بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

پیر طریقت حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ کا سانحۂ ارتحال

پیر طریقت حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ کا سانحۂ ارتحال

۱۷ ربیع الثانی۱۴۳۸ھ مطابق ۱۶ جنوری ۲۰۱۷ء پاکستانی وقت کے مطابق ۹ بجے شب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ کے خادم خاص، محب وممتاز شاگرد،خلیفہ مجاز، مظاہر العلوم سہارن پور کے فاضل، حضرت جی ثالث مولانا انعام الحسنؒ کے خادم وساتھی، ہزاروں مریدوں کے شیخ، مربی ومقتدیٰ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکیؒ اس دنیائے رنگ وبو میں ۷۱ بہاریں گزارکر راہی آخرت ہوگئے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی v کی پیدائش ملک عبدالحقؒ کے ہاں امرتسر ہندوستان میں ۱۹۴۶ء میں ہوئی۔ قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ملک کی تقسیم کے بعد آپ کے والدین پاکستان میں فیصل آباد آکر کچھ عرصہ مقیم رہے، اس کے بعد مکۃ المکرمۃ کو مسکن بنایا۔ مکہ مکرمہ میں آپ کو قراء ت کے لیے مدرسہ صولتیہ میں داخل کرایا گیا، اس کے بعد مکہ مکرمہ میں مختلف اسکولوں میں بارہویں تک پڑھا، اچھے نمبروں سے امتحان پاس کیا۔ آپ کا ارادہ یورپ میں مزید عصری تعلیم حاصل کرنے کا تھا، آپ کے والد صاحب کے ایک دوست کے سمجھانے پر آپ کو ہندوستان بھیجا گیا، یہاں آپ نے تبلیغ میں ایک سال لگایا، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجرمدنی قدس سرہٗ سے بیعت کا تعلق قائم کیا۔ بیعت کی درخواست کے عنوان کے تحت آپ لکھتے ہیں: ’’سہارنپور پہنچ کر اس سیاہ کار نے غالباً دوسرے ہی دن حضرت شیخ قدس سرہٗ سے تخلیہ میں وقت مانگا، حضرتؒ نے ہمیشہ کی شفقت کی بناپر مغرب کے بعد کچے گھر آنے کے لیے فرمایا۔ اس تخلیہ کی تفصیل ذکرکرنے سے قبل ایک بات ضروری عرض کرنی ہے کہ چونکہ تقریباً آٹھ سال کی عمر میں (۱۹۵۴ئ) میں یہ سیاہ کار مکہ مکرمہ والدین کے ساتھ آگیا تھا اور پھر اس وقت سے وہیں کی فضا میں رہنا ہوا اور وہیں کے مدارسِ عصریہ (اسکول) حکومیہ میں ۱۳۸۴ھ مطابق ۱۹۶۴ء تک پڑھا اور جیسے کہ عام طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں تصوف کے خلاف جذبات ہوتے ہی ہیں، یہاں بھی یہی حال تھا، ان جذبات سے اچھا خاصا متأثر تھا، مگر حضرت شیخ قدس سرہٗ اور پھر بعد میں حضرت جی مولانا محمد یوسف v کے ساتھ ان کے آخری ایام میں تقریباً سات ماہ اور بقیہ ایام سال حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحبv کے ساتھ رہنے سے اتنا تو ذہن صاف ہوچکا تھا کہ یہ حضرات اکابر ان صوفیوں میں سے نہیں ہیں جن کے خلاف مدرسے میں جذبات تھے کہ یہ صوفی عام طور پر دین کے نام پہ دنیا کماتے ہیں اور سیدھے سادے لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنا اُلّو سیدھا کرتے ہیں، مگر پھر بھی چونکہ حجاز میں کچھ دینی لوگوں کا ساتھ بھی رہا تھا اور یہاں مدارس (اسکولز) میں بھی دینی مواد خوب پڑھائے جاتے ہیں اور وہ دینی اساتذہ بھی پڑھاتے ہیں، ان کا ایک خاص مزاج ہے کہ ہر بات دلیل سے ہونی چاہیے، اس لیے جو وقت جماعت میں لگا ایک سال سے کچھ زائد، اس میں عام طور پر ساتھیوں میں (جو کہ پرانے ممتاز تبلیغی حضرات ہی ہوتے تھے) کبھی کبھی یہ بات نکل آتی کہ کیا بیعت کے بغیر کوئی شخص کمال تک نہیں پہنچ سکتا؟ تو عام طور پر یہی جواب ملتا کہ :’’بیعت کے بغیر کمال ناممکن ہے‘‘جس پر یہ سیاہ کار اپنی طبعی تیزی کی بناپر جوش میں دلیل کا مطالبہ کرتا اور کئی اکابر سلف کا نام لیتا کہ انہوں نے کسی سے بیعت نہیں کی، وہ حضرات مختلف اسالیب سے مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے اور یقین دلاتے کہ علماء وبزرگوں کے پاس دلائل بھی ہیں، مگر یہ تو ہمارا ہمیشہ مشاہدہ ہے اور تاریخ بھی یہی بتاتی ہے ،مگر یہ عاجز ضد کرتا کہ میں بغیر دلیل کے نہیں مانتا۔اسی طرح کی بحثیں ہوتی رہتیں، اور یہ خلجان طبیعت میں بھی تھا، لہٰذا جب حضرت شیخ قدس سرہٗ نے تخلیہ کا وقت دیا تو اس سیاہ کار کے ذہن میں یہی تھا کہ اپنے کچھ اشکالات حضرت سے حل کراکر بیعت ہوجاؤں گا، چونکہ بیعت کے بارے میں جب بھی کبھی سوچا تو کبھی بھی حضرت شیخ کے علاوہ کوئی اور ذہن میں نہ آیا تھا۔  جب تخلیہ میں وقت موعود پہ حاضر ہوا تو کچے گھر کے صحن میں حسب معمول حضرت شیخ چارپائی پہ ٹیک لگائے تشریف فرما تھے اور اس سیاہ کار کو کواڑ لگاکر پاس والے چبوترے پر بیٹھنے کے لیے فرمایا، اس عاجز نے ذرا سے سکوت کے بعد چھوٹتے ہی یہ سوال کیا کہ: حضرت! کیا بیعت کے بغیر کوئی کمال تک نہیں پہنچ سکتا؟ حضرتؒ جو ٹیک لگائے ہوئے تھے، ٹیک چھوڑ کر بہت زور سے فرمایا: پہنچ سکتا ہے، کون کہتا ہے نہیں پہنچ سکتا؟ حضرتؒ کے اس زوردار اور بالکل خلافِ توقع جواب سے وہ ساری عمارت ہی گرگئی۔۔۔۔۔ اور پھر دوسرے ہی لمحے اس سیاہ کار نے اپنے دونوں ہاتھوں سے حضرتؒ کا دست مبارک تھام لیا کہ پھر مجھے بیعت فرمالیں اور حضرت نے بھی بالکل بغیر کسی ادنیٰ تأمل کے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے ہاتھ پکڑ کے فرمایا کہ:’’ہاں! ضرور! ‘‘ اور پھر بہت ہی توجہ واہتمام اور شفقت سے فرمایا کہ: ’’پیارے! ایک بات بہت غور سے سنو! اصل مقصد نہ تو یہ بیعت ہے، نہ اس راہ کے ذکر واذکار، اور نہ یہ مدارس اور نہ خانقاہیں اور کہیں تم ناراض نہ ہوجانا، نہ یہ تبلیغ میں وقت لگانا، بلکہ کوئی مفتی مجھ پر فتویٰ نہ لگادے، یہ نماز اصل ہے، نہ روزہ، نہ زکوٰۃ، نہ حج، یہ سب اصل مقصد نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ پتہ ہے اصل کیا ہے؟‘‘ اور پھر سکوت پر مجھے گلے لگاکر فرمایا کہ: ’’بس اصل یہ ہے کہ بندہ خدا سے لپٹ جائے، اُسے راضی کرلے الخ۔‘‘ اس کے بعد حضرت نے حسب معمول وہیں اسی بیٹھک میں اس سیاہ کار کو بیعت فرمالیا اور معمولات کا پرچہ بھی مرحمت فرمایا کہ اس کے مطابق عمل کروں اور وقتاً فوقتاً حضرت کو احوال کے بارے میں خط کے ذریعہ مطلع کرتا رہوں۔ بیعت کے بعدپہلی حاضری: حج کے بعد والدصاحب مدظلہ العالی نے طے فرمایا کہ محرم میں حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب ایک چلہ کے لیے پاکستان تشریف لے جارہے ہیں اور پھر وہاں سے بمبئی (گجرات) میں وقت لگاتے ہوئے دہلی جائیں گے۔ تم بھی ان کے ساتھ ہی چلے جاؤ، ایک دو چلے جماعت میں لگ جاویں گے اور پھر حضرت شیخ کی خدمت میں چلے جانا اور رمضان شریف حضرت شیخ ہی کی خدمت میں گزارکر رمضان کے بعد لائلپور (فیصل آباد) آجانا۔ چونکہ شوال کے اخیر میں شادی فیصل آباد میں تایاجان کے گھر طے ہوچکی تھی کہ ادھر سے یہ سیاہ کار پہنچ جائے گا اور حجاز سے والد صاحب وچچاجان پہنچ جائیں گے، لہٰذا اسی کے مطابق حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب کے ساتھ روانگی ہوئی، پاکستان میں ایک چلہ لگایا اور پاکستان والوں نے پورے ملک میں گھمایا، پھر کراچی سے بمبئی آئے اور بمبئی وگجرات میں کچھ دن لگاکر دہلی پہنچے، وہاں شہر دہلی اور میوات کے علاقہ میں کچھ دن لگاکر اور تقریباً دو چلوں کے بعد مجھے حضرت مولانا سعید احمد نے حضرت شیخ قدس سرہٗ کے ہاں چھوڑدیا۔ حضرتؒ بہت خوش ہوئے اور بہت ہی شفقت فرمائی۔ تقریبا ایک ہفتہ قیام کے بعد بارہ تسبیح اوپر تصنیف کے وقت میں بلاکر بذات خود تلقین فرمایااور پھر کچھ مدت تقریباً ایک ماہ یہ سیاہ کار چاشت کے وقت حضرت کے ہاں اوپر جاکر ذکر کیا کرتا اور حضرت کے سبق بخاری شریف میں بھی پورے اہتمام سے حضرت کے حکم سے شرکت کیا کرتا اور حضرت ہی کے حکم سے طحاوی شریف کے سبق میں بھی پابندی سے شریک ہوتا تھا جو کہ حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب کے پاس تھا، اس کے علاوہ حضرت نے ’’فضائل صدقات‘‘ حصہ دوم کو بھی بار بار بہت اہتمام سے پڑھنے کے لیے فرمایا۔تقریباً ایک ماہ بعد پتہ چلا کہ ذکر جہری تہجد کے وقت کرنا زیادہ بہتر ومؤثر ہے تو حضرتؒ سے اس بارے میں عرض کیا تو حضرتؒ نے اسے بہت پسند فرمایا، لہٰذا اس سیاہ کار نے اس وقت سے تہجد کے بعد فجر سے قبل ذکر شروع کردیا اور رمضان شریف تک یہی معمول رہا۔ خلافت واجازت: اسی رمضان میں حضرت قدس سرہٗ نے اجازت بیعت سے نوازا۔ اجازت کے بعد ایک کیفیت یہ طاری ہوئی کہ مجھے علم دین بھی سیکھنا چاہیے، لہٰذا حضرتؒ سے شوال میں اس کے بارے میں عرض کیا، حضرتؒ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور حضرت مولانا محمد یونس صاحب اور حضرت مولانا محمد عاقل صاحب دونوں سے فرمایا کہ: میرا امتحان لیں اور استعداد دیکھ کر طے فرمادیں کہ آئندہ کیا کیا کتابیں پڑھوں، لہٰذا انہوںنے تقریباً آدھ گھنٹہ میرا امتحان لیا اور یہ تجویز فرمایا کہ: فی الحال تو مکہ مکرمہ واپس جاکر ایک سال تک کنزالدقائق اور الفیہ بن مالک اور صرف کی ایک دو کوئی ابتدائی کتابیں پڑھ لوں، پھر شعبان ہی میں سہارنپور آجاؤں۔ شعبان ۱۳۶۶ھ میں یہ سیاہ کار سہارنپور پہنچ گیا، وہاں حضرت مولانا یونس صاحب مدظلہ کی تجویز سے مولانا عبداللہ دہلوی سے ہدایہ اولین پڑھی اور خود حضرت مولانا یونس صاحب مدظلہٗ (حال شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور) سے مشکوٰۃ پڑھنی شروع کی۔ مشکوٰۃ کا سبق شعبان، رمضان اور شوال میں بھی جاری رہا، بلکہ غالباً ذوا لقعدہ کے آخر میں جاکر مشکوٰۃ کی اجازت صرف حضرت مولانا یونس صاحب نے مرحمت فرمائی، اس سبق میں یہ سیاہ کار تنہا ہی ہوتا تھا۔ اور شوال ۱۳۶۷ھ میں حسب قواعد باضابطہ دورہ حدیث میں جامعہ مظاہر علوم میں داخلہ لے لیا۔ قیام دار قدیم میں دفتر کے ساتھ والے کمرہ میں تھا اور کھانا سب اوقات کاحضرت شیخ قدس سرہٗ کے ہاں ہوتا تھا۔امسال حضرت شیخ قدس سرہٗ نے بخاری شریف کاصرف حصہ اول ہی پڑھایا اور دوسرا حصہ حضرت مفتی مظفر حسین صاحب مدظلہ (حال ناظم مظاہر علوم سہارنپور) نے پڑھایا اور یہی حضرت شیخ قدس سرہٗ کا مظاہر علوم تدریس حدیث شریف کا آخری سال ہے۔ طحاوی حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب قدس سرہٗ (ناظم صاحب) کے ہاں ہوئی اور ترمذی حضرت مفتی مظفر حسین صاحب کے ہاں اور ابوداؤد حضرت مولانا محمد عاقل صاحب کے ہاں اور بقیہ تمام کتب حدیث (مسلم، نسائی، ابن ماجہ، مؤطا مالک، مؤطا محمد) سب حضرت مولانا محمد یونس صاحب مدظلہ العالی کے ہاں ہوئیں اور الحمد للہ! اس سال مظاہر کے دورہ میں اول آیا۔ ۱۳۶۸ھ کا رمضان بھی حضرت کی خدمت میں ہی کیا اور پھر اس کے بعد کے سارے ہی رمضان الحمد للہ حضرت ہی کی خدمت میں کرنے کی توفیق ہوئی، پھر مکہ مکرمہ واپسی ہوگئی۔ (حضرت شیخ الحدیثؒ اور ان کے خلفائے کرام، ج:۲، ص:۲۰۴-۲۱۰) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تدریس اور حضرت کی کتب کی طباعت:’’حضرت کے حکم سے ایک گھنٹہ کا سبق (مشکوٰۃ شریف) مدرسہ صولتیہ میں شروع کیا، پھر سال ختم ہونے سے قبل ہی ’’اوجز‘‘ کی طباعت کے سلسلہ میں مصر جانا پڑا، اور پھر کئی سال اوجز، بذل، لامع وغیرہ کتب شروح کی نشر (واشاعت)کے ذیل میں لگ گئے۔ حتیٰ الوسع حضرت قدس سرہٗ کی وفات تک حضرت کی صحبت ورفاقت بھی میسر آئی۔ اس دوران مختلف اوقات میں مختلف ملکوں میں تبلیغی اجتماعات وجماعتوں میں تھوڑے تھوڑے وقت کے لیے جانے کی فرصت بھی ملتی رہی، مگر حضرت شیخ قدس سرہٗ کی حیات کے آخری تین چار سال میں تو حضرت کی صحبت وخدمت کی وجہ سے بالکل ہی کہیں جانانہ ہوسکا۔ حضرت قدس سرہٗ کی وفات کے بعد ۱۴۰۳ھ کے شروع سے پھر الحمد للہ مدرسہ صولتیہ میں مشکوٰۃ شریف کا سبق شروع کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے حدیث شریف کی خدمت میں تاعمر لگائے رکھے، آمین۔ اس دوران حضرت کے حکم سے رسالہ ’’شریعت وطریقت کا تلازم‘‘ کی تعریب بھی کی۔‘‘(حضرت شیخ الحدیثؒ اور ان کے خلفائے کرام، ج:۲، ص:۲۱۰-۲۱۱) ایک بار شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہٗ کے صاحبزادے پیر طریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کی معیت میں حضرت شیخ کے اجل خلفائ: حضرت مولانا عبدالحفیظ مکیؒ، حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی اور حضرت مولانا مختارالدین شاہ صاحب دامت برکاتہم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے توجامعہ کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے ان حضرات کے لیے خیرمقدمی کلمات اور شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: ’’حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم نے اپنے والد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجرمدنی نور اللہ مرقدہٗ کی یاد تازہ کردی۔ حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہٗ جب کراچی تشریف لاتے تو محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہٗ سے ضرور ملنے آتے اور حضرت بنوری v کی وفات کے بعد بھی جامعہ تشریف لاتے۔ وہیل چئیرپر بیٹھے حضرت بنوری v کی قبر پر تشریف لاکر ایصالِ ثواب کرتے اور پھر واپس تشریف لے جاتے۔ ان اکابر کی یہاں تشریف آوری پر وہ پورا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔ آج حضرت شیخ الحدیثv کے صاحبزادہ اپنے رفقاء اور شیوخ کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہیں، یہ ہمارے لیے بہت بڑی سعادت ہے۔‘‘ اس موقع پر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب نے چند مختصر مگر پر اثر نصائح بھی فرمائیں، فرمایا: ’’۱:…تصوف کی مخالفت نہ کریں۔ ہمارے بڑے بڑے بزرگ سب صوفی تھے۔ ۲:…تبلیغ بطرزِ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی v کی جائے اور اس کام میں علماء کو آگے لایا جائے۔ ۳:…حضرت شیخ الحدیث v نے ساری خانقاہیں سنبھالیں۔‘‘  اس پر حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے دعا کرائی اور یہ روحانی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔  راقم الحروف نے اس مناسبت سے شعبان المعظم ۱۴۳۶ھ کا اداریہ ’’علم، عمل اور احسان ۔۔۔۔۔ لازم وملزوم‘‘ کے عنوان سے لکھا، جسے پیرطریقت حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب نور اللہ مرقدہٗ نے بے حد پسند کیا اور اس اداریہ کو کتابی شکل میں شائع بھی کرایا۔ اس کے بعد ایک موقع پر آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے چند کتابچے اپنے ہاتھ سے عطا فرمائے اور فرمایا کہ: ہم نے آپ کی اجازت کے بغیر اُسے شائع کردیا ہے، اس لیے کہ ہمیں یہ بہت پسند آگیا تھا۔ بندے نے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے عرض کیا: حضرت! کوئی بات نہیں، یہ میرے لیے سعادت ہے۔ بہرحال حضرتv اکثر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن تشریف لایا کرتے تھے اور کئی بار جامعہ کی مسجد میں اساتذہ اور طلبہ سے خطاب بھی فرمایا۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی قدس سرہٗ کی کوشش تھی کہ یہ خانقاہی نظام دوبارہ فعال ہوجائے، اس کے لیے آپ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش کے علاوہ جنوبی افریقہ اور کئی دوسرے ممالک کے اسفار فرمایا کرتے تھے اور وہاں کے علمائے کرام اور عوام الناس کو اس خانقاہی نظام سے جڑنے کی ترغیب اور تاکید کیا کرتے تھے۔  آپ افریقہ کے سفر پر تھے کہ طبیعت ناساز ہونے پر آپ کو ہسپتال لے جایا گیا، وہاں علاج معالجہ کی کوشش کی گئی، اسی اثناء میں آپ اللہ کے حضور پہنچ گئے۔ جنوبی افریقہ سے آپ کی میت کو مدینہ منورہ لایا گیا، مسجد نبوی میں آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور جنت البقیع میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔  اس موقع پر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ کے صاحبزادہ شیخ طریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی دامت برکاتہم نے حضرتؒ کے صاحبزادگان سے تعزیت کرتے ہوئے جو تعزیت نامہ تحریر فرمایا، اس سے بھی حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی نور اللہ مرقدہٗ کا حضرت شیخ الحدیث قدس سرہٗ سے جو قرب واُنس اور محبت کا تعلق تھا اس پر روشنی پڑتی ہے، آپ نے تحریر فرمایا: ’’محترم ومکرم صاحبزادگان واہل خانہ حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی ؒ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے عزیز، میرے بھائی ، میرے محسن اور میرے مرشد اور والد صاحب کے عزیز ترین اور قریب ترین، محب وممتاز شاگرد اور خلیفہ محترم جناب مولانا عبدالحفیظ مکی کے سفر آخرت پر روانہ ہونے کی اطلاع سن کر حواس سن ہوکر رہ گئے، سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ہوگیا؟ کیسے ہوگیا؟ مگر قضاء وقدرت کے فیصلوں کے سامنے انسان اور اس کی کاوشیں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں، جو ازل سے مقدر ہے وہی ہوکر رہتا ہے،  للّٰہ ما أعطٰی ولہٗ ما أخذ ولکل أجل مسمّٰی ، فلتصبر ولتحتسب، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، ثم إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ مولانا کی تعزیت میں کس سے کروں؟ میں خود مستحق تعزیت ہوں، میرا ان کا تعلق گھر کے آدمیوں سے زیادہ، ان کی مجھ سے نسبت موجودہ سب نسبتوں سے قوی اور ان کے ساتھ معاملات گھر کے لوگوں سے بڑھ کر ہی تھے۔ ان کی خوبیوں کا، کمالات کا، قربانیوں کا، دینی، ملی حمیت اور اس کے لیے ہر وقت سینہ سپر رہنے اور ہر مشکل سے مشکل منزل کو بلاجھجھک پار کرنے کا ان کا حوصلہ ایسا زبردست اور غیر معمولی تھا، جس کا حضرت والد صاحب اور مولانا عبدالحفیظ کے چھوٹے بڑے حضرت شیخ کے خلفاء اور وابستگان ہوں یا دوسرے سب ہی معترف اور نہایت قدرداں تھے۔ ایسے بلند حوصلہ، کشادہ دوست، عالی مرتبت اور بلند روحانیت والے افراد ہر دور میں بہت کم رہے ہیں۔ مولانا عبدالحفیظ صاحب ہندو پاکستان اور بنگلہ دیش نہیں بلکہ اور بھی متعدد ملکوں اور بیسیوں دینی، ملی تحریکات کے لیے ایک بہت بڑا سہارا، بہت بڑے مددگار اور وقایہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کا اپنے شایانِ شان بھرپور اجرعظیم عطا فرمائے، ان کو جنت الفردوس کی دائمی نعمتیں نصیب کرے، ان کے وارثوں، پس ماندگان، وابستگان کو ان کے محاسن وکمالات کا وارث بنائے، اور مولانا کے تمام اہل خانہ، بچوں، بھائیوں، اقارب، متعلقین اور علمی روحانی وابستگی رکھنے والوں کو اجروصبر اور اس بڑے، بہت بڑے حادثے کو برداشت کرنے کی توفیق سے نوازے۔ میری جانب سے ، میری اہلیہ کی طرف سے سب پس ماندگان ، اعزاء واقارب سے تعزیت مسنونہ اور مضمون واحد عرض کردیں، پیش کردیں، ہم دونوں آپ کے سب کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ افسوس ہے اپنی بیماری اور مسلسل مجبوری کی وجہ سے خود وہاں پہنچ کر تعزیت سے معذور ہیں، اس کی معذرت۔                                               والسلام مع الاحترامات                                               ملول ومحزون اور شریک غم                         (مولانا) محمد طلحہ کاندھلوی(سرپرست مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور) اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آپ کے ساتھ رضا ورضوان کا معاملہ فرمائے اور آپ کے جملہ پسماندگان، معتقدین، متوسلین اور تمام مریدین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازے، آمین

۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے