
کیا شیعہ، سنّی کا نکاح جائز ہے؟
اگرکسی شیعہ (خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو) کا عقیدہ یہ ہوکہ قرآنِ کریم میں تحریف (ردوبدل) ہوئی ہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتاہو، یا ان کے جو بارہ امام ہیں، ان کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا اللہ تعالیٰ سے غلطی کے صدور کا قائل ہو یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو اس طرح کے عقائد کا حامل کوئی بھی فرد مسلمان نہیں ہے؛ لہذا مذکورہ عقائد رکھنے والے شیعہ سے کسی سنّی کا نکاح جائزنہیں ہے، اگر نکاح کرلے تو وہ نکاح کالعدم شمار ہوگا، اور فی الفور علیحدگی لازم ہوگی۔
البتہ اگر شیعہ اپنے باطل عقائد سے صدقِ دل سے توبہ کرکےمعتبر گواہوں کے سامنے اسلامی عقائد کے اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ، باطل عقائد سے مکمل براء ت کا اظہار کرے اور صحیح اسلامی عقائد کا دل و جان سے اقرار کرلے تو اس سے نکاح جائز ہوگا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"و منها أن لاتكون المرأة مشركةً إذا كان الرجل مسلمًا، فلايجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن} [البقرة: 221] ، ويجوز أن ينكح الكتابية؛ لقوله عز وجل: {والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم} [المائدة: 5] .
والفرق أن الأصل أن لايجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح."
(كتاب النكاح، فصل أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، ج:2، ص:270، ط:دارالكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام."
(كتاب النكاح، فصل فى المحرمات، ج:3، ص:46، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله اعلم
fatwa_number : 144207201028
darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town