بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1447ھ 09 جون 2026 ء

darulifta

 

سنی کی نماز جنازہ اہلِ تشیع کے طریقے کے مطابق ادا کرنا


question

ایک شخص جو خود اہلِ  سنّت مکتب پر تھا،  لیکن اس کے گھر میں ماں اور دیگر رفقاء اہلِ تشیع تھے اور انتقال کے بعد شیعہ رفقاء نے جنازہ اپنے عقیدے سے کروا دیا، اس میں مرحوم کے بارے میں کیا حکم ہے؟  نیز اب ان کی اولاد چاہتی ہے کہ ان کی غائبانہ نمازِ  جنازہ  پڑھی جائے۔  اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

answer

بصورتِ مسئولہ سنی کی  نمازِ  جنازہ  اہلِ  تشیع کے عقیدے کے مطابق ادا کرنا شرعاً درست  نہیں  تھا،  یہ  نماز  ادا نہیں  ہوئی، فرضِ کفایہ ادا نہیں ہوا۔  اہلِ سنت  پر اس کا  جنازہ   دوبارہ  پڑھنا لازم تھا،  نہ   پڑھنے  کی صورت میں ایسے  جنازے کا حکم یہ ہے کہ  جب تک میت  کے قبر میں پھٹنے اور گلنے  کا گمان نہ ہو اس وقت تک قبر پر جنازے کی نماز پڑھنا فرض ہے۔ اور اگر گمان یہ ہو کہ میت پھٹ گئی ہے تو پھر جنازے کی نماز پرھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر مرحوم کے مسلمان اعزہ  ہوں تو انہیں چاہیے کہ وہ مرحوم کی بخشش کے لیے ایصالِ  ثواب اور دعاؤں کا اہتمام کریں، اور اگر وہ اس کی نمازِ جنازہ شرعی طریقے کے مطابق ادا کرنے پر قادر تھے تو فرضِ کفایہ ترک کرنے پر توبہ و استغفار بھی کریں۔  باقی غائبانہ  طور  پر  نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔

"(ويكره) تنزيها (إمامة عبد) ... (ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ... (وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله: إن الله تعالى جسم كالأجسام وإنكاره صحبة الصديق (فلايصح الاقتداء به أصلًا) فليحفظ."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج: 1، صفحہ: 559 و 562، ط: ایچ، ایم، سعید)

وفیہ ایضا:

(والصلاة عليه) صفتها (فرض كفاية) بالإجماع فيكفر منكرها لأنه أنكر الإجماع قنية (كدفنه) وغسله وتجهيزه فإنها فرض كفاية.

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازہ، ج: 1، صفحہ: 207، ط: ایچ، ایم، سعید)

(وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح.

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازہ، ج: 2، صفحہ: 224، ط: ایچ،ایم، سعید) 

الکفایۃ بشرح الھدایۃ میں ہے:

ويكره الاقتداء بصاحب الهوى  والبدعة والحاصل أن كل من كان أهل قبلتنا ولم يفعل  في هواه حتى يحكم بكفره تجوز الصلاة (مع الكراهية التحريمية) وإن كان هوى يكفر أهلها كالجهمي والقدري الذي قال بخلق القرآن والرافضي الغالي الذي ينكرخلافة  أبي بكر لاتجوز.

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج: 1، صفحہ: 305، ط: رشیدیہ) 

فقط واللہ اعلم


fatwa_number : 144204200861

darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town



search

ask_question

required_question_if_not_exists_then_click

ask_question