
میں نے عصر کی نماز ادا کی، اب مغرب کا وقت ہونے میں 5 منٹ باقی ہیں اور مجھے استنجا کی حاجت محسوس ہو رہی ہے اور میرا وضو برقرار ہے، تو کیا اس حالت میں مغرب کی نماز پڑھ سکتے ہیں یا استنجا کر کے پھر وضو ضروری ہے؟
جس وقت پیشاب یا پاخانے کا تقاضا شدید ہو، ایسے وقت نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ اسی طرح اگر نماز کے دوران پیشاب یا پاخانہ زور کرے تو نماز توڑ کر فراغت کرکے پھر نماز پڑھنا چاہیے۔ اور اگر اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو نماز کراہت کے ساتھ ہوجائے گی اور گناہ ہوگا۔ لیکن اگر وقت تنگ ہو اس طور پر کہ اگر وضو میں مشغول ہوگا تو نماز کا وقت ختم ہوجائے گا تو پہلے نماز پڑھ لے؛ اس لیے کہ نماز قضا کرنے کا گناہ زیادہ سخت ہے بنسبت کراہت کے ساتھ نماز پڑھنے کے۔ صورتِ مسئولہ میں چوں کہ وقت تنگ ہونے کا عذر نہیں ہے؛ اس لیے پہلے پیشاب پاخانہ استنجا سے فارغ ہوکر وضو کرے پھر مغرب کی نماز پڑھے۔
پیشاب پاخانہ لگے ہونے کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت احادیثِ مبارکہ میں آئی ہے۔ ذیل میں چند احادیث نقل کی جاتی ہیں:
’’عن هشام بن عروة، عن أبيه، أن عبد الله بن الأرقم كان يؤم أصحابه، فحضرت الصلاة يومًا، فذهب لحاجته، ثم رجع، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: إذا وجد أحدكم الغائط فليبدأ به قبل الصلاة.‘‘
(موطأ الإمام مالك، ج:1، ص:200، ط: مؤسسة الرسالة)
ترجمہ: حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کرایا کرتے تھے، ایک دن جماعت کا وقت ہوگیا تو آپ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : جب تم میں سے کسی کو پاخانہ لگا ہو تو نماز پڑھنے سے پہلے اس سے فارغ ہولے۔
’’عن ثوبان رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لايحلّ لامرئ أن ينظر في جوف بيت امرئ حتى يستأذن، فإن نظر فقد دخل، و لايؤم قومًا فيخص نفسه بدعوة دونهم، فإن فعل فقد خانهم، و لايقوم إلى الصلاة و هو حقن.‘‘
(سنن الترمذي، ج:2، ص:189، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ دوسرے کے گھر میں تانک جھانک کرے بغیر اس کی اجازت کے، اور اگر اس نے ایسا کیا تو (گویا کہ) وہ اس میں داخل ہوگیا، اور کوئی امام جماعت سے نماز پڑھائے تو صرف اپنے ہی لیے دعا نہ کرے مقتدیوں کو چھوڑ کر، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان کے ساتھ خیانت کی، اور کوئی شخص اس حالت میں نماز کے لیے کھڑا نہ ہو کہ وہ پیشاب پاخانہ کو روکتا ہو۔
’’عن أبي أمامة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يصلي الرجل وهو حاقن.‘‘
(سنن ابن ماجه، ج:1، ص:102، ط: دار إحياء الكتب العربية)
ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص اس حالت میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پاخانہ کو روکتا ہو۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج:2، ص:35، ط: دار الكتاب الإسلامي):
’’ومنها أن يدخل في الصلاة وقد أخذه غائط أو بول وإن كان الاهتمام يشغله يقطعها وإن مضى عليها أجزأه وقد أساء وكذا إن أخذه بعد الافتتاح والأصل فيه ما رواه مسلم عن عائشة - رضي الله عنها - قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا صلاة بحضرة طعام ولا وهو يدافعه الأخبثان» وجعل الشارح مدافعة الريح كالأخبثين وأن الحديث محمول على الكراهية ونفي الفضيلة حتى لو ضاق الوقت بحيث لو اشتغل بالوضوء يفوته يصلي لأن الأداء مع الكراهية أولى من القضاء ومنها أن كل عمل قليل لغير عذر فهو مكروه كما لو تروح على نفسه بمروحة أو كمه والله سبحانه وتعالى أعلم.‘‘
الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:1، ص:641، ط: دار الفكر-بيروت):
’’(و صلاته مع مدافعة الأخبثين) أو أحدهما (أو لريح) للنهي.
قال في الرد:
(قوله: و صلاته مع مدافعة الأخبثين إلخ) أي البول و الغائط. قال في الخزائن: سواء كان بعد شروعه أو قبله، فإن شغله قطعها إن لم يخف فوت الوقت، وإن أتمها أثم لما رواه أبو داود «لا يحل لأحد يؤمن بالله و اليوم الآخر أن يصلي و هو حاقن حتى يتخفف» ، أي مدافع البول، و مثله الحاقب: أي مدافع الغائط و الحازق: أي مدافعهما و قيل مدافع الريح اهـ. و ما ذكره من الإثم صرح به في شرح المنية و قال لأدائها مع الكراهة التحريمية. بقي ما إذا خشي فوت الجماعة و لا يجد جماعة غيرها، فهل يقطعها كما يقطعها إذا رأى على ثوبه نجاسة قدر الدرهم ليغسلها أو لا، كما إذا كانت النجاسة أقل من الدرهم؟ و الصواب الأول، لأن ترك سنة الجماعة أولى من الإتيان بالكراهة: كالقطع لغسل قدر الدرهم فإنه واجب، ففعله أولى من فعل السنة، بخلاف غسل ما دونه فإنه مستحب فلا يترك السنة المؤكدة لأجله، كذا حققه في شرح المنية.‘‘
الفتاوى الهندية (ج:1، ص:107، ط: دار الفكر):
’’ويكره التمطي وتغميض عينيه وأن يدخل في الصلاة وهو يدافع الأخبثين وإن شغله قطعها وكذا الريح وإن مضى عليها أجزأه وقد أساء ولو ضاق الوقت بحيث لو اشتغل بالوضوء يفوته يصلي؛ لأن الأداء مع الكراهة أولى من القضاء.‘‘
فقط و الله أعلم
fatwa_number : 144203201086
darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town