بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

 ہیومن اِزم اور ہیومن رائٹس  ملحدانہ افکار کا ایک طائرانہ مطالعہ (قسط:۱)


 ہیومن اِزم اور ہیومن رائٹس 

ملحدانہ افکار کا ایک طائرانہ مطالعہ

(قسط:۱)


پاکستان اس وقت بھیانک معاشرتی اور نظاماتی تبدیلیوں کے دوراہے پرکھڑا ہے، فکرو نظر میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے، اسلامی اقدار اور روایات کو مسمارکرنے کی مذموم مہم چلائی جارہی ہے، نوجوانوں کو دین سے برگشتہ اور اِلحادی نظریات سے متاثر ہونے کا ماحول دیا جارہا ہے، ریاستی سطح پر ایسے قوانین رائج کیے جارہے ہیں جو ہمارے معاشرے کی ساخت کوتبدیل کررہے ہیں۔‘‘ ٹرانس جینڈر ایکٹ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تبدیلی کایہ عمل عین سترہویں صدی کے یورپ سے مماثلت رکھتاہے، جب وہاں اِلحادی نظریات کا منہ زور سیلاب آیا ہوا تھا اور یورپی معاشرہ مادرپدر آزاد تہذیب کے سیلاب میں بہے جارہا تھا۔
 اس تحریرمیں یہ بات جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ یورپ کا عیسائی معاشرہ اور خود عیسائیت ملحدانہ نظریات کا شکارہوکر کیوں تباہ ہوئی؟ آج مغربی معاشرے کی جو ساخت ہے، اس کے پس منظر میں کیا فکروفلسفہ کار فرما ہے؟ اور کس طرح یہ جاہلیتِ جدیدہ عالمِ اسلام کو متاثراور مسلم معاشروں کی تخریب کر رہی ہے؟!
آج ہمارا مقابلہ عیسائیت اور یہودیت سے من حیث المذہب نہیں، اس لیے کہ یہ مذاہب اپنی اصل کے اعتبار سے نابود ہوچکے ہیں، ان مذاہب کی چندعلامتی رسوم باقی رہ گئی ہیں۔ آج ہمارا اصل مقابلہ مغربی فکر اور تہذیب سے ہے۔ 
 سیکولراِزم اور لبرل اِزم کے مباحث جو پہلے بند کمروں میں، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کلاسوں میں یا ادبی تقریبات میں ہوتے تھے، ذرائع ابلاغ کی عمومیت سے معاشرے میںعام ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے مغربی آدرشوں کو تیزی سے پروان چڑھایا جارہا ہے۔ اب نہ صرف کھلے عام یہ کہنا کہ ’’میرا کوئی مذہب نہیں‘‘ آسان ہوگیا ہے، بلکہ مذہب کامضحکہ اُڑانا اور مقدس شخصیات کی توہین کرنابھی ایک فیشن بن گیا ہے۔ اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے وہ تمام تانے بانے جو دین وشریعت سے ماخوذومستفادتھے، ایک ایک کرکے ٹوٹتے چلے جارہے ہیں۔ ’’ہیومن رائٹس‘‘ پر تو سب متفق نظر آتے ہیں، اور انہیں جدید زندگی کا لازمہ تصور کیا جارہا ہے۔ آج کا دین دار طبقہ ان مباحث کی مبادیات سے ناواقف ہونے کی بنا پر اس کا ایسا رد پیش نہیں کرپا رہا جو اُنہیں بیخ وبن سے اُکھاڑ پھینکے۔ مغرب پرتنقید ہوتی ہے تو اس کے چند ظواہر پر، مثلاً وہاں فحاشی عریانی ہے، خاندان بکھر گئے ہیں، فرد تنہا ہوگیا ہے، وغیرہ … لیکن یہ سب کیسے ہوا؟ کیوں ہوا؟ ان سوالات کا جواب اُن کے پاس نہیں۔

معاشرے میں تبدیلی کیسے واقع ہوتی ہے؟

کسی بھی اقداری اور معاشرتی تبدیلی سے قبل انسان کے عقائدوافکار اور خیالات میں تبدیلی آتی ہے۔ عقائداور نظریات کے اثرات لازماً انسان کے قول وفعل پر رونما ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ انسان کا عقیدہ جس قدر راست، پاکیزہ اور وحیِ الٰہی کے مطابق ہوگا، اسی قدر انسان کی شخصیت میں، اس کے کردار وافعال میں پاکیزگی ہوگی ؛ اور انسان سے ایسے افعال واعمال کا صدور ہوگا جو معاشرے میں امن وسلامتی اور صلاح وفلاح کو عام کریں گے۔ انسان کے عقائد ونظریات جس قدر وحیِ الٰہی سے دور ہوں گے؛ اسی قدر اس کے افعال واقوال اور کردار میں بگاڑ، پستی اور پراگندگی بڑھتی جائے گی۔ اس کی ذات سے ایسے اعمال کا صدور ہوگا جو زمین کوفساد سے بھر دیں گے۔

یورپی معاشرے میں تبدیلی کیسے واقع ہوئی؟

یورپ میں آنے والی اعتقادی اور فکری تبدیلیوں کے آغاز کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یورپ کا عیسائی معاشرہ اپنے لا یعنی اور باطل عقائد کے سبب ذہنی فکری کشمکش کاشکار ہوچکا تھا۔ اس کشمکش کا سبب عیسائی پادری تھے، جنھوں نے عیسائی تعلیمات پر اپنی خواہشات کا لبادہ اوڑھایا۔
عیسائیوں نے دو اَدیان کو ملا کر ایک دین بنایا تھا: ایک انبیاء موحدین کا دین اور ایک مشرکین کا دین، یعنی ان کے دین میں ایک حصہ تو انبیاء کرام علیہم السلام  کی تعلیمات کا تھا اور ایک حصہ اُن اقوال و افعال کا تھا جو انہوںنے مشرکوں کے دین سے لے کر شامل کیے تھے۔ اسی طرح انہوںنے ’’اقانیم‘‘ کے الفاظ ایجاد کیے، جن کا انبیاء کرام  علیہم السلام  کے کلام میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تین اقانیم کا مجموعہ ہے، یہ تینوں الگ الگ ہیں،مگر ایک دوسرے سے جدا بھی نہیں۔ باپ (اللہ) خدا ہے، بیٹا (عیسیٰ  علیہ السلام ) خدا ہے، اور روح القدس (جبریل  علیہ السلام ) بھی خدا ہے، مگر یہ تین نہیں، ایک خدا ہے۔ اسے عقیدۂ تثلیث بھی کہتے ہیں۔
 اسی طرح اُنہوں نے مجسم اور سایہ دار بتوں کی جگہ وہ بت ایجاد کیے جن کا سایہ نہیں ہوتا۔ آفتاب اورچاند کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے، موسم بہار میں روزہ رکھنے کو دین میں شامل کیا، تاکہ بزعمِ خویش دینِ شرعی اور اَمرِ طبعی دونوں کو وہ جمع کرلیں۔
