بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

بینات

 
 

’’کرونا وائرس‘‘ آفتِ سماوی!!!


’’کرونا وائرس‘‘ آفتِ سماوی!!!


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

 

دنیائے انسانیت پر جو مصائب وآلام آتے ہیں‘ علمائے کرام اصولاً ان کی تین اقسام بیان کرتے ہیں: ۱:-غیراختیاری مصائب، ۲:-اختیاری مصائب، ۳:-وہ مصائب جو شرعی اعمال وافعال کی اعلانیہ خلاف ورزی پر اس کے مقنن وحاکم کی طرف سے بطور پاداشِ عمل ڈالے جاتے ہیں۔
۱:- غیراختیاری مصائب جو انسان کے ارادہ واختیار کے بغیر اس پر طاری ہوتے ہیں، خواہ انسان کتنا ہی معتدل مزاج، معتدل اخلاق اور معتدل افعال کیوں نہ ہو، جیسے موسم کے ردو بدل سے پیدا شدہ امراض یا رات دن کی گردشوں سے سرزد شدہ احوال۔ ان میں نہ انسان کے ارادہ وفعل کو دخل ہے اور نہ ہی ان میں انسان کی تخصیص ہے۔ یہ تغیرات جمادات ونباتات ، معدنیات وحیوانات، ارضیات وفلکیات، پھر انسانوں میں بالغ ونابالغ، بچہ وبڑا، متقی اور فاجر سب میں برابر ہیں۔ ان مصائب سے خود کو بھی اذیت پہنچتی ہے اور دوسروں کو بھی۔ گویا یہ مصائب انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی، لازمی بھی ہیں اور متعدی بھی، ذاتی بھی ہیں اور اضافی بھی۔ غور کیا جائے تو یہ مصائب نہیں، بلکہ موسمی تغیرات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کائنات میں نمایاں ہوتے ہیں اور یہ تغیرات اس عالم کی خاصیت ہے جو اس سے جدا نہیں ہوسکتی، اسی لیے ان کا نام تکوینی تغیرات رکھنا زیادہ موزوں ہوگا۔
۲:- اختیاری مصائب ہیں جو انسان کے تصرفات اور کسب وعمل سے اُبھر کر اس کی ذات میں بھی نمایاں ہوتے ہیں اور آفاق میں بھی۔ اس کا سبب اس عدل واعتدال کی خلاف ورزی ہے جو ہر انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔ خواہ وہ بے اعتدالیاں ان طبعی افعال میں نمایاں ہوں جن کا تقاضا انسان کی طبیعت کرتی ہے، جیسے: کھانا، پینا، سونا، جاگنا، جماع ومباشرت۔ یا ان افعال میں نمایاں ہوں جن کا تقاضا عقل کرتی ہے، جیسے: مفادِ عامہ، اجتماعی، سیاسی اور قومی اُمور، تمدنی ترقیات، بین الاقوامی معاملات، وسائلِ زندگی کا نظم، ایجادات واختراعات، عمومی تجارت، اقتصادیاتِ عامہ اور کھانے پینے وغیرہ کے پرتکلف اور نئے نئے انداز وغیرہ، یہ تمام جزئیات بھی اُمور طبعیہ میں سے ہیں، لیکن جب یہ کلی اور عمومی صورت اختیار کرلیتی ہیں تو ان میں طبیعت کے ساتھ عقل کا بھی دخل آجاتا ہے اور وہ اُمور عقلیہ کہلانے لگتی ہیں۔ غرض طبعی اور عقلی اُمور میں اس عدمِ اعتدال یعنی افراط وتفریط کے منفی آثار بصورتِ آفات انسان پر پڑتے ہیں، جو اسی کی بے اعتدالیوں کا ردِ عمل ہوتی ہیں، اس لیے انہیں اکتسابی آفات کہنا چاہیے۔
۳:- تیسری قسم کے مصائب وہ ہیں جو شرعی افعال کی خلاف ورزی کے نتیجے میں انسان پر آتے ہیں، یعنی کسی تشریعی قانون کی اعلانیہ اور مسلسل خلاف ورزیوں پر اس کے مقنن اور حاکم کی طرف سے بطور پاداشِ عمل ڈالے جاتے ہیں۔ پس جب بھی اس قانونِ الٰہی کی مخالفت رونما ہو اور اُمورِ شرعیہ میں کھلے بندوں افراط وتفریط سے کام لیا جانے لگے، تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آفات وبلیات کا ظہور ہوگا، مثلاً: جب اللہ تعالیٰ کے احکامات ماننے کی بجائے کھلے عام اس کی مخالفت کی جائے گی۔ظلم کو انصاف کہہ کر نافذ کیا جائے گا۔ ہدایت کی بجائے ضلالت کا رواج اور دور دورہ ہوگا۔ حق وصداقت کی بجائے جھوٹ، فریب اور دغا کی پیروی ہوگی۔ ایفائے عہد کی بجائے وعدہ خلافی کا دور دورہ ہوجائے۔ عدل کی بجائے ظلم وستم کا بازار گرم ہوجائے۔ امن کی بجائے بدامنی وغارت کی دھوم ہوجائے۔ پاکیزگیِ نفس کی بجائے ناپاکیِ نفس اور خبثِ باطنی پیدا ہوجائے۔ حیا کے بجائے بے حیائی، عفت کی بجائے فحش پھیل جائے۔ مال کی عصمت مفقود ہوجائے، چوری، ڈکیتی کا بازار گرم ہوجائے۔ جان کی عصمت نہ رہے، قتل وغارت پھیل جائے۔ استغناء کے بجائے عدمِ استغناء یعنی استعماریت پھیل جائے۔ نافرمان انسانوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی زمین بے آئین ہوجائے، جس میں قانون کی بجائے لاقانونیت اور نورِ فطرت کی بجائے ظلمت نفس ہو۔ غرض یہ کہ خواہشات ونفسانیت کی تمام حدیں عبور ہوجائیں اور یہ انسانی نفس‘ وجودی اُمور اور بارگاہِ وجود سے منحرف ہوکر عدم کی طرف بڑھنے لگے تو حضرت واجب الوجود کی طرف سے وجودی نعمتیں سلب ہونی شروع ہوجاتی ہیں اور زمین وآسمان کے عدمی آثار بصورتِ مصائب اس عدمی نفس سے آملتے ہیں۔ اگر احکاماتِ شرع کی خلاف ورزی اور معصیتِ ربی انفرادی ہوگی تو عذابِ خداوندی بھی انفرادی طور پر تکوینی راستہ سے آئے گا اور اگر خلاف ورزی قومی اور اجتماعی رنگ کی ہوگی تو وبال ونکال بھی اجتماعی حیثیت سے سامنے آئے گا، اس لیے ان آفات کو انتقامی تعزیرات کہنا چاہیے۔حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
’’لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أُمَّتِيْ کَمَا أَتٰی عَلٰی بَنِيْ إِسْرَائِیْلَ حَذْوَالنَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتّٰی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَّنْ أَتٰی أُمَّہٗ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِيْ أُمَّتِيْ مَنْ یَّصْنَعُ ذٰلِکَ۔‘‘    (رواہ الترمذی، بحوالہ مشکوٰۃ، ص:۳۰)
’’ ضرور بالضرور میری اُمت پر بھی وہ حالت آئے گی جو بنی اسرائیل پر آئی، جیسے ایک جوتا دوسرے کے برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے اعلانیہ بدکاری کا مرتکب ہوا ہوگا تو میری اُمت میں بھی کوئی ایساہو گا جو یہ کام کرے گا ۔‘‘
بڑے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ آج کا مسلمان عموماً چاہے وہ حکمران ہو یا عوام، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشاد کے مطابق بالکل پہلی قوموں کی ڈگر پر چل رہا ہے، اسے نہیں پرواہ کہ ہمارا دین کیا کہتا ہے؟ ہماری کتاب میں ہمارے لیے کیا احکامات ہیں؟ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں کیا ہدایات دی ہیں؟۔ آج کا مسلمان عموماً انفرادی اور اجتماعی طور پر جس طرح اسے اپنے مسلمان ہونے کی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں، ویسے وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کررہا، جس کی بناپر کفار کا اُن پر تسلُّط بڑھتا جارہا ہے اور اس تسلُّط کی وجہ سے مسلمان معاشرہ کو غیرشعوری طورپر ایسی چیزوں میں مشغول کردیا گیا ہے جو اسلامی تعلیمات کے بالکل مخالف ہیں۔ کفر اسلام پر ایسے پوشیدہ وار‘ اور حملے کرتا ہے کہ عام طور پر مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں چلتا اور آہستہ آہستہ مسلمانوں کی فکر، سوچ، عقیدہ اور نظریہ بدل جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ ان کے کنٹرول میں ہیں، جن سے وہ مسلمان معاشرے، سوسائیٹیز، اداروں اور حکومتوں میں اپنی ارتدادی مہم اس انداز میں چلاتے ہیں کہ مسلمانوں کی عقل، فکر، سوچ اور نظریات میں تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے، جس سے اسلام کی وہ محکم اور مضبوط بنیادیں جن پر صدیوں سے اتفاق چلا آرہا ہے، ان کے بارہ میں مسلمان شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے جہاں شک آجائے‘ وہاں ایمان کی چھٹی ہوجاتی ہے۔آج عالم دنیا پر چہار سو نظر دوڑائیں تو نظر آئے گا کہ ہر جگہ خالقِ کائنات کی معصیت ونافرمانی خصوصاً مسلمانوں پر جو ظلم وستم اور کشت وخون کے دریا بہائے جارہے ہیں ، ان کے ردِ عمل میں تعزیراتِ الٰہیہ بصورتِ آفات ظاہر ہورہی ہیں اور دنیا تباہ ہورہی ہے۔
