بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

بینات

 
 

گلشنِ بنوریؒ کا ایک اور پھول کُملا گیا

 

گلشنِ بنوریؒ کا ایک اور پھول کُملا گیا


الحمد للہ و سلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

 

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ کے تلمیذِ رشید وعظیم شاگرد، آپ کے سفر وحضر کے خادم وعاشقِ زار، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل، رئیس، شیخ الحدیث، مدینہ یونیورسٹی مدینہ منورہ وجامعہ ازہر مصر کے متخصص، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے امیر مرکزیہ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر، اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے صدر، اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے صدر، ہزاروں طلبہ، علماء، شیوخ الحدیث کے استاذ، مربی اور مشفق سرپرست، محبوب العلماء، استاذ الاساتذہ، رئیس المحدثین حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ    ۱۹ذوالقعدۃ۱۴۴۲ھ مطابق ۳۰ جون ۲۰۲۱ء بروز بدھ دوپہر سوا ایک بجے کے قریب چند دن علالت کے بعد عالمِ دنیا کو خیر باد کہہ کر راہیِ عالمِ عقبیٰ ہوگئے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، إن للہ ما أخذ ولہ ما أعطٰی وکل شيء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔
حضرت ڈاکٹر صاحب قدس سرہٗ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کئی کمالات وخصوصیات سے متصف فرمایا تھا، آپ علم دین کی سچی آبرو، طلبہ وعلماء کے لیے مینارۂ نور، زہدوتقویٰ اور امانت ودیانت کا مجسم پیکر، مدارس اور اہلِ مدارس کے لیے ڈھال اور وقار کا باعث، شکستہ اور مجروح دلوں کے لیے مرہم، بے کس اور درماندہ افراد کے لیے سایۂ عاطفت اور خلقِ کثیر کی محبتوں، عقیدتوں اور دل بستگیوں کا مرکز تھے۔ آپ شفقت ومحبت، شرافت ونجابت اور دریادلی اور وسعتِ ظرفی میں بلند مقام پر فائز تھے۔ آپ حددرجہ انسانیت کے خیرخواہ، اُمتِ مسلمہ کے لیے غم خوار، علومِ نبویہ کے طلبہ کے لیے شفیق وہمدرد، مخلوقِ خدا کے لیے رحم دل، اور خالقِ کائنات سے دعا والتجا کے وقت انتہائی رقیق القلب اور خوفِ خدا اور فکرِ آخرت میں آنکھوں سے آنسو بہانے والے انسان تھے۔
آپ کا ہر کام اخلاص پر مبنی ہوتا تھا، دکھلاوے اور ریا سے نفرت تھی، عاجزی وانکساری اور تواضع وفروتنی میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کی فکر کا اُفق بین الاسلامی بلکہ بین الاقوامی تھا، مسلمانوں کے مسائل سے دل چسپی تھی، ان کی دینی اور دنیاوی ترقی سے خوش ہوتے اور دینی تنزُّل اور کمزوری کی خبریں سن کر رنجیدہ اور غمگین ہوتے، حکومتوں اور عوام کی اجتماعی کمزوریوں پر تنبہ فرماتے اور اس کا علاج بھی بیان فرماتے، گویا حق گوئی آپ کا شیوہ تھا، حق کے معاملہ میں کسی کی ملامت کی فکر نہ فرماتے، ہر دور میں جب بھی کسی حکومت نے دین کے خلاف کوئی قدم اُٹھایا، آپ نے اس کے خلاف کلمۂ حق بلند کیا اور نہایت اخلاص کے ساتھ حکمرانوں کو نصیحت فرمائی۔ آپ کے بیان کا موضوع اکثر ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت، اطاعت وانقیاد، اسلامی تہذیب وآداب، اتحاد واتفاق، حقوقِ مسلم کی پہچان اور ان کی ادائیگی ہوتا تھا۔ اختلافی جزئیات اور فروعی مسائل کو قطعاً نہیں چھیڑتے تھے۔
آپؒ کی پیدائش کوکل گاؤں ، ضلع ایبٹ آباد صوبہ کے پی کے میں نیک صفت انسان جناب سکندر خان بن زمان خان ؒ کے ہاں ۱۹۳۵ء میں ہوئی۔ آپ کے والد صاحبؒ اپنے علاقہ میں باوجاہت تھے، تنازعات میں آپ کو فیصل مانا جاتا ، علماء وصلحاء کے قدر دان، نماز باجماعت کے پابند، تلاوتِ قرآن کریم، ذکرِ الٰہی، صلہ رحمی، رأفت وشفقت، مسجد کی تعمیر وترقی اُن کے خصوصی اوصاف تھے، جس کے اثرات آپ کے بچے پر نمایاں ہوئے۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے قرآن کریم اور میٹرک تک تعلیم گاؤں میں حاصل کی، اس کے بعد ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف میں دو سال اور احمدالمدارس سکندرپور میں دو سال پڑھا۔ ۱۹۵۲ء میں کراچی تشریف لائے، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نور اللہ مرقدہٗ کے ادارہ دارالعلوم نانک واڑہ میں داخلہ لیا،درجہ رابعہ سے سادسہ تک یہاں تعلیم حاصل کی۔ درجہ سابعہ اور دورہ حدیث کے لیے محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہٗ کے ادارہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ (جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) میں داخلہ لیا۔ ۱۹۵۶ء میں دورہ حدیث سے فاتحہ فراغ پڑھا۔ حضرت بنوری قدس سرہٗ سے تعارف، تعلق، خدمت، محبت اور جامعہ علوم اسلامیہ میں داخلہ اور تعلیم کی روئیداد حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے اپنے مضمون ’’تأثرات ومشاہدات‘‘میں یوں لکھی ہے:
’’آج سے تقریبا۲۵،۲۶ سال پہلے کی بات ہے، میں ان دنوں دارالعلوم نا نک واڑہ کراچی میں زیرِتعلیم تھا، دارالعلوم میں ایک جلسہ ہوا، جس میں بہت سی بزرگ علمی شخصیات کا اجتماع ہوا، جن میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع  ؒ جیسے حضرات تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک بزرگ تشریف لائے، خوبصورت اور نورانی چہرہ، نہایت بارعب اور پرکشش شخصیت، خوبصورت اور صاف ستھرا جبہ زیب تن، سر پر لنگی اور کلاہ پہنے، سب حضرات نے اُٹھ کر اُن کا پرتپاک استقبال فرمایا، یہ تھے حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ اور یہ میرے لیے آپ کی زیارت کا پہلا موقع تھا اور اسی زیارت سے آپ سے قلبی تعلق قائم ہو گیا۔ اس کے بعد محترم مولانامحمد طاسین صاحب کی قیام گاہ مجلسِ علمی میں کئی بار زیارت کا شرف حاصل ہوتا رہا اور جب آپ نے محرم ۱۳۷۴ھ میں مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن کی بنیاد ڈالی تو انہی دنوں سعودی عرب کے سابق سفیر مرحوم شیخ عبد الحمید الخطیب نے جامع مسجد نیوٹائون میں عشاء کے بعد ’’عربی کلاس‘‘ کا افتتاح کیا۔ اور میرے استاذ محترم مرحوم ڈاکٹر امین مصری نے اس مرکز میں تدریس کا فرض میرے سپرد کیا، میں روزانہ دارالعلوم نانک واڑہ سے نمازِ عصر کے بعد اس مرکز میں عربی پڑھانے آتا اور یہاں سے فارغ ہو کر حضرت شیخ  ؒکی خدمت میں حاضری دیتا، آپ نہایت شفقت فرماتے، میں عرض کرتا کہ حضرت! آپ درجۂ تکمیل کے ساتھ دورہ حدیث اور موقوف علیہ کا درجہ بھی جاری فرمائیں، تا کہ ہم لوگ بھی داخلہ لے سکیں-اس وقت تک حضرت کے مدرسہ میں صرف درجۂ تکمیل کا اجراء ہوا تھا - تو فرماتے کہ ان شاء اللہ ! جلد ہی شروع کریں گے، چنانچہ یہ عربی مرکز تقریباً ایک سال تک اس قرب کا ذریعہ بنا رہا۔
پھر ایک سال بعد جب آپ نے دورہ حدیث اور موقوف علیہ کے درجے کا افتتاح فرمایا اور یہ خادم بھی  مدرسہ میں منتقل ہو گیا تو ہروقت حضرت شیخ کو دیکھنے، سننے اورعلمی استفادہ کا موقع مل گیا۔ نماز میں آپ کے ساتھ رہتا، عصر کے بعد اسا تذہ کے ساتھ مجلس فرماتے تو میں آپ کی مجلس کو ترجیح دیتا، جبکہ میرے ساتھی ٹہلنے کے لیے باہر نکل جاتے، یا کبھی کسی دوست کے ہاں تشریف لے جاتے تو خادم ساتھ ہوتا، جب آپ کے گھر والے ٹنڈوالہ یار سے منتقل ہو کر کراچی آگئے تو گھر کی ضروریات خریدنے آپ ہفتہ میں ایک بار بازار خودتشریف لے جاتے، خادم بھی ساتھ ہوتا، کبھی تنہا مجھے بھیج دیتے، اس قرب اور شفقت کا یہ اثر تھا کہ باہر سے آنے والے ناواقف حضرات اس خادم کو آپ کے گھر کا ایک فرد سمجھتے۔ تعلیم کے دوران ایک دن بھی آپ کے درس سے غیر حاضر نہیں رہا۔ درجۂ تکمیل وتخصص کے امتحان سے پہلے ہی آپ نے مجھے مدرسہ میں مدرس مقرر کرنے کا فیصلہ فرمالیا۔ آپ کے ساتھ اندرونِ ملک، حرمین شریفین، مصر اور مشرقی افریقہ کے بہت سے سفر کرنے اور خدمت کا شرف نصیب ہوا، یہ تمام اُمور میں نے خودستائی کے لیے نہیں، بلکہ یہ واضح کرنے کے لیے ذکر کیے ہیں کہ حضرت رحمۃ الله علیہ سے میرا کتنا گہرا اور تادیر تعلق رہا ہے، تاکہ حضرت شیخ کے بارے میں آپ میرے تأثرات کے صحیح وزن کو محسوس کر سکیں۔‘‘  (اشاعتِ خاص بیاد حضرت بنوریؒ، ص: ۴۱۰، ۴۱۱)
اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں: 
’’الحمد للہ کہ اس خادم کو رفیقِ سفر ہونے کے علاوہ صاحبِ نعلین، صاحبِ مسواک، صاحبِ طہور اور صاحبِ سِرّ ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔‘‘               (اشاعتِ خاص بیاد حضرت بنوریؒ، ص: ۴۱۴)
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’اس خادم کو جب پہلی بار ۱۹۶۱ء میں حجِ بیت اللہ کا شرف نصیب ہوا تو تمام مناسکِ حج حضرت شیخ کی معیت میں ادا کیے، اور آپ نے ہر چیز تفصیل کے ساتھ اور خاص توجہ سے بیان فرمائی اور مستحبات اور عام آداب تک کی پابندی فرمائی کہ آپ کا یہ پہلا حج ہے، اس لیے کوئی چیز چھوٹنے نہ پائے، اور اتنی شفقت فرماتے کہ بعض لوگ پوچھتے : یہ آپ کے صاحبزادے ہیں؟ آپ فرماتے: جی! یہ میرے روحانی بیٹے ہیں۔‘‘                                              (اشاعتِ خاص بیاد حضرت بنوریؒ، ص: ۴۹۰، ۴۹۱)
اسی مضمون کے آخر میں حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے جو دعا لکھی، اس کا ایک حصہ اس طرح ہے: 
’’ اے اللہ! ان (حضرت بنوریؒ) کی چھوڑی ہوئی امانت کی حفاظت، خدمت، اور ترقی کی اہلیت، ہمت اور توفیق عطا فرما۔‘‘                               (اشاعتِ خاص بیاد حضرت بنوریؒ، ص:۴۱۷)
راقم الحروف یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا پوری کی پوری قبول فرمائی اور آپ کو تادمِ زیست اس گلشن کی آب یاری، ترقی، حفاظت اور خدمت کی توفیق من جانب اللہ ملتی رہی اور آپ دورِ طالب علمی سے اپنی وفات تک اپنے شیخ کے گلشن کے نہ صرف گلِ سرسبد رہے، بلکہ اس کی آب یاری سے لے کر اُسے توانا وطاقت ور بنانے میں اپنا تن، من، دھن سب کچھ اس پر نچھاور کردیا۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن میں آپ کے اساتذہ کرام کے اسمائے مبارکہ درج ذیل ہیں:
۱:- محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ  ، ۲:- حضرت مولانا عبدالحق نافع کاکاخیل رحمۃ اللہ علیہ ، ۳:- حضرت مولانا محمد عبدالرشید نعمانی رحمۃ اللہ علیہ ، ۴:- مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن خان ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ ، ۵:- حضرت مولانا لطف اللہ پشاوری رحمۃ اللہ علیہ ، ۶:- حضرت مولانا بدیع الزماں رحمۃ اللہ علیہ 
۱۹۶۲ء میں اپنے شیخ واستاذ حضرت بنوری قدس سرہٗ سے اجازت اور جامعہ سے رخصت لے کر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لیا اور چار سالہ تخصص کیا، مدینہ منورہ کی پڑھائی کے دوران آپ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے، اہلیہ کو بھی ساتھ لے گئے تھے، وہاں آپ کی ایک صاحبزادی کی پیدائش اور وفات ہوئی، حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے: میری طالب علمی تھی، ایک کمرہ کے گھر میں میاں بیوی رہتے تھے، بچی کی وفات پر دل غمگین تھا، حضرت بنوری قدس سرہٗ ملنے گھر تشریف لائے، میں دروازہ پر کھڑا پہلے سے آپ کا انتظار کررہا تھا، آپ نے مجھے دیکھتے ہی سلام کے بعد فرمایا: ’’شفیعۃ في بلد الشفیع‘‘ حضرت بنوری قدس سرہٗ کے اس جملہ سے میرا سارا غم کافور ہوگیا۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد آپ نے دوبارہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تدریس شروع کردی۔ 
اسی تدریس کے دوران ایک مرتبہ مصر کی ’’المجلس الأعلٰی بشئون الإسلامیۃ‘‘ کے رئیس پاکستان تشریف لائے، مختلف مدارس کا دورہ کیا، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے، جامعہ کا معائنہ کیا، مختلف شعبہ جات دیکھے، معائنہ کے دوران حضرت ڈاکٹر صاحب متکلم کے فرائض انجام دے رہے تھے، طلبہ اور اساتذہ کے اجتماع میں کلماتِ ترحیب اور خطبۂ استقبالیہ بھی ڈاکٹر صاحب نے پیش کیا، وہ جامعہ کی کارکردگی اور حضرت ڈاکٹر صاحب سے بھی بہت متأثر ہوئے اور اپنے خطاب میں انہوںنے اعلان کیا کہ میں مصر کی حکومت اور اپنے ادارہ کی طرف سے اس جامعہ کے لیے چار طلبہ کو جامعہ ازہر میں پی ایچ ڈی میں داخلے کی منظوری دیتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان میں پہلا داخلہ استاذ عبدالرزاق کا ہوگا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم داخلہ دیتے ہیں، لیکن ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ طالب علم اپنا ٹکٹ خود خریدتا ہے، لیکن ہم خاص طور پر دو ٹکٹ بھیجیں گے، ایک شیخ بنوری حفظہ اللہ کے لیے اور دوسرا استاذ عبدالرزاق کے لیے، یہ ان کے ساتھ خصوصی معاملہ ہے، لہٰذا اس کے بعد حضرت بنوریؒ ۱۹۷۲ء میں مصر گئے اور حضرت ڈاکٹر صاحب کا وہاں داخلہ کرا آئے۔ اس طرح چار سالہ دکتورہ مکمل کیا، جس میں آپ نے اپنا مقالہ حضرت ’’عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ إمام الفقہ العراقي‘‘ کے عنوان سے تحریر فرمایا، اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرکے فروری ۱۹۷۷ء میں پاکستان واپس تشریف لائے اور دوبارہ جامعہ سے وابستہ ہوگئے، اسی دوران آپ کو ناظمِ تعلیمات مقرر کیا گیا۔
مصر میں پڑھائی کے دوران حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے ایک خواب دیکھا، اس کے بارہ میں آپ لکھتے ہیں: ’’جب میں نیا نیا مصر گیا تو قاہرہ کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ رات کو ہوٹل کے شور وغل کی وجہ سے نیند نہیں آتی تھی، ایک روز کافی دیر ہوگئی، غالباً رات کے ایک یا دو بج چکے تھے، پریشان ہوکر سویا، خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ مولانا مرحوم بیٹھے ہیں، میں دو زانوں بیٹھا ہوں اور چاروں طرف مدرسہ کے اساتذہ کرام بیٹھے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے دعا فرمائیں، آپ نے دعا فرمائی اور دعا کے بعد ہاتھ اپنے منہ کے بجائے میرے منہ پر پھیرے تو مدرسہ کے ایک بڑے استاذ نے عرض کیا کہ: میرے لیے بھی دعا فرمائیں، آپ مسکرائے اور فرمایا کہ : ’’سبقک بھا عکاشۃ‘‘ ..... ’’مصر سے جب گزشتہ فروری ۱۹۷۷ء کے اوائل میں واپس ہوا تو میںنے رفاقتِ سفر کے پرانے معاہدے کی دو بارہ تجدید کے طور پر عرض کیا کہ اب تو آپ کا کوئی سفربھی اندرون ملک کا ہو یا بیرون ملک کا ہو تو میں ان شاء اللہ! آپ کے ساتھ رہوں گا، نہایت خوشی کا اظہار فرمایا اور معاہدہ کی توثیق فرما دی ۔ ایک موقع پر فرمایا کہ دو ہی آدمی ایسے ہیں جن سے سفر میں صحیح آرام ملتا ہے اور پھر میرے مزاج کو خوب جانتے ہیں۔ ایک مولانا حبیب اللہ صاحب اور دوسرا اس خادم کی طرف اشارہ فرمایا۔ ‘‘      (اشاعتِ خاص بیاد حضرت بنوریؒ، ص: ۴۱۶)
محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے وصال ۳؍ذوالقعدہ ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۷۷ء کے بعد جامعہ کا نظم ونسق حضرت مفتی احمد الرحمٰن نور اللہ مرقدہٗ نے سنبھالا، آپ کے نائب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہید بنائے گئے۔ حضرت مفتی احمد الرحمٰن نور اللہ مرقدہٗ کے وصال (۱۴؍رجب المرجب ۱۴۱۱ھ مطابق ۳۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء ) کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدؒ مہتمم اور آپ کے نائب حضرت مولانا محمد بنوری شہیدؒ مقرر ہوئے۔
حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی شہادت (۱؍رجب المرجب ۱۴۱۸ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۷ء) کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کو مہتمم اور حضرت مولانا محمد بنوری شہیدؒ کو نائب مہتمم مقرر کیا گیا، پھر حضرت مولانا محمد بنوری شہیدؒ کی شہادت (۲۹؍محرم الحرام ۱۴۱۹ھ مطابق ۲۶؍ مئی ۱۹۹۸ء) کے بعد حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب کو نائب مہتمم مقرر کیا گیا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کو جب مہتمم مقرر کیا گیا تو آپ سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے تھائی لینڈ کے سفر پر تھے، آپ سفر مختصر کرکے جلد واپس ہوئے، آپ کو جب مہتمم مقرر کیے جانے کا بتایا گیا تو آپ نے اہتمام قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ میں اتنی بڑی ذمہ داری نہیں اُٹھاسکتا، کسی اور کو یہ منصب دیا جائے، میں ایک خادم کی حیثیت سے ہر طرح کا تعاون کروں گا۔ دیر تک اجلاس میں روتے رہے اور منع کرتے رہے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر حضرت مفتی نظام الدین شامزی شہیدؒ نے فرمایا: اگر آپ یہ منصب نہیں سنبھالتے تو پھر ہم بھی یہاں نہیں رہیں گے، ہم بھی اپنا بوریا بستر اُٹھاتے ہیں اور کہیں اور چلے جاتے ہیں، اس پر حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے اس شرط پر ذمہ داری قبول کی کہ آپ تمام حضرات میرے لیے دعا کریں گے اور میرے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔ اس طرح حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اپنے شیخ کی اس امانت کو سینے سے لگائے اس کی حفاظت اور اس کے انتظام میں مشغول ہوگئے اور اپنی تمام تر توانائیاں اس کے لیے صرف کردیں۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کا اہتمام قمری حساب سے چوبیس سال چار ماہ اور شمسی حساب سے تیئیس سال سات ماہ بنتا ہے۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ ۱۹۸۱ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن مقرر ہوئے، حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ کی وفات ۲۰۰۸ء کے بعد حضرت خواجہ صاحب قدس سرہٗ نے -جو اس وقت عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے- آپ کو مجلس تحفظِ ختم نبوت کا نائب امیر مقرر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ :’’ختمِ نبوت کی امانت جس گھر سے لی تھی، اسی گھر میں لوٹادی۔‘‘ ۲۰۱۵ء میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ  کے انتقال کے بعد آپ کو امیرِ مرکزیہ عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت منتخب کیا گیا، جس کے لیے حضرت ڈاکٹر صاحبؒ بالکل راضی نہیں تھے، فرمایا کہ: میں بیمار ہوں، سفر نہیں کرسکتا ہوں، میں یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا، لیکن حضرت خواجہ عزیز احمد صاحبؒ نے فرمایا: حضرت والد صاحبؒ نے آپ کو نائب امیر بناتے وقت فرمایا تھا: جہاں سے یہ امانت لی تھی، انہیں کے حوالہ کردی تو حضرت یہ امانت آپ کے سپرد کرگئے ہیں۔ حضرت ڈاکٹر صاحب روپڑے اور اپنے شیخ کی اس امانت کو قبول کرلیا اور ساتھ ہی ایک ایک ممبرسے فرمایا: دعاؤں سے آپ میری مدد کرتے رہیں۔
اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ پاکستان کی انتظامیہ نے اقرأ کے آغاز میںہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ اقرأ کا صدر کسی بزرگ کو بنایا جائے گا، اسی وجہ سے اس کے سرپرست و صدور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی  ؒ، شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت سیّد نفیس الحسینی  ؒ، حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہم اللہ تعالیٰ ایسے اکابر رہے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اس ادارہ کے پہلے سرپرست رہے اورپھر صدر بنائے گئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد مسلمانانِ پاکستان کے اسلامی تشخُّص کو برقرار رکھنے، مملکتِ خداداد پاکستان میں دینی مدارس کے تحفظ و استحکام اور باہمی ربط کو مضبوط بنانے اور مدارس کو منظّم کرنے کے لیے اکابر علمائے اہل سنت و الجماعت دیوبند کی زیرِ قیادت۱۳۷۹ ھ/۱۹۵۹ ء میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ اول روز سے آج تک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا جو کلیدی کردار رہا ہے، مدارس سے وابستہ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ اس کے پہلے نائب صدر اور پھر صدر بنائے گئے۔ جامعہ سے وابستہ بزرگ استاذ حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی قدس سرہٗ نے باقاعدہ پورا امتحانی نظم مرتب کیا، آپ اس کے ناظم، ناظمِ اعلیٰ اور صدر کے عہدوں پر فائز رہے۔ ان کے بعد حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ اور حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدؒ یکے بعددیگرے اس کے ناظمِ اعلیٰ رہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدؒ کے بعد ۱۹۹۷ ء میں حضرت ڈاکٹر صاحبؒ وفاق کی مجلسِ عاملہ کے رکن بنائے گئے۔ ۲۰۰۱ ء میں نائب صدر مقرر ہوئے، شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی وفات (۲۰۱۷ء) کے بعد تقریباً ۹ ماہ قائم مقام صدر رہے۔ ۱۴ محرم الحرام ۱۴۳۹ ھ/ ۵ اکتوبر ۲۰۱۷ء میں آپ کو متفقہ طور پر مستقل صدر منتخب کیا گیا۔ ۶ذوالقعدۃ ۱۴۴۲ ھ / ۱۷ جون ۲۰۲۱ ء کو آپؒ دوسری بار متفقہ طور پر صدرِ وفاق منتخب کیے گئے۔ نیز آپؒ پانچوں مکاتبِ فکر کے بورڈز کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’ اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ ‘‘ کے بھی صدرتھے۔ 
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے علماء، طلبہ اور عوام کی رہبری وراہنمائی کے لیے عربی اور اُردو دونوں زبانوں میں کتابیں اور رسائل تالیف فرمائے، اور کچھ کتب کے تراجم کیے ، ان سب کے نام درج ذیل ہیں:
۱: تدوین الحدیث             ۲: مؤقف الامۃ الاسلامیۃ من القادیانیۃ
۳:اختلاف الأمۃ والصراط المستقیم    ۴:الطریقۃ العصریۃ
۵: کیف تُعَلِّمُ اللغۃَ العربیۃَ لغیر الناطقین بھا ۶:  القاموس الصغیر
۷: جماعۃ التبلیغ و منھجہا فی الدعوۃ        ۸: ھل الذکریۃ مسلمون؟
۹: الفرق بین القادیانیین و بین سائر الکفار    ۱۰: الإسلام و إعداد الشباب

۱۱: تبلیغی جماعت اور اس کا طریقۂ کار        ۱۲: چند اہم اسلامی آداب
۱۳: محبتِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم                 ۱۴: حضرت علیؓ اور حضرات خلفائے راشدینؓ 
آپ کی زیادہ تر تصانیف اردو سے عربی اور کچھ عربی سے اردو میں مترجَم ہیں، جب کہ مشہور کتاب ’’الطریقۃالعصریۃ‘‘ عرصہ دراز سے وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہے۔
علاوہ ازیں آپ نے عربی و اردو میں بے شمار مقالات و مضامین سپردِ قلم فرمائے، جو عربی و اردو مجلّات، رسائل و جرائداور اخبارات کی زینت بنے اور مختلف کانفرنسوں میں آپؒ نے اُن کو پڑھا۔ اِن میں سے اُردو مضامین تین مجموعوں کی شکل میں مرتَّب ہوچکے ہیں: ۱: مشاہدات و تأثرات، ۲: اصلاحی گزارشات، ۳: تحفظِ مدارس اور علماء و طلبہ سے چند باتیں۔اس کے علاوہ آپ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے مقبولِ عام سلسلہ ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے مستقل کالم نگار تھے، جب کہ ماہ نامہ ’’بینات‘‘ کے مدیرِ مسؤل اور سہ ماہی عربی مجلّہ ’’البیّنات‘‘ کے ’’المشرف العام‘‘ بھی تھے۔
ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ آپ کی باطنی تربیت میں بھی اکثر حصہ حضرت بنوریؒ ہی کا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرمدنی قدس سرہٗ اور حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفی نور اللہ مرقدہٗ کی صحبتوں سے بھی مستفید ہوتے رہے۔ شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہما اللہ تعالیٰ سے آپ مجاز ہوئے۔
چونکہ آپ پر اِخفا اور تواضع کا غلبہ تھا، اس لیے آپ نے زیادہ لوگوں کو بیعت نہیں کیا، اس کے باوجود جب تک آپ کی صحت نے اجازت دی، آپ ہر منگل کو بعد نمازِ عصر دفترِ اہتمام میں حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ کی کوئی کتاب پڑھ کر طلبہ اور متعلقین کی تربیت فرماتے رہے۔
محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے وصال کے بعد ایک عرصہ تک حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی یہ کیفیت رہی کہ جہاں شیخ کا تذکرہ چھڑتا تو آپ کی آنکھیں ضبط نہ کرپاتیں اور پھر بڑے والہانہ انداز میں شیخ کے واقعات سناتے۔ بالآخر آپ اپنے شیخ کی تمام نسبتوں کے امین اور اُن کے مسند نشین و جانشین بنے۔ شیخ بنوریؒ بیک وقت ’’صدرِ وفاق، امیرِ مرکزیہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت، رئیس و شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن‘‘ تھے۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ بھی اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ان تمام مناصب پر اپنے شیخ کی یادگار رہے۔ آپ فنا فی الشیخ کی تصویراور شیخ کی نسبتِ اتحادی کا مظہرِ اَتم تھے۔ اپنے شیخ ہی کی نسبت سے آپ پورے ملک کے مشائخ و اہل اللہ کے معتَمد، مرجع الخلائق، اور ایسی غیرمتنازع شخصیت تھے کہ سب کی عقیدت و احترام آپ کو حاصل تھا اور آپ کی مجلس و صحبت سے استفادہ کرنا ہر کوئی اپنی سعادت سمجھتا تھا۔ 
آپ تمام ہی دینی جماعتوں اور تحریکوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے ، خصوصاً جمعیت علمائے اسلام کے حضرت بنوریؒ کی طرح آپؒ بھی ہمیشہ قدر دان رہے ، ان کی سیاسی دینی خدمات کو سراہتے تھے ، قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم سے انتہائی محبت فرماتے تھے۔ جمعیت کے کراچی کے جلسے، صد سالہ اجتماع اضاخیل میں باقاعدہ شرکت فرمائی اور خطاب بھی کیا ، آزادی مارچ میں چونکہ آپ علیل تھے، اس لیے آپؒ نے حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے نام خط تحریر فرما کر ان کے مؤقف کی تائید کی اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا ایک وفد شرکت کے لیے بھیجا۔ 
حضرت بنوری ؒ کی رفاقت میں عرب ممالک، برِاعظم افریقہ وغیرہ میں تحفظِ ختمِ نبوت کے سلسلہ میں سفر کیے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فضلاء کے قائم کردہ دینی مدارس میں بارہا تشریف لے گئے۔ برطانیہ میں قادیانیت کا تعاقب کرنے کے لیے اور وہاں مقیم مسلمانوں کے ایمانوں کے تحفظ کی خاطر ہر سال برمنگھم ختمِ نبوت کانفرنس میں تشریف لے جاتے رہے۔ 
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اگرچہ وہیل چئیر پر تھے، لیکن بظاہر ٹھیک تھے، وصال سے کچھ دن پہلے آپ کو بخار رہنے لگا تھا، اسی لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا، وہاں حضرت کی بہو اور بھائی مولانا سعید اسکندر صاحب کی اہلیہ محترمہ جو ڈاکٹر بھی ہیں، ساتھ رہیں اور آپ کی بھرپور خدمت اور تیمارداری کی، لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم غالب آکر ہی رہتا ہے، اس طرح حضرت ڈاکٹر صاحبؒ ہزاروں علماء و صلحاء ، طلبہ و طالبات اور لاکھوں عقیدت مندوں خصوصاً جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ و طلبہ و طالبات اور عملہ ، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے قائدین ، مبلغین ، کارکنان اور رضاکاران، وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے وابستہ ہزاروں مدارس کے اساتذہ و طلبہ اور وفاق کا عملہ ، اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ پاکستان کی دو سو شاخوں میں زیرِ تعلیم ۸۰ ہزارسے زائد بچے بچیاں اور عملے کے افراد اور پوری دنیا میں پھیلے ہوئے بے شمار فرزندگانِ بنوری اور اپنے پسماندگان کو چھوڑ کر حضیرۃ القدس میں جا پہنچے۔
آپؒ کی تجہیز و تکفین کے بعد آپ کا جنازہ زیارتِ عام کے لیے جامعہ میں درجہ سابعہ کی درس گاہ (پرانے دارالحدیث) میں رکھا گیا ، جہاں علماء و طلبہ اور عوام الناس نے لمبی قطاروں میں لگ کر آپؒ کا آخری دیدار کیا۔ آپؒ کی رحلت کی خبر عام ہوتے ہی جامعہ میں عوام کا رش بڑھنا شروع ہوگیا تھا، جو جنازہ کے وقت انسانی سمندر میں تبدیل ہوچکا تھا۔ جامعہ کی مسجد تنگ داماں ہونے کے بعد اطراف کی سڑکوں جمشید روڈ سے جیل چورنگی اور اسلامیہ کالج تک بھرچکی تھیں، ہر جانب لوگ ہی لوگ تھے۔ بلا شبہ یہ کراچی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا جنازہ تھا۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی نمازِ جنازہ میںجامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ وطلبہ کے علاوہ دارالعلوم کراچی کے نائب صدر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر حضرت مولانا انوار الحق، جامعہ فاروقیہ کے مہتمم حضرت مولانا عبید اللہ خالد ، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا، جمعیت علمائے اسلام کے قائدین ، قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے برادر مولانا عبید الرحمٰن ، مفتی ابرار، مولانا راشد سومرو، قاری محمد عثمان، سینیٹر مولانا فیض محمد، مدارس کے مہتممین، اور مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ خلقِ کثیر شریک ہوئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ آپؒ کے بڑے صاحب زادے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر زید مجدہم نے پڑھائی۔ جنازہ سے قبل حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے اپنے مختصر خطاب میں حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ 
نمازِ جنازہ کے بعد جامعہ کے احاطہ میں واقع حضرت بنوری ؒ کی قبر کی دائیں جانب آپؒ کی قبر بنائی گئی، گویا ساری زندگی جس شیخ پر فدا رہے اور ان کے بعد اُن کے گلشن کی آب یاری ونگہبانی کرنے میں اپنی زندگی صرف کی، وصال کے بعد انہیں کے پہلو میں جا سوئے اور حشر میں ان شاء اللہ! اپنےشیخ بنوریؒ اور مصاحبین کی معیت میں انہی کے ساتھ اُٹھیں گے ۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی مجلسِ شوریٰ نے متفقہ طور پر محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کے صاحبزادہ حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری دامت برکاتہم کو ادارہ کا مہتمم ، حضرت مولانا سید احمدیوسف بنوری دامت برکاتہم کو نائب مہتمم، حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا سعید خان اسکندر صاحب دامت برکاتہم کو بدستور معاون مہتمم اور حضرت مولانا محمد انور بدخشانی دامت برکاتہم کو شیخ الحدیث کی ذمہ داریاں سپرد کی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ شوریٰ کے اس فیصلہ میں برکت عطا فرمائے، ان حضرات کی مدد و نصرت فرمائے، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کو مزید ترقیات سے نوازے، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ذمہ داران، معاونین، اساتذہ، طلبہ، عملہ اور اُن کے محبین کی ہر اعتبار سے حفاظت فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کے نسبی پسماندگان و لواحقین میں ایک بیوہ، دو صاحب زادے: (مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر اور مولانا مفتی یوسف خان اسکندر ہیں، جو ماشاء اللہ عالم و مفتی اور دینی خدمات میں مشغول ہیں) اور تین صاحب زادیاں ہیں۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؒ راقم الحروف کے دورہ حدیث کے اساتذ ہ میں سے آخری استاذ تھے، حضرتؒ کے چہرۂ مبارک کو دیکھ کر اور آپ کے ساتھ بات چیت کرکے اپنے آپ کو بہت ہی زیادہ خوش قسمت سمجھا کرتا تھا۔ آپ کے وصال پر راقم الحروف بھی وہی دعا کرتا ہے جو حضرت ڈاکٹر صاحبؒ نے اپنے مضمون میں حضرت بنوری قدس سرہٗ کے لیے لکھی ہے کہ :
’’اے اللہ! ہم ضعیف و ناتواں ہیں، ہمیں صبرِ جمیل عطا فرما اور اے اللہ! ہمارے شیخ مرحوم کی قبر مبارک کو ’’روضۃ من رياض الجنۃ‘‘ بنا اور اُن کی پاک روح کو اعلیٰ علیین میں پہنچا کر اکرام و اعزاز فرما۔ اور اے اللہ! ان کا مسکن و ماویٰ جنت الفردوس کو بنا اور ان کے ساتھ وہ معاملہ فرما جو تیری شان ارحم الراحمین کے شایانِ شان ہو۔ اور اے اللہ! آخرت میں ان کو رفعِ درجات اور علوِ مقامات نصیب فرما۔ اور اے اللہ! جس طرح آپ نے ہمیں اُن کی زندگی میں دعواتِ سحری، نالہ ہائے نیم شبی اور دعواتِ حرمین شریفین کی برکات سے سرفراز فرمایا، مفارقت کے بعد بھی ان کی روح پرفتوح کی برکات سے مالا مال فرما کر سرفراز فرما اور اے اللہ! ان کی چھوڑی ہوئی امانت جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی حفاظت، خدمت اور ترقی کی اہلیت ، ہمت اور توفیق عطا فرما۔‘‘ آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے