بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

مکاتیب حضرت مولانا احمد رضا بجنوری   رحمۃ اللہ علیہ  بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ

مکاتیب حضرت مولانا احمد رضا بجنوری   رحمۃ اللہ علیہ 

بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
از بجنور، چاہ شیریں (محلہ‎)
۳۰‎ ‎؍ اکتوبر سنہ ۱۹۳۷ء
محترم بندہ، دام مجدُکم وعمّت مکارمکم‎! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ‎! ‎

گرامی نامہ نے مسرور کیا، اُمید (ہے) کہ آپ پشاور پہنچ گئے ہوں گے، اور کچھ مشورہ بھی دہلی بھیج دیا ہوگا، بقیہ پشاور سے پتہ ذیل پر بھیج دیجیے: (مولوی عبد السلام صاحب کاتب بلند شہری، بر مکانِ اکرام الدین صاحب کارخندار (کارخانہ دار)، پنڈٹ کا کوچہ، دہلی)۔‎ ‎
میں الیکشن کی وجہ سے کہیں نہیں جا سکا، ایک حلقہ میرے بھی سپرد تھا، الحمد للہ ۲۷ کو الیکشن خیر وخوبی سے گزر گیا، اور حافظ صاحب کو ۸۰ فیصد ووٹ حاصل ہوئے، ۶؍ نومبر کو نتیجہ بھی سنا دیا جائے گا۔ احرار کانفرنس بٹالہ میں کیا کچھ دیکھا؟ مطلع کریں۔ غالباً تعطیلِ رمضان میں قیام پشاور ہی (میں) رہا ہوگا۔ ’’مشکلاتُ القرآن‘‘ سب طبع ہوچکی، اب مقدمہ ہی باقی ہے۔ میں دو چار روز میں شاید دہلی جاؤں۔‎ ‎
والد صاحب کچھ علیل ہیں، دعاء صحت کیجیے گا۔ مخدومی ماموں صاحب (مولانا فضل صمدانی صاحب رحمہ اللہ) کی خدمت میں سلام فرمائیں۔‎ ‎
افریقہ سے حال میں کوئی خط نہیں آیا، میں نے لکھ دیا ہے۔ مفتی (مہدی حسن شاہ جہان پوری) صاحب کا خط ملا، لکھا ہے کہ مہتمم صاحب کا کوئی پرچہ میرے نام تھا، وہ آپ کو دے دیا تھا، شاید آپ یہاں بھیجنا بھول گئے، بہرحال مضمون سے مطلع کریں، غالباً کوئی خاص بات نہ ہوگی، اگر پرچہ موجود ہو تو وہی بھیج دیں۔
معلوم ہوا کہ ندوی صاحب، سہروردی صاحب، اور ابو الفرح صاحب کے درجوں کا نتیجۂ امتحان اچھا نہیں رہا، آپ کو اس کے بارے میں کچھ علم ہو تو لکھیں۔‎ ‎                 والسلام‎ ‎: احقر احمد رضا عفا اللہ عنہ (از بجنور‎ ‎)
پس نوشت:کل سہروردی صاحب کا بھی خط آیا، وہ جاکر بیمار ہوگئے تھے، الحمدللہ کہ اب اچھے ہیں، آپ بھی عیادت کا خط لکھ دیں۔‎ ‎

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از بجنور، چاہ شیریں (محلہ‎)
۲۵؍ مئی سنہ ۱۹۳۹ء
مکرم بندہ، جناب مولانا محمد یوسف صاحب، زاد مجدُکم‎!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ‎! ‎

کل گرامی نامہ صادر ہوا، خیریت وحالات سے اطمینان ہوا۔ میں دیوبند نہ جا سکا، اور نہ اب جانے کا قصد ہے، عزیز مولوی ازہر شاہ سلمہ (علامہ کشمیری رحمہ اللہ کے بڑے صاحب زادے) کے دعوتی خطوط بھی آئے، لیکن اب شعبان تک کے لیے وہاں کا عزم نہیں ہے۔ آپ چونکہ دیوبند ہو کر ڈابھیل جائیں گے، اس لیے میں نے آج ہی عزیز موصوف کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ آپ کو ’’آثار السنن‘‘ (بظاہر ’’آثار السنن‘‘ پر علامہ محمد انور شاہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  کی تعلیقات بنام ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ مراد ہیں) اور دوسری مفید وکارآمد یادداشتیں دے دیں گے، اچھی طرح تاکید سے لکھ دیا ہے۔ امید ہے کہ وہ آپ کو ضرور دے دیں گے، آپ رسیدی یادداشت ان کو دے دیں کہ فلاں فلاں کتاب ان سے ’’مجلسِ علمی‘‘ کے لیے آپ نے لی ہیں۔‎ ‎میرا قصد کل کو جمعیۃ علماء کے جلسۂ مرادآباد جانے کا ہے، مولانا مشیت اللہ صاحب (بجنوری) وہاں بھی جا رہے ہیں، وہاں سے ۲۸ / ۲۹ تک واپس آکر دوسری جون تک عازمِ ڈابھیل ہوں گا۔ اگر اس وقت آپ بھی دہلی پہنچ گئے تو وہاں سے سفر ساتھ ہوجائے گا، ورنہ خیر‎! ‎
کتابوں کے متعلق آپ کو تفصیلی حالات ڈابھیل سے پہنچے ہوں گے، افسوس کہ نقصان بہت ہوگیا، اب فکر اس کو کم کرنے کی ہے، امید ہے کہ بمبئی جاکر سعی کرنے سے ۔۔۔۔۔۔۔ کی نصف رقم واپس مل جائے گی۔ مہتمم صاحب کا بھی خط آیا ہے، وہ بھی بمبئی جانے والے ہیں، اور اس سلسلہ میں بھی سعی کریں گے، خدا کامیاب کرے۔                                        

 والسلام‎: احمد رضا عفا عنہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۵؍ ‎نومبر سنہ ۱۹۳۹ء
۱۳؍ ‎شوال سنہ ۱۳۵۸ھ
مکرم ومحترم مولانا محمد یوسف صاحب زاد مجدُکم‎! ‎
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‎! ‎

عنایت نامہ مورخہ ۳۱ ؍اکتوبر ملا تھا، میں جس وقت سے یہاں آیا، بھتیجی کی علالت کے باعث عدیم الفرصت رہا، اور اس وجہ سے کوئی کام وقت پر نہ ہوسکا، خصوصًا ڈاک کا کام بہت گڑبڑ رہا۔ افسوس کہ باوجود علاج ہر قسم کے مریضہ نے تین دن قبل انتقال کیا، جوان موت ہوئی، صرف تین ماہ بیمار رہی، ایک بچہ یادگار چھوڑا ہے۔ آپ کے خط کے جواب کا بھی کئی بار قصد کیا، مگر نہ ہوسکا۔ مرحومہ کے لیے دعاء مغفرت کریں۔‎ ‎
والد صاحب قبلہ (مولانا محمد زکریا بنوری رحمہ اللہ) کے معاملہ میں پھر کیا ہوا؟ لکھیے گا۔ محرم صاحب کا خط‘ مصر سے آیا ہے، آپ کو بھیجتا ہوں۔ حنبولی وغیرہ کا بھی لفافہ ملا ہے، وہ بھی اچھی طرح ہیں۔ استاذ حبیب صاحب ابھی تک نہیں لوٹے، وہاں بھی انتظار ہو رہا ہے۔ حنبولی وغیرہ نے بھی آپ کو سلام لکھا ہے۔‎ ‎
ڈابھیل کے حالات میں یہ خبر افسوس ناک ہے کہ گارڈی وغیرہ کی اپیل کامیاب ہوگئی، مہتمم صاحب اور دونوں باہر کے ممبر مجلس سے علیحدہ کیے گئے، اور ڈابھیل کے چار، سملک کے دو ممبر برقرار رہے، گویا فیصلہ بالکل خلاف ہوا۔ اب مہتمم صاحب نے پھر اپیل کی ہے، خدا بہتر کرے۔ غالباً مدرسہ کے عملہ میں کوئی تغیر نہ ہوگا، اگرچہ مولانا مدظلہ (بظاہر مولانا شبیر احمد عثمانی  رحمۃ اللہ علیہ ) کے ڈابھیل جانے کی قوی اُمید نہیں ہے، اس لیے بھی کہ مولانا حسین احمد صاحب (مدنی) مدینہ منورہ جا رہے ہیں، مولانا سید احمد صاحب (مدینہ طیبہ میں مقیم حضرت مدنی کے برادرِ مکرم) سخت علیل ہیں، اور ممکن ہے مولانا کو وہاں زیادہ عرصہ تک قیام کرنا پڑے۔
آپ مہتمم صاحب کو ایک دو سبق کے لیے لکھ دیں یا مجلس کو پورا وقت دیں، اختیار ہے، لیکن اسباق ہوں تو اس طرح کہ ایک ہی وقت کے مسلسل گھنٹے ہوں، اس میں سہولت ہوگی۔ میرا ارادہ شروع ذیقعدہ میں ڈابھیل جانے کا ہے، ابھی یہاں گھر کے کچھ ضروری کاموں میں مشغول ہوں۔ آپ کب تک پہنچیں گے؟ لکھیے۔ اگر بجنور بھی تشریف لاسکیں تو بہت اچھا ہوگا، احباب اور بزرگوں کو ملاقات کا اشتیاق ہے۔‎ ‎
 

والسلام‎ ‎: احقر احمد رضا عفا اللہ عنہ
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین