بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

بینات

 
 

مکاتیب حضرت مولانا محمد بن موسیٰ میاں  رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ


مکاتیب حضرت مولانا محمد بن موسیٰ میاں  رحمۃ اللہ علیہ (1)

بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
۳ ؍ذوالحجہ سنہ ۱۳۶۳ھ  -  ۲۰ ؍نومبر ۱۹۴۴ء
محبِ مخلص مولانا سید محمد یوسف صاحب دامت برکاتکم، سملک
 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

عرصہ سے گرامی نامہ نہیں ملا، اُمید (ہے) کہ مزاجِ گرامی بخیر ہوگا۔ الحمدللہ یہاں امن وعافیت ہے۔ ۲۷ ؍اکتوبر کو آپ کے نام چار پاؤنڈ کا منی آرڈر کیا ہے، ان شاء اللہ مل گیا ہوگا۔ یہ رقم آپ کے مصارفِ ذاتیہ کے لیے ہدیہ ہے، وصول وقبول فرماکر رسیدِ وصول یابی تحریر فرمائیے گا، ولکم الفضل والمنۃ!
مخدوم حاجی چچا صاحب مدظلہ (2) کے نوازش نامہ سے معلوم ہوا کہ آپ کسی وجہ سے آپ کے موجودہ مشغلہ سے خاطر برداشتہ ہیں، افسوس ہوا۔ میں دعا گو ہوں کہ آپ کی خاطر جمعی ہوجائے، اور آپ اپنے کاموں کو اطمینان سے پورا کرسکیں، اللّٰہم استجب دعوتي۔ 
فرزند (3)    کی ولادت کی اطلاع مولانا محمد نانا صاحب کے خط سے ہوئی، اللہ نیک نصیب کرے اور والدین کے لیے قرۃ العین ہو۔ نام کیا رکھا ہے؟ تحریر فرمائیے گا۔ 
فی الحال مجلس (مجلسِ علمی، ڈابھیل) میں کیا کام ہو رہا ہے؟ اور کن کاموں کی تکمیل کی ضرورت ہے؟ اپنے خیالات اور مشورہ لکھیے گا، اور گاہے گاہے اپنی اور بچوں کی خیریت کا خط اور اپنے علمی مشاغل کے حالات لکھا کیجیے گا، انتظار اور شوق ہے۔ 
مولانا احمد بزرگ صاحب(4)، حاجی ابراہیم چچا صاحب، مولانا احمد رضا صاحب (5)، مولوی نور الدین، مولوی حبیب اللہ صاحبان کو سلام، بچوں کو پیار ودعاء۔ 
چند جانماز قالین کی ضرورت ہے، فی الحال پشاور میں دست یاب ہیں یا نہیں؟ ملتے ہوں تو چند چار پانچ منگوا بھیجیے گا، حاجی چچا قیمت ادا فرمادیں گے۔ 
والد صاحب مدظلہ (مولانا محمد زکریا بنوری رحمہ اللہ) کو خط لکھیں تو میرا سلام لکھیے گا۔
                                                                      والسلام 
                                                   احقر محمد بن موسیٰ عفا اللہ عنہما

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مکرم ومحترم جناب مولانا سید محمد یوسف صاحب دامت فیوضکم السامیۃ! (مجلسِ علمی، سملک) 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کا گرامی نامہ اور کارڈ دونوں ملے تھے، اور حسبِ ارشاد اجمالی جواب تار سے دے دیا تھا۔ مجلسِ علمی کو منتقل کرنے کے لیے پہلے سے بھی خیال تھا، اور اب بھی ارادہ ہے، لیکن شاید اس میں کچھ تاخیر ہو۔ اللہ جلّ ذکرُہ کو منظور ہو تو کیا عجب ہے کہ نہ صرف مجلس، بلکہ ایک ایسا مرکز نصیب ہو کہ جہاں اعلیٰ تعلیم وتربیت، تصنیف وتالیف، تبلیغ وخالص اسلامی زندگی، بود وباش کی فراغت سب یکجا مل جائیں، اللہ جلّ شانُہ جلد مقدر فرمادے۔ 
یہ کہ آپ صرف تنخواہ کی کمی بیشی کی وجہ سے علیحدہ ہو رہے ہیں، اس کو میرا دل باور نہیں کرتا۔ آپ یا مجلس ایک دوسرے کے لیے گراں بار ہے، اس خیال کو دل سے نکال دیجیے، ہمارے آپ کے تعلقات اور خلوص میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ صرف افسوس اور قلق اس بات کا ہے کہ آپ کی سب سے بہتر افادی خدمت درسِ حدیث فی الحال منقطع ہے، اس کا بہت زیادہ صدمہ اور پریشانی ہے، اسی وجہ سے عارضی رخصت پر بھی آمادہ ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کوئی بہتری پیدا فرمادے، آمین!
آپ نے پوری وضاحت اور صاف دلی سے بات لکھ دی، یہ اچھا کیا۔ مجھے تو آپ کے صاف لہجہ سے بہت فائدہ بھی ہوجاتا ہے، اور زعم کو درست بھی کرلیتا ہوں، اور بہر حال آپ کے نوازش ناموں کے بہت سے حصے مفید مشوروں پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے ان سب کا شکریہ عرض ہے۔ آپ ہمیشہ خطوط ودعاؤں سے یاد فرماتے رہیں۔ 
والد صاحب مدظلہ کو میرا سلام لکھیں، بچوں کو پیار ودعاء۔ 
                                                                  والسلام 
                                   احقر محمد بن موسیٰ میاں عفا اللہ عنہما 
                                                        ۲۲؍ ربیع الاول سنہ ۱۳۶۴ھ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الأحد ، ۱۶؍جمادی الاولیٰ سنہ ۱۳۶۷ھ 
محترم ومکرم جناب مولانا سید محمد یوسف صاحب زیدت مکارمکم! سملک 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

کل ایک عریضہ حاجی ابراہیم میاں چچا صاحب کے ہاتھ بھیج چکا ہوں، جو مل گیا ہوگا۔ یہاں محمد ظفر احمد انصاری صاحب تشریف لائے تھے، مولانا شبیر احمد صاحب (عثمانی) کے مشورہ سے وہ یہاں ایک اجتماع کرنا چاہتے ہیں، جس میں ڈاکٹر حمید اللہ صاحب (حیدر آبادی)، مولانا سید سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع صاحب وغیرہ حضرات بلائے جا رہے ہیں، یہ لوگ یہاں چند ماہ قیام فرما کر اسلامی نظامِ حکومت کا خاکہ تیار فرمائیں گے، ان کے لیے مراجعت کے لیے کتابوں کی ضرورت ہوگی۔ 
ظفر صاحب کی یہ خواہش ہے کہ مجلس کی کتابوں میں سے جن کتابوں میں اس کا مادہ ہو، وہ کتابیں یہاں آجائیں تو کام میں سہولت ہوگی۔ آپ انتخاب فرماکر ایسی کتابوں کو ایک صندوق میں بند کرکے کسی معتمد آنے والے کے ہمراہ بھیج دیں۔ عنقریب یوسف سلیمان بہرہ، آسنہ سے اپنے اہل وعیال کے ساتھ آنے والے ہیں، ان کو یہ بکس دے دیا جائے تو وہ بخوشی ساتھ لائیں گے، میں نے انہیں کہہ دیا ہے۔ سورت سے جناب حاجی محمد صدیق واگہ بکری والے بھی شاید آرہے ہیں، ان کے ہمراہ اور جو کوئی اور پہلا آدمی آرہا ہو، ہر ایک کے ساتھ رفتہ رفتہ کتب خانہ وذخیرہ آتا رہے تو اچھا ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ دو ثلث ذخیرہ اور پورا کتب خانہ یہاں جلد آجائے، جوہانسبرگ سے بھی اس کا تقاضا ہے۔ 
واپسی ڈاک یہ تحریر فرمائیں کہ بخاری وترمذی کہاں تک ہوگئی؟ اور رفتار کیا ہے؟ مسجدِ سملک میں گاہ بگاہ طلبہ آجاتے ہیں، اور کوئی سبق یہاں بھی ہوتا ہے یا نہیں؟
مجھے ہزارہ وپشاور آپ کے ہمراہ جانا ہے، اس لیے ایک دو ہفتہ کے لیے آپ کو بلانا ہے، تو آپ انہیں مطلع کردیں اور اسباق کو زیادہ پڑھا دیا کریں، تاکہ طلبہ کا نقصان نہ ہو اور کسی کو گرانی وشکایت کا موقع نہ آئے۔
 اگر ضرورت ہو تو مولانا سید احمد رضا صاحب کی امداد کے لیے مقامی وغیر مقامی دو تین آدمیوں کو متعین فرمادیں، تاکہ وہ کام سے فارغ ہو کر جلد یہاں آجائیں۔ 
مولانا احمد بزرگ صاحب، مولوی سید احمد رضا صاحب، اراکینِ مجلس احباب کو سلام، بچوں کو پیار ودعاء۔
                                                         والسلام 
                       احقر محمد بن موسیٰ میاں عفا اللہ عنہما

حواشی 

(1) مولانا محمد بن موسیٰ میاں رحمہ اللہ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے خاص معاون اور مجلسِ علمی (ڈابھیل وکراچی) آپ ہی کا قائم کردہ ادارہ ہے، جس سے علامہ کشمیریؒ و دیگر اکابر کی گراں قدر کتابیں شائع ہوئیں۔ والد ماجد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے محبت ومودت کا گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ۲۱ ؍ذیقعدہ ۱۳۸۲ھ مطابق  ۱۶؍اپریل ۱۹۶۳ء کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں وفات پائی۔ (ملاحظہ فرمائیے: تاریخ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، از مفتی عبد القیوم راجکوٹی، ص : ۱۸۱ و ۱۸۲، ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)
(2) مولانا محمد بن موسیٰ میاں ؒکے چچا حاجی ابراہیم میاں رحمہ اللہ مراد ہیں۔ موصوف‘ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے ابتدائی دور میں خزانچی اور بعد میں کچھ عرصہ مہتمم بھی رہے۔ ۲۹ ذو الحجہ ۱۳۹۲ھ مطابق  ۴؍فروری ۱۹۷۳ء کی شب میں وفات پائی۔ (ملاحظہ فرمائیے: تاریخ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، از مفتی عبد القیوم راجکوٹی، ص :۲۱۶)
(3) والد ماجد حضرت بنوری رحمہ اللہ کے پہلے صاحب زادے محمد الیاس مراد ہیں، جو کم عمری میں ہی وفات پا گئے تھے۔ 
(4) مولانا احمد بزرگ رحمہ اللہ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے مہتمم رہے۔ آپ کی دعوت پر ہی علامہ کشمیریؒ اور ان کے رفقاء، جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لائے۔ ولادت غالباً ۱۲۹۸ھ میں ہوئی اور ۱۳۷۱ھ میں وفات پائی، سملک کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ (ملاحظہ فرمائیے: تاریخ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، از مفتی عبد القیوم راجکوٹی، ص: ۳۱۵ تا ۳۲۱)
(5) مولانا سید احمد رضا بجنوری رحمہ اللہ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل، علامہ کشمیری رحمہ اللہ کے خاص شاگرد اور داماد تھے۔ مجلسِ علمی میں والد ماجد حضرت بنوری رحمہ اللہ کے رفیقِ کار تھے، مصر وغیرہ کے سفر میں بھی رفاقت رہی۔ حضرت کشمیری رحمہ اللہ کے افادات پر مشتمل کتاب انوار الباری شرح صحیح البخاری موصوف نے ترتیب دی ہے۔ ۱۴۱۸ھ میں وفات پائی۔ 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین