاں واقعی ہمارا تو اس سے زیادہ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اگر وہ قادیانی اپنے سیاسی مقاصد اور مغرب کے مفادات، انگریز کے مفادات، اور اس کے لیے استعمال ہوتے رہیں، تو پھر حکمرانوں کے مفادات کے لیے کئی ایسے فرقوں کا استعمال ہونا اور ظالم قوتوں کے لیے اور مستعمر قوتوں کے لیے جو قوت استعمال ہوتی ہے، پھر اس کا مقابلہ کرنا اس کو بھی پھر اس طرح کی سیاست نہ کہا جائے۔ 
اے قادیانیو! تم تو امریکا کے لیے استعمال ہوتے ہو، تم تو انگریز کا خود کاشتہ پودا ہو۔ اسلام کو کمزور کرنے کے لیے پورا یورپ تمہیں سپورٹ کرے اور ہم اس کے مقابلہ میں پارلیمنٹ میں بات کریں، عوام میں بات کریں تو تم کہو کہ اس مسئلہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، یہ کتنا بڑا ظلم ہے! ۔
علمائے کرام! ذرا میری باتوں پر غور کریں۔ میں ایک مشن رکھتا ہوں، ایک نصب العین رکھتا ہوں، میں اپنے نصب العین کی طرف آپ کو بلاتا ہوں۔ میں اسلام کی جامعیت ، اس کی ہمہ گیریت اور اس کی آفاقیت کی طرف آپ کو بلاتا ہوں۔ آئیے! اس مقصد کے لیے ایک ہو جائیے۔ آج کے حکمرانوں کو جس راستے سے ایوان کے اقتداروں تک پہنچایا گیا، یہ مفت میں نہیں تھا۔ یہ ایک ایجنڈے کے ساتھ تھا، اس ایجنڈے میں قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان قرار دینا، اس ایجنڈے میں انسدادِ توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کرنا، توہینِ رسالت کے مرتکب لوگوں کو جیلوں سے نکال کر رہا کرنا اور آج بھی تحریری طور پر مغرب کی طرف سے جو خطوط آتے ہیں، ان کی رپورٹس آتی ہیں، وہ سب یہ باتیں کہہ رہے ہیں۔ 
تو پھر ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ اب تک حکمران ایسا کیوں نہیں کرپائے؟ میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے آپ کے سامنے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ نہیں کہ وہ نہیں کرنا چاہتے۔ الحمدللہ! ہم نے کرنے نہیں دیا، ہم نے ان کو اس میدان میں شکست دی ہے، اور میں آج بھی اپنے حکمرانوں کو اس اجتماع سے پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ جو عزائم تمہارے اندر موجود ہیں، واپس ہوجاؤ، ورنہ پھر انتہائی ذلت اور ناکام انجام کا انتظار کرو۔
یہ باتیں اور وعدے کرچکے ہیں، جتنا ان کے بس میں تھا، وہ کرچکے ہیں۔ ہم تمہارے عزائم جانتے ہیں، شاید کسی مدرسے کے حجرے میں پڑھانے والا مدرس نہ جانتا ہو، شاید کسی محراب میں محصور ایک مولوی صاحب نہ جانتا ہو، لیکن ہم میدان کے لوگ ہیں اور سیاست کی غلام گردشوں میں چالیس سال آوارہ گردی کرتے کرتے گزر گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں، تمہارے عزائم کیا ہیں! تم کیا سوچتے ہو! لیکن ہم پرعزم ہیں اور ان شاء اللہ! دینِ اسلام، پاکستان کے آئین کی اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے عقیدے اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے آج کا یہ جلسہ عزم کرتا ہے کہ ہم ہر قیمت پر اس کی حفاظت کریں گے، اور اس کے لیے جان دینا پڑی تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ 
میرے محترم دوستو! پاکستان میں آپ کو دو طرح کے لوگ نظر آئیں گے، کچھ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں، سیکولر کہتے ہیں اور ہم اپنے الفاظ میں ان کو مذہب بیزار کہتے ہیں۔ یہ طبقہ پاکستان کے خلاف بولے، پاک فوج کے خلاف بولے، یہ طبقہ پاکستان کے جرنیلوں کو گالیاں دے، تب بھی وہ محفوظ ہیں اور اگر کوئی مذہبی تنظیم اس ملک میں اللہ کے دین کی بات کرتی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اسے دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے۔ آج بھی آپ مناظر دیکھ رہے ہیں، یہ امتیاز کیوں ہے؟ مطالبہ جائز بھی ہوسکتا ہے، غلط بھی ہوسکتا ہے، اس سے آپ اختلاف بھی کرسکتے ہیں، لیکن اپنے مطالبے کے لیے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مظاہرہ کرنا یہ کون سا جرم ہے کہ آپ ان کو غدار بھی کہیں، دہشت گرد بھی کہیں، ان پر گولیاں بھی چلائیں۔ یہ کون سا انصاف کا راستہ ہے؟! تو انصاف والو! پھر یہ انصاف کی تحریک نہیں ہے، آپ کے رویوں سے انصاف تاریک نظر آتا ہے۔ 
مجلس تحفظِ ختمِ نبوت اس محاذ پر جو کام کر رہی ہے، ہم ان شاء اللہ! اس محاذ پر ان کے سپاہی کی طرح کام کریں گے اور اس ملک کو ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی مملکت بنانے کی تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔ 
ہم سب ایک صف میں ہیں اور ایک محاذ پر ہم نے لڑنا ہے اور حکمرانوں کو اتنا بتادینا چاہتے ہیں کہ ہماری ایک تاریخ ہے اور جب ہم اپنی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو الحمد للہ! ثم الحمد للہ! ہماری تاریخ اور ہمارے اکابر و اسلاف کی تاریخ میں خوف نام کی کوئی چیز ہمارے قریب سے نہیں گزری۔
میرے محترم دوستو! ہم اس محاذ پر آگے بڑھیں گے اور اپنے عقائد کا تحفظ کریں گے، آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں، اس کے لیے آپ اپنی تاریخ پڑھ لیں۔ آپ کی تاریخ خود آپ کے لیے ایک سبق ہے، آپ کی ماضی کی تاریخ وہ آپ کے مستقبل کی روشنی ہے۔ اس میں ہم نے اور آپ نے اپنے مستقبل کو طے کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دین کا حافظ اور محافظ ہو، اور رب العزت اس راستے میں ہمیں خدمت کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔‘‘