عیسائی اعتقادات کے مطابق چوں کہ حضرت آدم ( علیہ السلام ) نے گناہ کیا تھا اور اسی کی بدولت جنت بدر ہوئے تھے، لہٰذا ہر انسان کو آدم  علیہ السلام  کا گناہ وراثت میں ملتا ہے، اس لیے اللہ نے اپنے بیٹے عیسیٰ  علیہ السلام  کو جو خود( عیسائیوں کے نزدیک) خدا بھی تھے، دنیا میں بھیجا اور اُنہوںنے صلیب پر جان دے کر سارے انسانوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا، چنانچہ جو کوئی بھی عیسائیت قبول کرے گا‘ نجات پائے گا۔ عیسائیوں کا عقیدۂ تثلیث یعنی باپ ( خدا) بیٹا (عیسیٰ) اور روحِ قدس، یہ تینوں خدائی میں برابر کے شریک ہیں۔ عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی یونانی مذہب کے اس تصور سے مستعار ہے کہ ’’دیوتا‘‘ انسانی جسم میں حلول کرسکتا ہے۔ عیسائیت پر ارسطوی فکربھی غالب رہی، ایک وقت تک عیسائیت اپنے اعتقادات کو نص کی بجائے ارسطو کی منطق سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن جب ارسطو کی فکرپر نقد ہوا اور وہ لغو ثابت ہوئی تو گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی سے عیسائی عقائد کی معقولیت کو خود پادریوں نے چیلنج کرنا شروع کردیا، بالخصوص نظریۂ تثلیث ہدفِ تنقید بنایا گیا۔
اس طرح عیسائیت کے داخلی اعتقادی انتشارنے یورپ میں لا دینی تہذیب کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا، ظاہر ہے کہ اس ملغوبہ قسم کے مذہب کو قبول کرنا انسانیت کے لیے آسان نہیںتھا، پھر جب ان محیرالعقول اعتقادات کے ساتھ ریاستی جبر اور تشدد بھی شامل ہوجائے تومذہب سے بغاوت ناممکن نہیں رہتی، یہی کچھ یورپ میں عیسائیت کے ساتھ ہوا، اور کیتھولک عیسائیوں کے مقابل پروٹسٹنٹ کھڑے ہوئے۔ 
عیسائی معاشرے میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے انسانی جسم میںحلول کرنے کا عقیدہ ’’انسان پرستی‘‘ (Humanism) کی بنیاد بنا۔
ہیومن ازم کا دعویٰ ہے کہ انسان خدا کی صفات اپنا کر خدائی اختیارات حاصل کرسکتا ہے۔ خدا کوئی ماورائے کائنات ہستی نہیں، بلکہ محض چند ایسی صفات کا مجموعہ ہے جو انسان اور کائنات کے دیگر اجسام پر حلول کرسکتا ہے، ایسامحض عیسیٰ علیہ السلام  کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ کسی بھی انسان کے وجود میں حلول کرسکتا ہے۔ جب یہ بات تسلیم کرلی جائے تو پھر انسان کا یہ اختیار کہ خیر و شَر کے معیارات اور زندگی گزارنے کے طریقے خود مدوّن اور مروّج کرے، آسان ہو جاتا ہے۔ یورپ میں اس فکر کے پروان چڑھنے کا دورانیہ پندرہویں صدی عیسوی کا ہے۔ اس فکر نے آگے چل کر عیسائیت پر کاری ضرب لگانے کا موقع فراہم کیا (چوں کہ عیسائیت اس وقت ہمارا موضوع نہیں، اس لیے مزید تفصیلات سے احتراز مناسب ہے)۔

ریشنل ازم(عقلیت ) کادور
 

اسی دورانیے میں یورپی مفکرین نے عیسائیت کو ریشنل (Rational (بنیادوں پر پرکھنے کی بِنا ڈالی، کہا گیا کہ: 
’’مذہبی تعلیمات کو پرکھنے کی کسوٹی Reason ہے، اور اس کی تعبیر عقلی بنیادوں پر کیے بغیر بدلے ہوئے زمانوں میں انسانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتیں۔‘‘
یہ ملاحدہ قدیم کا صدیوں سے چلاآنے والا سکہ بند جملہ ہے۔
’’ڈیکارٹ‘‘ (Rene Descartes) جو جدیدیت کا بانی اور پہلا مفکر شمار ہوتا ہے، جس نے ریشنل بنیادوں پر عیسائیت پر فلسفیانہ ضربیں لگائیں‘ نے کہا:
’’ وہ ایک ایسی چیز کو حق کیوں کہے جو محض تصوراتی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ 
یعنی خدا، جنت، دوزخ، حشر، عدالت، وغیرہ۔ڈیکارٹ کا کہنا تھا کہ : 
’’ علمی اور عقلی بنیادوں پر کوئی بھی انسان اپنے سوا کسی بھی چیز کو خواہ وہ خیالات ہوں یا اَقدار، معیاراتِ خیر و شر ہوں یا وحی اور چاہے خدا کا وجود … غرض کسی بھی چیز کا انکار کیا جاسکتا ہے۔ اکیلی میری ذات میرا وجود ہے، جس کا ہونا کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔‘‘
’’میں اپنے اس دنیا میں ہونے کا جواز اپنے اندر رکھتا ہوں، میرا وجود کسی خارجی ذریعے، حقیقتِ مطلق یا خالقِ کائنات کا مرہونِ منت نہیں۔‘‘
’’میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں۔‘‘
سارتر جو مغرب کا اہم مفکرہے ‘کے افکار کاخلاصہ یہ ہے کہ: ذات (Self) کے اندر اس بات کی استطاعت موجود ہے کہ وہ جیسا بننا چاہے بن سکتا ہے۔ وہ اپنی تخلیق خود کرسکتا ہے، اور دنیا کو جیسا بنانا چاہتا ہے بناسکتا ہے۔ انسان بنیادی طورپر کوشش کرتاہے کہ خدا بن جائے، اگر وہ خدا نہیں بننا چاہتا تو یہ Bad Faith ہے۔
sam summer اپنی کتاب (struggling with God) میںکہتاہے: ’’خداانسان ہے اور انسان خداہے، دونوں سے مراد زندگی ہے جومحبت کے لیے مصروفِ کشمکش ہے۔‘‘
’’فیورباخ‘ ‘خداکے وجود کاہی منکر ہے، اس کاکہنا ہے کہ خدا صرف انسان کے دل میں ہوتاہے، اس سے باہر اس کا کہیں وجود نہیں۔
ڈیکارٹ کے گروہ کاخیال ہے کہ:
’’ خدانے کائنات کو بنایا، اب اس کے بعد اس مشینری کو چلانے میں دخل نہیں دیتا۔یہ مشین انسان کے سپرد کردی گئی ہے، لہٰذااب کائنات میں الوہی منصب خود خداکو مل چکا ہے۔‘‘
یہ مغربی مفکرین کے خدا اور انسان کے متعلق خیالات ہیں۔ان خیالات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں کوئی اَن دیکھی ہستی خداکاوجود نہیں رکھتی، ان کے ہاں انسان ہی تمام طاقتوں کا مظہر ہے۔ مغرب‘ مذہب اور خداکوکس طرح خیرباد کہہ چکاہے ؟ اس کااظہار ڈنمارک کے بدبخت شاتم رسول فلیمنگ روز نے ان الفاظ میںکیاتھاکہ:
’’ہم میں اور مسلمانوں میں فکری اور ثقافتی یاتہذیبی فرق یہ ہے کہ ہم نے توخداورسول اور کتاب کاحوالہ اپنے ذہنوں سے اُتار دیاہے۔ہم کوئی فیصلہ کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ بائبل میں کیالکھاہے ؟ کوئی قانون طے کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ خداکیاکہتاہے ؟ کوئی بات کہتے وقت عیسیٰ کاحوالہ نہیں دیتے کہ اس بارے میں انہوں نے کیا کہا تھا؟ ہم آزاد ذہن سے فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

کانٹ … روشن خیالی کا مفکرِاعظم

تحریکِ تنویر کا دوسرا بنیادی مفکر امانویل کانٹ Immanuel Kant)) ہے۔ یہ مغرب میں کانٹے کا مفکر گزرا ہے، اس نے ۱۷۸۴ء میں ایک مختصر تحریر ’’روشن خیالی کیا ہے؟‘‘ لکھی جس نے یورپی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کانٹ انسانی ذات کے بارے میں کہتا ہے کہ:  (Self ) میں ایک ایسا جوہر موجود ہے جس کی بنیاد پر اور جس کے استعمال سے زمان ومکان سے ماوراء ہوکر حقیقت کو جانا جاسکتا ہے۔ بالفاظِ دیگر انسانی ذہن میں وہ ترتیب اور نظم موجود ہے جو انسانی تجربے کو ہیئت (Form) اور معانی (meaning) فراہم کرکے تجربے کو بہ حیثیت تجربہ ممکن بناتا ہے۔ کانٹ کے مطابق ذہن کی اس صلاحیت پر ایمان لانے کے بعد ایسے اصول وقوانین وضع کیے جاسکتے ہیں جو: ۱-مطلق(absolute) ہوں۔ ۲-یقینی(Certain) ہوں۔ ۳-آفاقی (Universal) ہوں۔یعنی وہ ہر معاشرے، نظام اور ریاست پر عمومی اور یکساں طور پر قابلِ عمل و قابلِ نفاذہوں۔
کانٹ کے نزدیک مابعد الطبیعات (اِلہامی تعلیمات) کا سب سے بڑاجرم یہی ہے کہ وہ انسانی خود مختاری  (Human Autonomy) کو خدا کے تابع کرتی ہے، جبکہ خودمختاری انسانیت کا جوہر ہے۔ کسی بھی شے کے حق یا ناحق ہونے کا واحد معیار یہ ہے کہ وہ آفاقی تعقل سے ہم آہنگ ہے کہ نہیں؟!

روشن خیال کون ؟

کانٹ کے مطالعے سے روشن خیالی کا ایک واضح تصور سامنے آتا ہے۔ کانٹ کے مطابق جب انسان اپنی عقل (Reason) کو کسی مقتدرہ (Authority) کے تابع کیے بغیر بذاتِ خود استعمال کرے تو وہ روشن خیال ہے، وہ لکھتا ہے:

"Enlightenment is man's emergence from his self-imposed immaturity  immaturity is the inability to use one's understanding with out guidance from another  this immaturity is self-imposed when its cause lies not in lack of understanding but in lack of resolve and courage to use it without guidance from another 

’’روشن خیالی اس ذہنی ناپختگی سے نجات کا نام ہے جو ہیومن نے خود پر مسلط کررکھی تھی۔ یہ ذہنی ناپختگی فی الاصل دوسروں کی رہنمائی کے بغیر اپنے ریزن کو استعمال نہ کرسکنے کی کیفیت کا نام ہے، مگر اس کی وجہ انسانی ریزن کا عدمِ وجود نہیں، بلکہ انسان میں اس جرأ ت اور پختہ ارادے کی کمی ہے جو اسے کسی اور کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل استعمال کرنے کے قابل بنا سکے۔‘‘
کانٹ کے مطابق ریزن کا مؤثر استعمال ہی انسانی ذہن وارادے کی بلوغت (Maturity) کو یقینی بناتا ہے۔ عدمِ بلوغت(Immaturity) سے بلوغت (Maturity) تک کا یہ عمل ’’روشن خیالی‘‘ ہی کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ عدمِ بلوغت سے کانٹ کی مراد انسانی ارادے کی وہ مخصوص کیفیت ہے جہاں انسان اپنی ریزن کی بجائے کسی اور مقتدرہ کے حق اور اختیار کو تسلیم کرلیتا ہے۔
یہ تحریکِ تنویر یا روشن خیالی کا بنیادی مقدمہ ہے کہ جب انسان کی سوچ اور اِدراکات کی سطح یہاں تک پہنچ جائے کہ وہ محض اپنی عقل پر بھروسہ کرنے لگے تو یہ انسان روشن خیال ہوگیا، اس کی فکر نے جِلا پا لی، اور اب وہ خارجی عوامل پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنی عقل پر بھروسہ کرنے لگا ہے، چنانچہ روشن خیالی کسی بھی خارجی ذریعۂ علم (External Authority) کے انکار کانام ہے۔
Enlightmentکی تعریف یہ کی گئی ہے:
’’انسان کی صمدیت پر ایمان لانا اور یہ ماننا کہ ادراکِ حقیقت کے لیے کسی وحی کی ضرورت نہیں، بلکہ انسان اپنی کلیات کی بنا پر حقیقت جان سکتا ہے۔‘‘

(جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین