
میرے شوہر نے بینک میں کافروں والا کاغذ زکوۃ معاف کروانے کے لیے پیپر سائن کر دیا، جس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئے اور اس کے لیے انہیں تجدیدِ اسلام اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے، لیکن میں تنسیخِ نکاح چاہتی ہوں؛ کیوں کہ میں بہت سالوں سے اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی تھی، اس لیے اب تنسیخِ نکاح چاہتی ہوں، اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائلہ کے شوہر نے کسی ایسے کاغذ پر سائن کیا جس میں اپنے مذہب کو اسلام کے علاوہ ظاہر کیا ہو اور اس پر دستخط کیا ہو تو اس صورت میں وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں اور ان کو تجدید اسلام اور جدید نکاح کی ضرورت ہے ۔
اور تجدیدِ نکاح کے لیے بہرحال بیوی کی رضامندی ضروری ہے ، اگر بیوی رضامند نہ ہو اور نکاح نہ کرے تو پھر یہ نکاح منعقد نہیں ہو سکتا۔
البتہ اگر شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، اور وہ سچی توبہ کرتاہے، جس کی تکمیل یہ ہوگی کہ وہ سابقہ فارم سے رجوع کرکے خود کو فارم میں مسلمان لکھے، تو بیوی کو چاہیے کہ وہ اس بنیاد پر تجدیدِ نکاح سے منع نہ کرے۔ البتہ اگر کسی صورت میں اس شخص کے ساتھ نباہ کا امکان نہ ہو تو اس صورت میں اگر عورت تجدیدِ نکاح نہ کرے، تو دونوں کے مابین نکاح ختم ہو چکا ہے اور اب یہ عورت اس مرد کی بیوی نہیں رہی ہے، لہٰذا اسے عدالت سے تنسیخِ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ بینک سیونگ اکاؤنٹ سے زکاۃ کی کٹوتی کرتے ہیں، جب کہ کسی مسلمان کے لیے سیونگ اکاؤنٹ اپنے اختیار سے کھولنے کی شرعًا اجازت نہیں ہے، اور غیر اختیاری طور پر اگر سیونگ اکاؤنٹ کھول دیا گیا تو اولًا اسے بند یا کرنٹ اکاؤنٹ سے تبدیل کردیا جائے، بصورتِ دیگر بینک کو رمضان المبارک سے پہلے درخواست دے دی جائے کہ میری زکاۃ نہ کاٹی جائے میں اپنے مال کا حساب خود کروں گا، یا اگر اکاؤنٹ میں موجود رقم کسی اور کی امانت ہے تو بینک کی انتظامیہ کو بتادیا جائے، ایسی صورت میں زکاۃ نہیں کاٹی جاتی۔
(درمختار مع الشامی: ۴/۳۶۶):
" وارتداد أحدهما أي الزوجین فسخ فلاینقص عدداً عاجل بلا قضاء..." الخ
فقط واللہ اعلم
fatwa_number : 144207201332
darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town