آج پوری دنیا میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے ۔ یہ کیا چیز ہے؟ اس کی کیا علامات ہیں؟ اس کا علاج کیا ہے؟ کہاں سے شروع ہوا؟ احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟ ان وباؤں کی صورت میں علماء کرام، حکومتِ وقت اور عوام کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ وبائیں کیوں آتی ہیں؟ اور شریعت کی روشنی میں ان کا کیا علاج ہے؟ ہر ایک کا جواب ذیل میں اجمالاً تحریر کیا جاتا ہے۔
۱:…بتایا گیا ہے کہ’’کرونا وائرس‘‘ یہ ایک جرثومہ ہے جو خوردبین میں نصف دائرہ کی شکل میں نظر آیا اور اس کے کنارے پر ایسا اُبھار ہے جو تاج کی شکل کے مشابہ ہے۔ چونکہ رومن زبان میں تاج کو کراؤن کہتے ہیں، اس لیے اس وائرس کا نام ’’کرونا وائرس‘‘ رکھ دیا گیا ۔مذکورہ وائرس کے نام کی وجہ اور تعارف کے حوالے سے دیگر آراء بھی سامنے آرہی ہیں۔
۲:…اس وائرس کی جو علامات بتائی گئی ہیں: وہ یہ کہ بخار، کھانسی، نزلہ ، گلے کی خراش اور وائرس کے شدید حملے کی صورت میں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ کرونا وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہوئے سانس کے داخلی نظام کو متأثر کرتا ہے اور انسان جان لیوا نمونیا یا فلو میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ 
۳:…اب تک اس کی کوئی دوا ، علاج یا ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ، ایک خبر آئی ہے کہ امریکہ نے اس کی ویکسین تیار کرلی ہے اور اب کچھ عرصہ بعد پوری دنیا میں وہ سپلائی کی جائے گی۔ اور ایک خبر یہ ہے کہ جاپان نے بھی اس کی دوائی تیار کرلی ہے اور چار دن میں مریض آدمی اس دوائی کے ذریعہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہوجاتا ہے۔ خبر ملاحظہ فرمائیں:
’’ ٹوکیو (امت نیوز) دنیا کے ساڑھے سات ارب انسانوں کو جس خوش خبری کا انتظار تھا وہ بالآخر بدھ کو سامنے آئی ہے اور جاپانی کمپنی کی انفلونزا کے لیے تیار کردہ دوائی ’’فیوی پرورہ‘‘ (Fevi Perora) کے استعمال سے کرونا کے مریض صرف ۴ دن میں مکمل صحت یاب ہونے لگے ہیں۔ چینی ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ جاپانی کمپنی کی انفلونزا کے لیے تیار کردہ دوائی کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مؤثر ثابت ہورہی ہے۔ فیوجی فلم کی ذیلی کمپنی کی تیار کردہ انفلونزا کی دوائی ووہان میں ۳۴۰ مریضوں پر آزمائی گئی اور اس دوائی کے استعمال سے صرف ۴ روز کے اندر کرونا کے مریض مکمل صحت یاب ہوگئے۔ چینی وزارتِ سائنس وٹیکنا لوجی کے اعلیٰ عہدیدار ینگ زی من نے تصدیق کی ہے کہ جاپانی کمپنی کی دوائی کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ ’’فیوی پرورہ‘‘ نامی دوائی کے استعمال سے کرونا کے مریضوں کے پھیپھڑے فوری طور پر ری کور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد جاپانی کمپنی فیوجی کے شئیر بدھ کو تیزی سے اوپر جاتے نظر آئے۔‘‘ (روزنامہ اُمت کراچی، ۱۹مارچ ۲۰۲۰ء)
۴:… چین کے مرکز برائے انسدادِ امراض واحتیاطی تدابیر کے ڈائریکٹر گاؤخو نے کہا ہے یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک سمندری خوراک مارکیٹ میں جنگلی جانوروں سے پھیلا۔ اس مارکیٹ میں مختلف قسم کے جنگلی جانور مثلاً: لومڑی، مگرمچھ، بھیڑیئے اور سانپ فروخت کیے جاتے ہیں۔ اس پر بحث ہورہی ہے کہ یہ جان لیوا وائرس قدرتی ہے یا سائنسدانوں نے خود اسے تخلیق کیا ہے۔ امریکہ اور چین اس حوالے سے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرارہے ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیا کرونا وائرس نہ صرف انسانی تخلیق کردہ ہے، بلکہ ایک مریکی لیبارٹری نے یہ وائرس چین کو فروخت کیاتھا اور یہ دعویٰ کرنے والے بھی ایک امریکی ہی ہیں، گویا یہ ایک بائیولوجیکل جنگ ہے۔ اوریہ بھی الزام لگایا جارہا ہے کہ اس کراؤنا وائرس کے ذریعہ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف معاشی جنگ لڑرہی ہیں اور پوری دنیائے انسانیت ان کے ہاتھوں یرغمال اور ان کی تجربہ گاہ بنی ہوئی ہے۔
۵:…چونکہ یہ متعدی مرض ہے اور اس کا وائرس حیوان سے انسان میں منتقل ہونے، انسان کو بیمار کرنے اور دوسرے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر بتایا گیا کہ انسان اپنے ناک اور منہ کو ماسک وغیرہ سے ڈھانپے، دوسروں سے ملنے جلنے میں احتیاط کرے، مجمع اور رش والی جگہوں میں نہ جائے، وقفے وقفے سے ہاتھ دھوتا رہے۔ ہمارے پاکستانی طلبہ جو چین میں پھنسے ہوئے ہیں، ماشاء اللہ! وہ تمام صحت مند ہیں اور انہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ہم پانچ وقت وضو کرتے تھے، اس لیے اس وائرس سے ہم محفوظ رہے۔
۶:… احتیاطی تدابیر اپنے دائرے میں اپنی جگہ درست ، بلکہ شریعت کا حکم بھی ہیں، لیکن احتیاطی تدابیر کے نام پر دینی مراکز ومعاہد اور مساجد ومدارس میں دینی تعلیمات اور دینی اخلاق کی تعلیم وتعلم کو یکسر موقوف کرنا اور ان پر بے جا پابندیاں لگانا شرعاً واخلاقاً کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔ راقم الحروف اپنی دانست میں سمجھتا ہے کہ ان حالات میں عالمِ اسلام کے عموماً اور پاکستان کے خصوصاً، علمائے کرام کی ذمہ داری تھی کہ وہ قرآن وسنت کی روشنی میں حکومت اور قوم کی ہر پہلو سے راہنمائی کرتے، بروقت نہ انہوں نے حکومت کی راہبری کی اور نہ ہی قوم کی پوری پوری رہنمائی فرمائی۔ اسی لیے حکومت نے ایسی چیزوں پر بھی پابندی لگانی شروع کردی، جو کسی بھی اعتبار سے اس کے لیے درست نہیں۔ علمائے کرام کی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کو بتاتے کہ وبائی امراض کا پھیلنا حقیقت ہے، ان سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی شریعت کا حکم ہے، یہ ضرور اختیار کی جائیں، لیکن یہ مؤثر حقیقی نہیں، اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور توکل وتقدیر کے بنیادی ایمانی نظریئے کو مضبوطی سے تھاما جائے۔ وقت سے پہلے اعصابی شکست تسلیم کرنے، مایوسی، توہم پرستی اور قوم کو نفسیاتی مریض بنانے سے بچا جائے۔ انہیں بتایا جاتا کہ شریعت میں جہاں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے فروعی احکام ہیں، وہیں عقائد سے متعلق اصولی احکام بھی شریعت کا حصہ ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
۱-’’قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ھُوَ مَوْلٰنَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔‘‘  (التوبۃ:۵۱)
ترجمہ: ’’ تو کہہ دے ہم کو ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے، وہی ہے کارساز ہمارا، اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں مسلمان۔‘‘
۲-’’کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَّاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ۔‘‘   (الانبیاء:۳۵)
ترجمہ: ’’ ہر جی کو چکھنی ہے موت اور ہم تم کو جانچتے ہیں برائی سے اور بھلائی سے آزمانے کو اور ہماری طرف پھر کر آجاؤ گے ۔‘‘
۳-’’ قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔‘    ‘ (آل عمران: ۱۵۴)
ترجمہ: ’’ تو کہہ اگر تم ہو تے اپنے گھروں میں البتہ باہر نکلتے جن پر لکھ دیا تھا مارا جانا اپنے پڑاؤ پر اور اللہ کو آزمانا تھا جو کچھ تمہارے جی میں ہے اور صاف کرنا تھا اس کا جو تمہارے دل میں ہے اور اللہ جانتا ہے دلوں کے بھید ۔‘‘
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
۱-’’ اچھی طرح جان لو! اگر ساری اُمت تم کو نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تب بھی اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے سے زیادہ نفع دینے پر قدرت نہیں رکھ سکتی اور اگر ساری اُمت تم کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائے تب بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی نقصان پہنچاسکے گی ، اس سے زیادہ نہیں۔‘‘
۲-’’ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے طاعون وغیرہ سے نمٹنے کے سلسلے میں یہ ہدایت ارشاد فرمائی ہے کہ جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے کوئی باہر نہ جائے اور باہر والے طاعون کے علاقے میں داخل نہ ہوں۔‘‘
۳-’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ‘‘ ترجمہ: ۔۔۔۔۔ ’’اور مدد حاصل کرو صبر اور نماز کے ذریعہ۔‘‘
۴-’’ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب بھی کوئی سخت اور ناگوار بات پیش آتی تو آپ  علیہ السلام  فوراً نماز کے لیے دوڑتے تھے۔‘‘
نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس عمل سے ہمارے لیے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ کورونا وائرس کے حملے کے موقع پر ہم بھی نماز کی طرف دوڑنے والے ہوں، مساجد کو آباد کرنے والے ہوں۔
۷:… حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کی سہولیات کا انتظام کرے، ان کے علاج معالجہ، خوراک، امن وامان اور ان کی حفاظتی تدابیر کو مؤثر بنائے، لیکن حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ مساجد میں پنج وقتہ نماز اور نمازِ جمعہ بالکل موقوف کرادے۔ 
بہرحال محض خدشات کی بناپر مساجد کو بند کرنا اور نماز وجمعہ کی پابندی لگانا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے احکامات نہ دے جو شرعاً جائز نہیں ۔
۸:… عوام کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرے، گزشتہ اعمال پر توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں، نمازوں کا اہتمام کریں، صدقات کی کثرت کریں، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
’’إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفِیُٔ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِیْتَۃَ السَّوْئِ۔‘‘ (رواہ الترمذی،مشکوٰۃ، ص:۱۶۸)
ترجمہ: ’’ صدقہ رب کے غصہ کو بجھاتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مدارس ومساجد اور جامعات میں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے، حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کوپڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، جس میں بار بار درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہو، اللہ تعالیٰ کا بار بار نام لیا جاتا ہو، درود شریف پڑھاجاتا ہو، وہاں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے، وہاں رحمت کے فرشتوں کا بسیرا ہوتا ہے، یہ تو پورے ملک سے وبائی امراض کے دفع کرنے کے مراکز ہیں۔ آپ ان کو بند کرکے گویا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول کو روکنا چاہ رہے ہیں۔ اس کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات نے بہت سارے اقدامات کیے، لیکن مساجد کا نمازیوں کے لیے بند کرنا ان کا ایسا اقدام ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔ انہیں کی دیکھا دیکھی ہماری حکومت نے احتیاطی تدابیر کی آڑ میں مساجد میں نمازِ پنچ وقتہ اور جمعہ پر پابندی کے اعلانات کرنا شروع کردیئے اور پھر منفی ردِ عمل آنے پر کہا کہ نماز مختصر اور جمعہ کے صرف عربی خطبہ پر اکتفاء کریں۔ کیا کسی اسلامی حکومت کے لیے ایسا اعلان کرنا جائز تھا، جبکہ عین حالتِ جنگ میں بھی نماز کی ادائیگی کا حکم ہے۔ 
کیا مساجد میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ہم اپنی مساجد بند کرکے باجماعت نماز سے دوری اختیار کرنے کا سبق نہیں دے رہے؟ جن وجوہات کی بناپر یہ خوف وہراس اور ڈر وخوف کا عذاب مسلمانوں پر نازل ہوا ہے، مسلمان مزید اسی طرف بڑھ رہے ہیں۔ چین کا صدر تو مسجد میں جاجاکر وہاں کے نمازیوں سے اپنے ملک کے لیے دعائیں کرارہا ہے، سڑکوں پر ان کی باجماعت نمازیں ہورہی ہیں، مسلمانوں میں قرآن کریم تقسیم ہورہے ہیں اور ہم مسلمان مساجد بند کررہے ہیں، نعوذ باللّٰہ من ذٰلک۔
آج ہم مسلمان بھی کافروں کی طرح خالص مادی ذہنیت سے اس کرونا وائرس کی روک تھام اور تدارک میں لگے ہوئے ہیں، غیروں کی نقالی اور میڈیا کی بے لگامی نے ماحول میں وہ دہشت اور خوف پھیلادیا ہے کہ الامان والحفیظ۔
پوری دنیا میں آج عالم اسلام دبا ہوا ہے۔ ۵۳؍ اسلامی ممالک ہونے کے باوجود آج اسلام کی پاکیزگیِ نفس، پاکیزگیِ اخلاق اور پاکیزہ روزی کے فوائد وثمرات جیسی اسلامی تعلیمات کے علاوہ آفات وبلیات کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کی کیا تعلیمات ہیں؟ دنیائے اسلام آج انسانیت کی اس معاملہ میں راہبری وراہنمائی نہیں کررہی۔ بلکہ لگتا یوں ہے کہ اسلام اور مسلمان ممالک کفار کے دباؤ میں ہیں۔ دیکھیے! ایک بستی والے نافرمان بنیں گے تو اللہ کا غصہ ایک بستی والوں پر، ایک شہر والے بنیں گے تو غصہ ایک شہر پر، ایک صوبہ کے لوگ بنیں گے تو اللہ کا عذاب صوبہ پر اور جب کئی ممالک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں شریک ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کا غصہ ان سب پر برپا ہوگا۔ آج ۱۲۳ ممالک اس کرونا وائرس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، یہ اللہ کی پکڑ ہے۔ ایسے حالات میں تو مساجد کو آباد کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کے گھروں کو آباد رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہمارا ایمان ہے کہ سب سے مقبولیت کی جگہ اللہ کا گھر ہے اور وہاں بیٹھ کر اللہ سے دعا کی جائے، رویا جائے ، گڑگڑایا جائے۔ اس لیے کہ ہمارا ایمان ہے کہ توبہ واستغفار کیا جائے، اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔
آج ہمارے علماء کرام اور دین دار طبقہ میں ایک گناہ بہت زیادہ کیا جارہا ہے اور وہ ہے موبائل کے ذریعہ تصویریں بنانے کا شوق ، اور وہ بھی اللہ کے گھر میں ، مساجد، مدارس اور دینی تقریبات میں ۔ حد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کعبۃ اللہ کو پیٹھ کر کے لوگ تصویریں بنارہے ہوتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ کو غصہ نہیں آئے گا؟ اللہ ان کو اپنے گھر سے دفع نہیں کرے گا؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہیں آئے گا کہ جاؤ نا! تم اتنے ناپاک ہوگئے ہو کہ ہمارے گھر میں آنے کے قابل نہیں رہے۔ اور دوسری طرف ہمارے دینی مدارس اور مساجد میں قرآنی تقریبات اور ختم بخاری کی تقریبات بڑے دھوم دھام ، فخر ومباہات اور اسراف وتبذیر کے ساتھ ہورہی ہیں ، جو بجائے کم ہونے کے اور زیادہ بڑھ رہی ہیں اور انہی دینی تقریبات اور روحانی محافل میں جو اللہ تعالیٰ کے گھر (مساجد) میں جہاں رحمت کے فرشتوں کا بسیرا ہوتا ہے ، قرآن کریم اور احادیث موجود ہوتی ہیں، لیکن ہمارے علمائے کرام، طلبہ اور دین دار لوگوں کی دھڑا دھڑ موویاں بن رہی ہوتی ہیں، لائیو پروگرام نشر ہورہے ہوتے ہیں، تصویریں اور فوٹو گرافی ہورہی ہوتی ہے، اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں۔ اس منکر کے خلاف کوئی کھل کر مخالفت نہیں کرتا، تو اب اللہ تعالیٰ کا غضب اور قہر نازل نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ 
ہمارے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کو چاہیے کہ وہ بیٹھ کر متفقہ طور پر یہ بات طے کریں کہ کم از کم دینی تقریبات، خصوصاً قرآن کریم، ختم بخاری کی تقریبات کو اس گناہِ بے لذت سے پاک رکھیں اور مساجد میں فوٹو اور تصویر کھینچنے اور مووی بنانے کو ناجائز، حرام اور گناہ قراردیں، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کم ہوگی اور اس طرح کی وبائیں، امراض، آفات اور مصائب وآلام رک جائیں گے۔ اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے گھروں کا اکرام نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے گھروں سے ہمیں نکال دیں گے، ولا فعل اللّٰہ ذٰلک۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔‘‘                                                              (الانفال:۲۵)
’’ اور بچتے رہو اس فساد سے کہ نہ پڑے گا تم میں سے ظالموں پر چن کر اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’ اور بچتے رہو اور ڈرتے رہو اس فتنہ سے کہ جس کا وبال تم میں سے فقط ان لوگوں پر نہ پڑے گا جنہوں نے خاص کر ظلم کا ارتکاب کیا ہے، بلکہ اس کا وبال عام ہوگا، ظالم اور غیرظالم سب ہی اس کی زَد میں آجائیں گے۔ آیت میں فتنہ سے مداہنت فی الدین کا فتنہ مراد ہے کہ جب لوگ کھلم کھلا منکرات کا ارتکاب کرنے لگیں اور اہلِ علم باوجود قدرت کے مداہنت برتیں اور نہ ہاتھ اور نہ زبان سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں اور نہ دل سے اس سے نفرت کریں جو آخری درجہ ہے اور نہ ایسے لوگوں سے میل جو ل کو چھوڑیں تو ایسی صورت میں اگر من جانب اللہ کوئی عذاب آیا تو وہ عام ہوگا، جس میں اہلِ معاصی اور مرتکبینِ منکرات کی کوئی تخصیص نہ ہوگی، بلکہ وہ عذاب مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا، کیونکہ منکرات اور معاصی اگر لوگوں میں شائع ہوجائیں تو ان کی تغییر حسبِ قدرت سب پر واجب ہے اور جو باوجود قدرت کے سکوت کرے تو معلوم ہوا کہ وہ بھی دل سے راضی ہے اور راضی حکم میں عامل کے ہے، بلکہ بعض اوقات رضا بالمنکر، ارتکاب منکر سے زیادہ دین کے لیے مضر ہوتی ہے، اس لیے اس فتنہ پر جو عقوبت اور مصیبت نازل ہوگی، وہ سب کو عام ہوگی۔ ‘‘
بہرحال مسلمانوں کو خواہ حکمران ہوں یا رعایا ، علمائے کرام ہوں یا عوام الناس سب کو اجتماعی توبہ کرنی چاہیے، اپنی کمی کوتاہیوں کی معافی مانگنی چاہیے اور صدقہ وخیرات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، ہمارے ملک پاکستان کو اس وباء سے پاک فرمائے، پوری دنیا سے اس وباء کو ختم فرمائے اور ہمارے ملک کو خوش حال بنائے، آمین۔

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے