
میری بیوی مہندی لگانے کا کام کرتی ہے، لوگوں کے گھر پر جاکر، وہ مہندی بھی خود خریدتی ہے، سوال یہ ہے کہ اب وہ اس کی جائز اجرت/چارجز کتنے لے؟
خواتین کے لیے مہندی لگانا یا لگوانا جائز ہے، اس کام پر اجرت لینا بھی جائز ہے، اور اجرت کی مقدار شریعت کی طرف سے مقرر نہیں ہے، باہمی رضامندی سے کوئی بھی اجرت طے کی جاسکتی ہے۔
البتہ شریعتِ مطہرہ میںعورت کو پردہ میں رہنے کی بہت تاکید آئی ہے اور عورت کا بلاضرورت گھر سے نکلنا شرعًا سخت ناپسندیدہ ہے، لہذا مجبوری کے بغیر عورت کے لیے گھر سے باہر ملازمت کے لیے نکلنا درست نہیں ہے، ہاں مجبوری کی صورت میں پردہ کے اہتمام کے ساتھ، نامحرموں کے اختلاط سے بچتے ہوئے ملازمت کرسکتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی اہلیہ کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ گھر کے اندر ہی مہندی لگانے کا پیشہ اختیار کرنے کی ترتیب بنالے، اور اگر گھر میں ترتیب نہ بن سکتی ہو اور مجبوری بھی ہو تو آپ کی اہلیہ پردہ کے اہتمام کے ساتھ مہندی لگانے کا کام کرسکتی ہیں اور اس میں پر باہمی رضامندی سے طے کرکے اجرت لے سکتی ہیں۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :
"ففي شرعة الإسلام الحناء سنة للنساء، ويكره لغيرهن من الرجال إلا أن يكون لعذر لأنه تشبه بهن اهـ. ومفهومه أن تخلية النساء عن الحناء مطلقا مكروه أيضًا لتشبههن بالرجال وهو مكروه اهـ."
(7/ 2818ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
fatwa_number : 144211200584
darulifta : Jamia Uloom Islamiyyah Allama Muhammad Yousuf Banuri Town