بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 محرم 1442ھ- 18 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

نقد ونظر جمادی الآخرۃ 1441ھ

نقد ونظر جمادی الآخرۃ 1441ھ

 

حیاتِ سروَر (طبع ثانی)

مولانا محمد عتیق الرحمن صاحب۔ صفحات:۴۳۲۔ قیمت: ۵۰۰ روپے ۔ ناشر:ادارہ علم وعمل، لاہور، جامعہ عبد اللہ بن عمرؓ، ۲۳ کلومیٹر، فیروز پور روڈ، لاہور۔
پیشِ نظر کتاب جیساکہ نام سے ظاہر ہے شیخ الحدیث حضرت مولانا صوفی محمد سرور رحمۃ اللہ علیہ  کے حسین تذکرہ پر مشتمل ہے۔ مؤلف موصوف کا گلہائے عقیدت پر مشتمل یہ مجموعہ حضرت صوفی صاحبؒ کے تذکرے، دلچسپ حکایات، واقعات اور سیرت وسوانح کا حسین گل دستہ ہے، جس میں نہ بے جا طوالت ہے، نہ مبالغہ آرائی اور نہ ہی کوئی بے سند اور بے تحقیق بات لکھی گئی ہے۔ اُمید ہے کہ حضرت صوفی صاحبؒ کے عقیدت مند، اور ذوقِ مطالعہ رکھنے والے حضرات اس حسین گلدستہ کی ضرور قدر افزائی فرمائیں گے۔ کتاب دورنگہ ہے۔ کتابت وطباعت کے ساتھ ساتھ کاغذ بہت اعلیٰ ہے۔

مکاتیبِ نافعؒ

تحقیق وتعلیق: ڈاکٹر حافظ عثمان احمد صاحب(ادارہ علوم اسلامیہ، جامعہ پنجاب، لاہور)۔ صفحات:۴۳۷۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر:رحماء بینہم ویلفئیر ٹرسٹ۔ تقسیم کار: دارالکتاب، یوسف مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔
حضرت مولانا محمد نافع  رحمۃ اللہ علیہ  دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کے شاگرد ومرید تھے۔ حضرت مولانا محمد نافع صاحبؒ نے دفاعِ صحابہؓ کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی تھی۔ آپ کے فیضِ قلم سے رحماء بینہم، مسئلہ اقرباء نوازی، بناتِ اربعہ، حضرت ابوسفیان q  جیسی اہم کتابیں منصہ شہود پر آئیں اور اپنے اسلاف کی راہ پر چلتے ہوئے اندازِ بیان اور طرزِ تحریر ایسا اعتدال پر ہوتاکہ مخالف بھی پڑھے تو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ آپ جب بھی کوئی کتاب تحریر کرلیتے تو بڑے علماء اور اداروں کو اپنی کتاب نقد وتبصرہ کے لیے ارسال فرماتے اور پھر اسی غرض سے آپ کی خط وکتابت بھی ہوتی، اسی طرح علمائے کرام اپنے اشکالات کے حل کے لیے حضرت موصوف سے خط کے ذریعے رابطہ کرتے تو حضرت ان کو شافی اور تسلی بخش جواب عنایت فرماتے۔ یہ سوال وجواب کئی علمی موضوعات اور علمی باتوں پر مشتمل ہوتے تھے، جن کو حضرت مولانا محمد نافع صاحبؒ نے محفوظ رکھا ہواتھا، اب آپ کے صاحبزادے محمد ابوبکر صاحب کی توجہ، محنت اور دل چسپی سے یہ علمی سوغات آہستہ آہستہ منصہ شہود پر آنا شروع ہوئی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب آپ کے اطلاعی اور جوابی خطوط پر مشتمل ہے، جس میں مندرجہ ذیل نوحضرات کے ساتھ خط وکتابت کے مجموعہ کو شاملِ اشاعت کیاگیاہے:
۱:… حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب۔ ۲:…مولانا منظور احمد آفاقی صاحب۔ ۳:… مولانا فضل حق صاحب۔ ۴:…مولانا سید محمد قاسم شاہ صاحب۔ ۵:…مولانا عبد الحمید تونسوی صاحب۔ ۶:… مولانا مفتی شیر محمد علوی صاحب۔ ۷:…ڈاکٹر میجر حافظ قاری فیوض الرحمن جدون صاحب۔ ۸:…ڈاکٹر غلام محمد صاحب۔ ۹:… حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ ۔
مؤلف نے ترتیب یہ رکھی ہے کہ ہر شخصیت کے خطوط شروع کرنے سے پہلے اس کا مختصر تعارف بھی کرادیا ہے اور ان خطوط میں جو بات مغلق تھی حاشیہ میں اس کی وضاحت بھی کردی ہے۔ کسی کتاب یا شخصیت کا نام آیا تو حاشیہ میں اس کی وضاحت بھی کردی ہے۔
یہ کتاب اہلِ علم کے لیے ایک عمدہ سوغات ہے۔ البتہ کتاب کا کاغذ اس کے شایانِ شان نہیں لگایا گیا اور نہ ہی پروف ریڈنگ میں تصحیح کا کوئی خاص لحاظ رکھا گیا ، جس کی وجہ سے اس میں اغلاط درآئی ہیں۔

سیرتِ خلفائے راشدینؓ وشرکائے جمل وصفین

مولانا احسان اللہ عمر سعیدی صاحب۔ صفحات: ۴۵۶۔ قیمت: درج نہیں۔ اسٹاک: مکتبۃ السعد، دکان نمبر: ۱۳، قرآن محل، اردو بازار، کراچی
مؤلفِ کتاب مولانا احسان اللہ عمر سعیدی صاحب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل اور مناظرِ اسلام حضرت مولانا عبد الستار تونسوی نور اللہ مرقدہٗ کے خاص شاگرد ہیں، جنہوں نے بڑی خوبصورتی اور عمدہ انداز میں خلفائے راشدینؓ کی سیرت،ازواجِ مطہراتؓ کے حالات، صحابہ کرامؓ کے آپس کے تعلقات اور اُن پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات اور جنگِ جمل وصفین کے شرکاء کا تذکرہ تحریر کیا ہے۔ مؤلف موصوف نے اپنی طرف سے کچھ لکھنے کے بجائے اکابرین کی تحریروں کو ایک لڑی میں پروکر پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ کتاب کے شروع میں اکابر علمائے کرام کی تصدیقات ثبت ہیں۔ ماشاء اللہ کتاب باحوالہ اور مدلل ہے۔ 
مشاجراتِ صحابہؓ ایک ایسا عنوان ہے جس کے بارہ میں اسلاف کی ہدایات یہ ہیں کہ اس بارہ میں توقف اختیار کیا جائے ، لیکن کیا کیا جائے کہ سبائیت نے ایسا زہر پھیلایاہے کہ جسے عمدہ تریاق کے ذریعے ختم کرنا ضروری ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کا صحیح تعارف اور ان مشاجرات کی صحیح حقیقت دلائل کی روشنی میں نئی نسل کے سامنے پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ الحمد للہ! مولانا نے اس معاملہ میں جادۂ اعتدال اور اسلاف کی راہ پر چلتے ہوئے مشاجراتِ صحابہؓ کی بہترین تصویر اور اہل سنت والجماعت کا موقف اُمت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کی محنت کو قبول فرمائے۔

تذکرہ مولانا عبد الرحمن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ 

مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی (مانسہرہ)۔ صفحات:۱۱۲۔ قیمت:درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ انوارِ مدینہ، جامع مسجد صدیق اکبرؓ، محلہ صدیق آباد، مانسہرہ، ہزارہ
حضرت مولانا عبد الرحمن رحمانی  رحمۃ اللہ علیہ  جامعہ رحمانیہ بفرزون کے بانی اور رئیس تھے۔ آپ نے زندگی بھر دینِ متین کی خدمت کی اور آپ کی خواہش اور آرزو کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارضِ مقدس حرمِ مکہ میں موت نصیب کی اور مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلّٰی میں آپ کو قبر ملی۔ یہ کتابچہ آپ کے حالات پر مشتمل ہے، جسے مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی نے مرتب کیا ہے۔ بہتر ہوتا کہ اس کی کتابت کچھ جلی ہوتی اور کسی اچھے کمپوزر سے اس کی کمپوزنگ اور سیٹنگ کرائی جاتی۔ شاید جلدی میں اس کو چھاپ دیا گیا ہے۔ اُمید ہے آئندہ ایڈیشن میں اس کا خیال رکھا جائے گا۔ بہرحال حضرت مولانا کے تعارف کے لیے یہ کتابچہ اچھا معاون ہے۔

مسنون دعائیں (تخریج وتحقیق شدہ)

تالیف:حضرت مولانامفتی محمدعاشق الٰہی نوراللہ مرقدہٗ۔ تخریج وتحقیق: مفتی احسان الحق۔ صفحات:۷۶۔ ناشر:مکتبۃ الحسنیٰ، کراچی
حضرت مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بطور صدقہ جاریہ ایک عظیم علمی، تصنیفی وتالیفی سرمایہ چھوڑا ہے، انہی میں سے ایک زیرِ نظر کتاب ’’مسنون دعائیں‘‘ ہے، جوکہ نہایت مقبولِ عام کتاب ہے اور بعض مدارس میں یہ طلبہ کو زبانی یاد بھی کرائی جاتی ہے۔ کتاب میں تقریباً ۱۱۷ دعائیں ترجمہ کے ساتھ درج ہیں ، مفتی احسان الحق صاحب نے اس کتاب کی ازسرِنو تخریج وتحقیق جدید طرز پرکی ہے۔ 
الحمدللہ! اب یہ کتاب تخریج کے ساتھ ساتھ دید ہ زیب ٹائٹل اور عمدہ طباعت سے مزین ہوکر منظرِعام پرآئی ہے۔ امید ہے کہ اس کی پذیرائی کی جائے گی۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے