بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

بینات

 
 

وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک کی اپیل ۔۔۔۔ چند قابلِ غور پہلو

وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک کی اپیل

چند قابلِ غور پہلو


وفاقی شرعی عدالت نے مؤرخہ ۲۸؍ اپریل۲۰۲۲ء کو انسداد ِ ربا کے بارے میں جو فیصلہ صادر فرمایا تھا، اس فیصلہ کو ۲۵؍مئی ۲۰۲۲ء سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیاگیاہے،یہ اپیل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے دائر کی گئی ہے،اپیل میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟ اس کے مندرجات فنی و انتظامی لحاظ سے کس قدر مضبوط یا کمزور ہیں؟ اس کا فیصلہ ماہرینِ قانون کا کام ہے، ہم نے یہاں سرِدست دو باتو ں پر غور کرنا ہے:
1- اسٹیٹ بینک کیا ہے؟ اس کا ضابطۂ کار اور دائرۂ اختیار کیا ہے؟
2-وفاقی شرعی عدالت کیا ہے اور اس کا ضابطۂ کار اور دائرۂ اختیار کیا ہے؟:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بنیادی وظائف میں، نوٹوں کا اجراء، مالی انضباطِ نگرانی، بینکوں کا بینک ہونا، حتمی قرض دہندہ، حکومت کے لیے بینکر ہونا اور زری پالیسی کا انتظام، جب کہ ثانوی وظائف میں رابطہ کاری، سرکاری قرضوں کا انتظام، زرِ مبادلہ کا انتظام، حکومت کو معاشی مشورے دینا اور بین الاقوامی مالی اداروں کے ساتھ تربیتی روابط رکھنا۔ نیز اب اسٹیٹ بینک، مرکزی بینک کی روایتی ذمہ داریوں سے آگے بڑ ھ کر ترقیاتی امور میں شرکت بھی کرنے لگا ہے، مثلاً: پاکستان میں بینکاری نظام کا احیاء، نئےمالیاتی اداروں کا قیام، بیرونی ممالک سے لیے گئے قرض کے استعمال میں راہ نمائی اور اِعانتی قرضوں کی فراہمی وغیرہ بھی اسٹیٹ بینک نے اپنے کاموں اور ذمہ داریوں میں شامل کر رکھی ہے۔(۱)
جبکہ وفاقی شرعی عدالت‘ ۱۹۸۰ء میں مختلف کورٹس کے شریعہ بنچز کے اختتام و انضمام کے طور پر وجود پذیر ہوئی، جو جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دینی کارناموں میں شمار کی جاتی ہے، اس عدالت کا دستوری دائرۂ کار یہ متعین کیا گیا تھا کہ ملک میں نافذ العمل قوانین کےقرآن وسنت کے موافق یا مخالف ہونے کی سماعت کرے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرے،چنانچہ اس عدالت نے ایسے بہت سارے قوانین کو بارہا کالعدم قرار دینے کی کوشش کی، جن کےمتعلق عدالت کا یہ خیال بنا کہ وہ قرآن و سنت کے منافی ہیں، یہاں تک کہ ضیاء الحق مرحوم نے خود اپنے جاری کردہ قوانین کی کینسلیشن کا اختیار بھی اس عدالت کو دے رکھا تھا،جس سےاس عدالت کے اختیارات اوران کے اثرات پر کافی حد تک اعتماد سازی کا فائدہ حاصل ہوا اور اب تک یہی سمجھا جارہا ہے،مگر یہ عظیم اختیارات ایسے چار مستثنیات(۲)(۳) کے ساتھ دیےگئے تھےجن کی طرف عموماً دھیا ن نہیں دیا جاتا اور اس عدالت کے فیصلوں کو محض شرعی اصدارات کے درجہ میں دیکھا جاتا ہے اور جو جج صاحبان بڑی محنتوں سے سینکڑوں صفحات پر فیصلے سنتے اور لکھتے ہیں، وہ چند سطری اپیلوں کے سامنے پارچۂ پاریدہ بن جاتے ہیں، ان شرعی عدالتوں کےایسےقیمتی فیصلو ں کے سامنے حائل یہ چار طاقت ور مستثنیات پر نظر فرمائیں: 
۱-وفاقی شرعی عدالت ملکی دستورکے تحت قائم ہوتی ہے،جس قانون اور دستور کے تحت یہ عدالت وجود میں آتی ہے،یہ عدالت اس قانون کو منسوخ نہیں کرسکتی، یعنی یہ جنم یافتہ ادارہ اپنے جنم دہندہ کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتا؛ لہٰذا دستور میں قرآن وسنت کے خلاف رہ جانے والے امور کی اصلاح کا راستہ وفاقی شرعی عدالت کے علاوہ کوئی اور ہونا چاہیے۔
۲-عدالتی پروسیجر کا استثناء تھا، یعنی ضابطۂ دیوانی و ضابطۂ فوجداری کا استثناء تھا۔
۳-عدالتِ بالا کے قیام کے وقت سے ہی ایک مدت کے لیے مالیاتی قوانین کواس عدالت کےدائرۂ اختیار سے باہر رکھا گیا تھا، اس کےلیے مختلف بہانے کیےگئےتھے۔
۴-شخصی قوانین کا استثناء رکھا گیا۔ اس استثناء کے ذریعہ صدرایوب خان مرحوم کے بنائے ہوئے مسلم فیملی لاء آرڈیننس کا تحفظ مقصود تھا۔ یہ مسلم فیملی لاء مغرب زدہ طبقہ اور جدیدیت کا زبردست مظہر تھا۔(۴)
خیر شرعی عدالت نے ان چار استثناؤں کے ساتھ کام شروع کیا، مگر مالیاتی امور سے متعلق استثناء کا تین سالہ دورانیہ مکمل ہونے لگا تو ضیاء الحق مرحوم نے ۵ سال تک توسیع کردیا، پھر ۵سال ہونے لگے تو اسے دس سال تک وسیع کردیا، پھر ضیاء صاحب کے بعد ۱۹۸۸ء میں جمہوری حکومت آئی تو اس عدالت کے اختیارات حکومت واپوزیشن کے درمیان آنکھ مچولی کا شکار رہے۔ ۲۴؍جون ۱۹۹۰ء کو جب اس عدالت کے اختیارات بحال ہوئے اور عدالت کے روبرو ۱۱۳؍ درخواستیں جمع ہوئیں، تو بالآخر ۱۶؍ نومبر ۱۹۹۱ء کو اس عدالت نے بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دیا۔ ڈاکٹر محمود احمدغازی مرحوم کے بقول: اس فیصلے کو لکھنےکے بعد نظرِثانی کی ضرورت تھی، جسے پورا نہ کرنے کی وجہ سے کچھ سقم رہ گئے تھے اور ضیاء الحق مرحوم کی باقیات کے طور پر وجود میں آنے والی اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کی حکومت نے جون۱۹۹۲ءمیں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائرکردی، اس کے بعد حکومت نے پیروی نہیں کی اور ۱۹۹۹ء تک یہ قضیہ یوں ہی معلّق رہا، اب جب سپریم کورٹ کے بینچ نے اس کیس کی سماعت شروع کی تو حکومت نے اس فیصلے کے بارے میں دوبارہ شریعت کورٹ سے نظرِ ثانی کے لیے درخواست دینا چاہی، لیکن سپریم کورٹ نے سماعت جاری رکھی اور دسمبر ۱۹۹۹ء کو شریعت اپیلٹ بینچ نے اپنا فیصلہ سنادیا اور بینک انٹرسٹ کو ایک بار پھر عدالت نے ربا کے تحت داخل قرار دیا، اور یہ بھی قرار دیا کہ جون ۲۰۰۲ء تک یہ مالیاتی قوانین تبدیل کردئیے جائیں، ورنہ خود بخود ختم ہوجائیں گے، مگر جون ۲۰۰۲ء کی مقرّرہ تاریخ آنے پر حکومتِ وقت مزید ایک سال کی مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی،دوسری طرف اس بینچ کے سابقہ جج صاحبان کو مختلف طریقوں سے ان کے عہدوں سے دور کردیا گیا اور نیا بینچ تشکیل پایا، جس نے یونائیٹڈ بینک کی اپیل پر ۱۹۹۱ء،۱۹۹۹ء کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر امتناعِ ربا والے کیس پر نظرِ ثانی شروع کی۔ یہ وہی معنی خیز نظرِثانی تھی جو حکومتِ وقت شاید ۱۹۹۹ء میں چاہ رہی تھی۔ یہ نظرِ ثانی جون ۲۰۰۲ءسے شروع ہوکر اپریل ۲۰۲۲ء تک دوعشرے کھاگئی، مگر یہاں بھی فیصلہ وہی دہرایا گیاکہ بینک کا سود رِبا کے زمرے میں آتا ہے، اسے ملکی معیشت سے ختم ہونا چاہیے۔
 یہ فیصلہ کیا ہے اور کیسا ہے؟ اس کے بارے میں ہمارامؤقف ۱۵جون۲۰۲۲ء کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوچکا ہے، (۵) اس فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک نے نظرِثانی کی درخواست دائر کررکھی ہے، یہاں اس فیصلے کے تاریخی پسِ منظر اور نظرِ ثانی کے تسلسل کی روشنی میں چند باتیں اربابِ علم وصاحبانِ دانش کی خدمت میں مزید غوروفکر کےلیے عرض کرنا چاہتے ہیں:
1-مسلمانانِ پاکستان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان میں جب بھی سود کی حرمت سے متعلق کہیں سے بھی مؤثر آواز آتی ہے یاقدم اُٹھتا ہے تو سود کو دوام و بقاء بخشنے والے مسلما ن بھائی مختلف اعتراضات، اشکالات اور تحکّمات کی بوچھاڑ شروع کردیتے ہیں، اور اس کےخلاف کھلے عام ایسی محاذ آرائی شروع ہوجاتی ہے کہ حرام کہنے والے دفاعی پوزیشن پر چلے جاتے ہیں، یہاں ایک سچّا مسلمان پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آیا یہ ملک اسلام پسندوں کا ہے یا صرف اسلام بےزاروں کا ہے؟
2-پاکستان میں نظریۂ پاکستان کی منزل یابی کے لیے ۱۹۴۸ء سے تاحال جب بھی اسلامی نظام بالخصوص معیشت کی اسلام کاری کے حوالے سے اقدامات ہوئے،انہیں خوب سراہا گیا اور ایسے بعض اقدامات آئین کا حصہ بھی بن گئے، مگر ان پر عمل درآمد کے لیے آئینی اور انتظامی رکاوٹیں کھڑی ہوجاتی رہیں۔ غور کا مقام یہ ہے کہ ہمارے مخلص کوشاں طبقے نے اپنی جہدِ مسلسل کو جاری رکھا، مگر ان رکاوٹوں کے اصل ذمہ دار وں کا تعیّن اور ان کے اِزالہ کی تدابیر سے روشناس نہیں فرمایا، جس سے کئی ابہامات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
3- ۱۹۹۰ء کے بعد جب سے امتناعِ ربا کےلیے عدالتی راستہ اپنایاگیا ہے، اس وقت سے تاحال جب بھی کسی عدالت نے حرمتِ ربا کا فیصلہ سرزد کیا، اس کےخلاف اس سے بڑاانتظامی یا آئینی ادارہ سامنے آیا اور ہمیشہ ماتحت عدالت کے دائرۂ اختیار اور متعلقہ فیصلے کے فنی سقم کو بنیاد بنایا گیا۔ یہاں غور کا پہلو یہ ہے کہ آیا سود کو حرام قراردینے والے ججز اپنے ادارے کی آئینی حدود، اپنے اختیارات سے ناواقف اور اپنی ضروری مہارتوں سے بے بہرہ تھے؟ یا پھر اس قسم کی عدالتیں اپنے آئینی وجود میں اس قابل نہیں ہیں کہ ان کے فیصلوں کو قبولیت اور پذیرائی مل سکے؟ ہمارے خیال میں دوسرا پہلو راجح ہے۔ اگلے نمبر میں اس کی مزید وضاحت ہے۔
4-وفاقی شرعی عدالت جس عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آئی تھی، وہ بالکل واضح ہے،مگر روزِ اول سے اس کے فیصلوں کو غیر مؤثّر کرنے والے ’’چار مستثنیات‘‘ اس عدالت کے ہر فیصلے پر منڈلا تے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آج تک جب بھی اس عدالت نے امتناعِ ربا کا فیصلہ کیا، اسے عدالت کے مقررہ دائر ۂ اختیار سے تجاوز قرار دے کر کالعدم یا نظرِ ثانی کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ یہاں پر مخلص مسلمان سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ آیا اس عدالت کادائرۂ کار محض کاغذات کے پلندے تیار کرنے تک محدود ہے؟ ان عدالتو ں سے وابستہ ماضی یاحال کے جج صاحبان کے قیمتی اوقات اور محنتیں محض بہکاوا اور بہلاوا ہیں؟ اس ظاہری تأثر کے تحت یہی کہا جاسکے گاکہ وفاقی شرعی عدالت خود عدل وانصاف کی محتاج ہے۔ اس کے فیصلوں کو آئینی حیثیت دلانے کے لیے خود اس عدالت کو انصاف فراہم کیا جائے اور جن جج صاحبان نے ماضی یاحال میں اس عدالت میں خدمات انجام دی ہیں، ان کی خدمات کو کارِ عبث کی بجائے کارآمد قراردینے کی کوئی تدبیر کی جائے۔ اس معزز عدالت اور فاضل ججو ں کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، بصورتِ دیگر پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کو اسلام اور نظریۂ پاکستان کےساتھ تمسخر اور مذاق ہی سمجھا جائے گا۔
5-اسٹیٹ بینک کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت کےفیصلے کے خلاف نظرِثانی کی اپیل نے اس کی اپنی پوزیشن، اپنے ماتحت کام کرنےوالے بینکوں اوران بینکوں کے ذمہ داروں کے بارے میں کئی ابہامات واضح کردئیے ہیں۔ اب یہ غور کرنا ہوگا کہ:
(الف):اسٹیٹ بینک آف پاکستان،حکومتِ پاکستان کے زیرِ انتظام نہیں رہا، بلکہ’’ مدنی ریاست‘‘ کے نعرو ں کی گونج میں آئی-ایم-ایف کےتابع ہوچکا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک سے ہم خیر کی کیا توقع رکھیں؟ یا اس سے نظرِ ثانی والی اپیل کی واپسی کااصرار کیسے کرسکتے ہیں ؟ یہ اصرار کرتے ہوئے ہم اسٹیٹ بینک کو اسلامی احکام اور ملکی آئین کا پابند قرار دے سکتے ہیں ؟
(ب): اسٹیٹ بینک ویسےبھی بینکاری کے عالمی قوانین کے مطابق ورلڈ بینک کی پالیسیوں کا پابند ہوتا ہے اور اسٹیٹ بینک کے واسطے سے سارے منسلکہ بینک اصولاً، انتظاماًان پالیسیوں کے پابند ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمارے لیے کیسے ممکن ہوگاکہ اسٹیٹ بینک کے اجازت نامہ کے طفیل وجود میں آنے والے بعض بینکوں کواسٹیٹ بینک کی علانیہ ہم نوائی پر ملامت کریں اور دوسرے بعض کو خاموش التزام پر کچھ نہ کہیں ؟
(ج):اگر کوئی بینک خود کو اسٹیٹ بینک کی انتظامی پالیسیوں کے التزام سے مستثنیٰ سمجھتا ہے تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ اس موقع پر کُھل کر اسٹیٹ بینک کی مخالفت میں عدالت میں کھڑا ہو، بصورتِ دیگر ان کا طرزِعمل، مجرمانہ خاموشی اور خاموش تائید شمار ہوگی۔ اس اخلاقی چیلنج کی رو سے اسٹیٹ بینک کی اپیل کی حمایت میں جن بینکوں کے نام لیے جارہے ہیں، ان کی طرح اسٹیٹ بینک کی N-O-Cسے بینکنگ مارکیٹ میں آنے والے نام نہاد اسلامی بینک بھی برابر کے مجرم ہیں، اس لیے کہ اس ہم نوائی یا پیروی میں اسٹیٹ بینک کی اپیل جس شرعی دفعہ کے تحت جرم ہے، اسی دفعہ کے تحت اس کے ماتحت تمام بینک بھی مجرم ہیں،اس لیے کہ اب یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوناچاہیے کہ جنم پذیر جنم دہندہ کے تابع ہوتے ہیں۔
(د):اسٹیٹ بینک کی اس رٹ سے یہ بھی واضح ہواکہ جزء ہمیشہ اپنے کل کاتابع ہوتاہے،جب کل اصلاح کے قابل نہ ہو یاقابلِ اصلاح ہو، مگر اصلاح نہ کی جائے تو اس کے اجزاء کی اصلاح کادعویٰ محض فریب ہی ہوسکتاہے،فی زمانہ بطورِ خاص سوچنا چاہیے کہ جس اسٹیٹ بینک کو ہمارے بعض علماء کرام بڑے بڑے اسلا می تمغوں سے نوازتے ہوئے اپنےبینکوں کواسلامی لائیسنس یافتہ قرار دیا کرتے تھے، اب ان کے دعووں کی صداقت کا کوئی عنوان نہیں بچا،بالخصوص ہمارے اسٹیٹ بینک کے مغرب بیاہ جانے کے بعد ہمارے پاس کیا جواز بچتاہےکہ ہم اس اسٹیٹ بینک کے اسلامی جذبات او راسلامی بینکاری کے شوق اورفروغ کے گُن گاتے پھریں !
(ھ):اس واضح صورتِ حال کے بعد اسٹیٹ بینک اور (بجا یا بے جا طور پر ) اس کی ہم نوا چاروں بینکوں کے بارے میں بینکوں سے وابستہ ہمارے معزز علماءِ کرا م کامؤقف قطعی غیر مبہم ہوجاناچاہیے تھا، مگر حیرت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک، اس کے شریعہ ڈیپارٹمنٹ او راس کی ملازمت کے بارے میں کسی کا کوئی ردِعمل،احتجاج، استعفا، یاقطع تعلقی کاکوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ہمارے بعض احباب نےصرف چار بینکو ں کے بائیکاٹ پر ’’دعوتِ دین‘‘کافریضہ سنبھال رکھاہے، مگر وہ بھی اس احتیاط کے ساتھ کہ ان چار بینکوں کی اسلامی کھڑکی کے پہرےدار وہاں سے استعفیٰ دینے کے شرعاً و اخلاقاً پابند نہیں ہیں ۔
(و): اسٹیٹ بینک کی اس اپیل سے ہمارے اسلامی بینکرز کےوہ دعوےبھی پایۂ ثبوت کو پہنچ چکے ہیں کہ اسٹیٹ بینک نے انہیں اسلامی اُصول پر تجارت کی اجازت دے رکھی ہے اور سودی معاملات سے استثناء دے رکھا ہے۔حالیہ فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک کی اپیل کے بعدکم ازکم ہمارے ان معزز احباب کواسٹیٹ بینک کی کلّی اسلامیت اوراس سے مستفاد اپنی جزوی اسلامیت کے راگ اَلاپتے ہوئے احتیاط سےکام لینا چاہیے۔

فرحم اللہ من أنصف وبارک اللہ لمن حرم حرامہ وأحل حلالہ، آمين

حواشی وحوالہ جات

۱:-دیکھیں:4B و 4C اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ(1956ء)
۲:-’’قانون‘‘ میں کوئی رسم و رواج شامل ہے جو قانون کا اثر رکھتا ہو، مگر اس میں دستور، مسلم شخصی قانون،کسی عدالت یا ٹریبونل کے ضابطہ کار سے متعلق کوئی قانون یا، اس بات کے آغازِ نفاذ سے [دس] سال کی مدت گزرنے تک، کوئی مالی قانون یا محصولات یا فیسوں کے عائد کرنے اور جمع کرنے یا بیمہ کے عمل اور طریقے سے متعلق کوئی قانون شامل نہیں ہے: آرٹیکل ۲۰۳ ب۔(ج)، آئین پاکستان
۳:-غازی، محمود احمد، اسلامی بینکاری-ایک تعارف، ص:۹۵-۹۶، زوار اکیڈمی، ۲۰۱۰ء
۴:ایضاً، ص:۹۷
۵: امتناعِ رِبا…وفاقی شریعت عدالت کا فیصلہ (jang.com.pk)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین